عمران خان کی جے آئی ٹی میں بذریعہ ویڈیو لنک شمولیت کی پیشکش

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لاہور سمیت ملک بھر میں 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی میں بذریعہ ویڈٰیو لنک شمولیت اختیار کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے ٹوئٹر پر عمران خان کا تحریر جواب شائع کیا گیا ہے جس کے مطابق عمران خان کی جانب سے نامزد کردہ نمائندگان نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر یہ جواب جمع کروایا۔
تاہم تحریک انصاف کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے نمائندوں کے ذریعے چئیرمین تحریک انصاف کا تحریری جواب قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔اس تحریری جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جس روز یہ واقعات ہوئے اس روز میں نیب کی غیر قانونی اور ناجائز حراست میں تھا اور مجھے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر رہا کیا گیا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بڑی تعداد میں جھوٹے مقدمات کے اندراج کے باوجود تحقیقاتی اداروں سے مکمل تعاون کر رہا ہوں۔‘عمران خان نے اس مقدمے کی تحقیقات کا حصہ بننے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پر ’وزیر آباد میں ایک نہایت خطرناک قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے‘ اور ان کی جان کو ’سنگین خطرات لاحق ہیں‘ جن کے باوجود عدالتوں میں ان کی پیشی ناگزیر ہے۔
عمران خان کا موقف ہے کہ ’ان خطرات اور سکیورٹی کے انتظامات پر اٹھنے والے نجی اور سرکاری اخراجات کے پیش نظر زمان پارک سے ان تحقیقات میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ویڈیو لنک یا سوالنامے کے ذریعے تحقیقات میں شمولیت کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں
عمران خان نے پیشکش کی کہ ’خطرات کی موجودگی میں غیر ضروری نقل و حرکت کی بجائے سوالنامے یا زمان پارک سے بذریعہ ویڈیو لنک تحقیقات میں شمولیت مناسب رہے گی۔‘
