عمران نے 1971 کے فوجی آپریشن کی مخالفت کیوں کی؟

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف کیا جانے والا فوجی آپریشن بالکل غلط تھا۔ عمران خان نے یہ مؤقف سینئر صحافی حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں سقوط ڈھاکہ کا گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ تاہم یاد رہے کہ عمران نے یہ انٹرویو 23 نومبر2001 کو دیا تھا جس کی ویڈیو حامد میر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”یہ میں نہیں بلکہ عمران خان کہا کرتے تھے، لیکن اب وہ اس ایشو پر نہیں بولتے، اور کوئی اور بولے تو کچھ محب وطن گالی گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔ حامد میر نے لکھا کہ میں عمران خان کی یہ گفتگو پہلے بھی شئیر کر چکا ہوں اور اب دوبارہ شئیر کر رہا ہوں، امید ہے خان صاحب کو گالی نہیں پڑےگی”۔
حامد میر نے بظاہر یہ ٹویٹ سقوط ڈھاکہ کے پچاس برس مکمل ہونے پر کی اور اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تحریک انصاف کے ٹرولرز اکثر انہیں اور انکے والد پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دیتے ہیں۔ خیال رہے کہ پروفیسر وارث میر کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز عطا کیا گیا تھا بلکہ بنگلہ دیشی حکومت نے بھی انہیں 1971 میں مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے قتل عام کی مخالفت کرنے پر فرینڈز آف بنگلہ دیش کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا تھا۔ تب یہی اعزاز حبیب جالب اور فیض احمد فیض کو بھی عطا کیا گیا تھا جنہوں نے بنگالی عوام کے قتل عام کی مخالفت کی تھی۔ چنانچہ حامد میر نے عمران خان کا پرانا انٹرویو ٹوئٹر پر اپ لوڈ کرکے ان کے حمایتی ٹرولرز کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ جو بات کرنے کی وجہ سے وہ اور انکے والد وارث میر پر غداری کا الزام لگایا جاتا ہے وہی بات عمران خان بھی کر چکے ہیں۔
اس انٹرویو میں جب حامد میر نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا 1971 کا آپریشن غلط تھا؟ تو خان صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بالکل غلط تھا، 1971 کے الیکشن ہماری فوج ہی نے کرائے، اور پھر جب شیخ مجیب کی پارٹی مشرقی پاکستان میں جیت گئی تو اسے اقتدار سونپنے کی بجائے فوج نے آپریشن کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو شہریوں پر تشدد کے لیے اکسایا گیا، ایک بستی سے گولی آتی تھی تو ردعمل میں مغربی پاکستان کی فوج ساری بستی کو اڑا دیتی تھی۔ عمران خان نے حامد میر سے یہ بھی کہا کہ ہمیں کبھی اپنے عوام کے خلاف ملٹری آپریشن نہیں کرنے چاہیئں تھے۔ عمران نے کہا کہ 1971 میں بہت بڑا ظلم ہوا اور ہم سے جھوٹ بولا گیا، ایک ہی پی ٹی وی تھا اور اخبار تھا جہاں پروپیگنڈا کیا جارہا تھا۔عمران نے کہا کہ تب میں بھی لوگوں سے لڑ رہا تھا کہ یہ سب کچھ انڈیا کروا رہا ہے۔ لیکن بعد میں جا کر پتہ چلا کہ وہاں تو بہت ظلم کیا گیا۔
عمران نے اس زمانے کے اپنے ایک ساتھی کھلاڑی اشرف الحق کا واقعہ بتایا جو تب ان کے ساتھ انڈر 19 کھیل رہے تھے۔ عمران نے بتایا کہ مارچ 1971 میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے کھلاڑیوں نے آخری دفعہ میچ کھیلا تھا۔ مجھے تب میرے دوست اشرف الحق نے کہا کہ عمران یہاں لوگ پاکستان سے علیحدگی کی باتیں کر رہے ہیں۔ بقول عمران پھر جب وہ تین سال بعد وہ مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں ملا تو اس نے بتایا کہ اصل میں مشرقی پاکستان میں ہوا کیا تھا اور کتنے بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا۔
اس پر حامد میر نے عمران سے پوچھا کہ کیا جو غلطیاں ہم نے مشرقی پاکستان میں کیں وہ ہمیں بلوچستان اور فاٹا میں کرنی چاہیئں؟اس پر عمران خان نے سہمت ہوتے ہوئے کہا کہ بالکل نہیں، ہمیں دوبارہ وہ غلطیاں نہیں کرنی چاہیئں، میں پہلے دن سے ملٹری آپریشن کے خلاف ہوں۔ اس سے کبھی مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہم اتنی عرصے سے بلوچستان میں ملٹری آپریشن کر رہے ہیں، اس سے ہم نے کیا حاصل کیا ہے؟ اب تک ہزاروں پاکستانی مر چکے۔بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان کے خلاف کیوں آپریشن کیا جارہا ہے۔
تاہم 2001 میں ہونے والے اس انٹرویو کے بعد سے پچھلے دس سالوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور عمران خان اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی گودی چڑھنے کے بعد اب اس کی انگلی پکڑ کر برسراقتدار بھی آ چکے ہیں لہذا اب ان کے خیالات و نظریات وہ نہیں رہے جو دس برس پہلے ہوا کرتے تھے۔
