پیٹرولیم ڈیلرز، حکومت میں جنگ عوام پر بھاری کیوں پڑ سکتی ہے؟

پیٹرولیم ڈیلرز نے منافع میں 5 سے 6 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو 22 جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی ہے جس کے بعد پاکستان بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی ہڑتال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اب حکومت کے پاس دو راستے ہیں اگر حکومت اپنی جیب سے ان کا حصہ نہیں بڑھاتی تو اس کا بوجھ بھی عوام کو ہی اُٹھانا پڑے گا، پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آئیں جس کے بعد گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت نے بتدریج کسی حد تک قیمتوں میں کمی کی۔
پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بعد تیل کی کم ہوتی کھپت اور اخراجات میں اضافے کیساتھ سمگل شدہ سستے ایرانی تیل کی دستیابی نے ان کے کاروبار کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہ کیا تو ان کے لیے پیٹرول بیچنے کا کام جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسو سی ایشن نے ملک بھر میں سنیچر یعنی 22 جولائی سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے دوران پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے کمیشن یا مارجن میں اضافہ کرے لیکن دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ عوام کی جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ ان کے ملک بھر میں 10,000 سے زائد اراکین ہیں، حال ہی میں تنظیم نے ہڑتال کے اعلان سے قبل اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق سے اپیل کی تھی کہ ان کے کم ہوتے ہوئے منافع اور بڑھتی کاروباری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کیا جائے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس 38 فیصد تک بڑھ چکی ہے جبکہ شرح سود میں اضافے اور بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوا، 1999 میں اس وقت کی حکومت کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق پانچ فیصد منافع کا مارجن طے ہوا تھا۔
تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ 2004 میں منافع کا یہ مارجن کم ہو کر چار فیصد رہ گیا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے منافع کے مارجن کو 6 روپے فی لیٹر کر دیا جس سے ان کا منافع تقریباً 2.4 فیصد رہ گیا۔ان کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرز کے لیے یہ قابل قبول صورتحال نہیں۔صحافی تنویر ملک کہتے ہیں کہ پاکستان خام تیل امپورٹ کرتا ہے جو پہلے ریفائنری میں جاتا ہے اور پھر ملک بھر میں کمپنیوں کے ذریعے ڈیلرز تک پہنچتا ہے جو صارفین کو پیٹرول فروخت کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پیٹرولیم ڈیلرز ہڑتال کرتے ہیں تو یہ موثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی حالیہ مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی 24 کروڑ سے زیادہ ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں یومیہ 489 بیرل تیل استعمال کیا جاتا ہے تاہم عبدالسمیع خان کا کہنا ہے کہ سستے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ کی وجہ سے ان کی فروخت میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے سمگل شدہ ایرانی پیٹرول کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔بلوچستان کے بیشتر پیٹرول پمپس پر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتا ہے اور اس صوبے کا پہیہ زیادہ تر سمگل شدہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کے سر پر ہی چلتا ہے، ایرانی پیٹرول کی یہ سمگلنگ نیلے پِک اپ ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے جنہیں مقامی لوگ ’زمباد‘ کہتے ہیں۔
بلوچستان کے ایران سے متصل سرحد سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کراچی سے لے کر ملک کے دیگر علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے، عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر مملکت مصدق ملک سے خود رابطہ بھی کیا اور تمام اہم اخبارات میں اپنی اپیلیں شائع کیں، مصدق ملک نے کراچی آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔

Back to top button