عمران خان کیخلاف ہتک عزت کیس کی روزانہ سماعت کی استدعا

مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر ہتک عزت کے دعوے اور 10 ارب روپے کے ہرجانہ کیس کی سماعت روزانہ کرنے کی استدعا کی ہے۔
لاہورکی مقامی عدالت میں شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف10 ارب روپے مالیت کے ہرجانے اور ہتک عزت کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ شہبازشریف نے عدالت سے درخواست کی کہ مقدمے کی روزانہ کی بنیادوں پر سماعت کی جائے اور وزیراعظم کا بیان جمع کرانے کا حق ختم کیا جائے۔وزیراعظم کے نئے وکیل نے درخواست دی کہ بابر اعوان مشیر پارلیمانی امور مقرر ہوچکے ہیں اس لیے وہ پیروی نہیں کرسکتے۔
عدالت نے وزیراعظم کے وکیل کو مزید ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے وکالت نامہ اور شہباز شریف کی پٹیشنز پر جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت 17 جون تک ملتوی کردی۔
5 جون کو گذشتہ سماعت پر شہباز شریف کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش نہیں ہورہے اور عمران خان پر ہتک عزت کا دعویٰ 3 سال سے زیرالتوا ہے اس لیے مقدے کی جلد سماعت کی جائے جس پر عدالت نے مقدمے کی پیروی کے لیے آج 10 جون کانوٹس جاری کیا تھا۔
خیال رہے کہ 25 اپریل 2017ء میں شوکت خانم اسپتال میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پاناما کیس پر خاموشی اختیار کرنے کے عوض 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔اس کے بعد عمران خان نے ایک انٹرویو کے دوران مالی پیشکش کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بہت قریبی ہے۔جولائی 2017ء میں شہباز شریف کی جانب سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا تھا۔
