لاہور، کراچی، اسلام آباد ائیرپورٹس کی آئوٹ سورسنگ کا فیصلہ

حکومت کی جانب سے مدت ختم ہونے سے قبل لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے فضائی اڈوں کو آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس حوالے سے ٹینڈر بھی جلد جاری کر دیا جائے گا جبکہ اس حوالے سے تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
فیصلے کے حوالے سے سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زِیر صدارت جمعرات کو ہوا جس میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کو حتمی طور پر اسلام آباد ائیر پورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی اجازت دیتے ہوئے عملی اقدامات کرنے کی ہدایات کی گئی۔
اجلاس میں شریک حکام نے ’’اردو نیوز‘‘ کو بتایا کہ ’ابتدا میں تین بڑے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ تھا لیکن کافی غور کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پہلے ایک ائیرپورٹ کو آؤٹ سورس کیا جائے، کچھ عرصے بعد اس عمل سے گزرنے کے دوران اور نئی انتظامیہ کے چارج سنبھالنے کے نتیجے میں سامنے آنے والے مسائل کو دیکھنے کے بعد اگلے مرحلے میں لاہور اور کراچی کے ائیر پورٹس کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے بعد سکردو کے واحد ائیرپورٹ کو آؤٹ سورس کرنے کا اور بین الاقوامی ائیرلائنز کو براہ راست پروازوں کی اجازت دینے کا پلان ہے تاکہ پورے گلگت بلتستان کے لیے ریونیو وہاں سے حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس سلسلے میں بین الاقوامی اخبارات میں ٹینڈر جاری کیا جائے گا جس میں ابتدائی طور پر اسلام آباد ائیرپورٹ کو 15 برس کے لیے آؤٹ سورس کیا جائے گا، تاہم کمپنیوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے 20 برس تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
جو کمپنی بھی آؤٹ سورسنگ بولی کے ذریعے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی وہ اسلام آباد ایئرپورٹ جو اس وقت سالانہ 90 لاکھ مسافروں کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے ایک کروڑ 30 لاکھ تک بڑھائے گی۔اس کے علاوہ عالمی برانڈز اور ڈیوٹی فری دکانیں کھولنے کے ساتھ ایئرپورٹ کی عمارت کی تزئین و آرائش، مرمت صفائی سمیت تمام امور کی ذمہ دار ہوگی۔
حکام کے مطابق 20 سال بعد جب کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ مکمل ہوگا تو وہ فراہم کی گئی تمام سہولیات چھوڑ کر خالی ہاتھ واپس جائے گی، جو اثاثہ جات اس نے نصب کیے ہوں گے وہ حکومت پاکستان کی ملکیت ہوں گے۔
سول ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ ٹرمینل سروسز، پارکنگ، سٹوریج، کارگو، ہینڈلنگ اور صفائی کے شعبے بھی آؤٹ سورس کیے جائیں گے، جبکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کے شعبے سول ایوی ایشن کے پاس ہی رہیں گے۔
آؤٹ سورسنگ کے باوجود تمام لینڈنگ اور ٹیک آف اختیارات، نیویگیشن اور اثاثہ جات کی ملکیت ریاست کے پاس رہے گی۔ سول ایوی ایشن آوٹ سورسنگ سے سالانہ پیسے کمائے گی تو ساتھ ہی لینڈنگ اور ٹیک آف چارجز بھی وصول کرتی رہے گی۔
اس سے قبل دنیا کے کئی ممالک جن میں انڈیا بھی شامل ہے، اپنے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کر چکے ہیں۔ دنیا میں کئی ایک بڑی کمپنیاں ایئرپورٹس کے انتظام کو چلانے کے لیے خدمات فراہم کرتی ہیں۔
صفائی ستھرائی سے لے کر ٹرانزٹ مسافروں کیلئے اچھے ہوٹل، ایئرپورٹ کے اندر آرام دہ انتظار گاہیں، کھانے پینے کے لیے بہترین فوڈ چینز اور اس کے علاوہ تمام سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی جائے گی، حکام کا کہنا ہے کہ جس کمپنی کو بھی ایئرپورٹ آؤٹ سورس کیا جائے گا اس کے ساتھ اول درجے کی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے اور ناکامی کی صورت میں معاہدہ منسوخ کرنے کی شق شامل ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر خدمات کی فراہمی بہتر ہونے سے دنیا کی کئی ایک بین الاقوامی ایئرلائنز کی جانب سے اعتراضات بھی دور ہو جائیں گے۔ اس سے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔ پروازوں میں اضافے سے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی آئے گی جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولت ملے گی، اور وہ تسلسل کے ساتھ پاکستان کا سفر کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

Back to top button