عمران پاکستانی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا لفافہ قرار

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خود کو سلیم لفافی کہنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران کی ذاتی زندگی بارے مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لہٰذاانہوں نے جن جن لوگوں سے لفافے وصول کیے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں، ان کی ساری تفصیل میرے پاس موجود ہے جس کی بنیاد پر میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ عمران پاکستانی سیاست کے سب سے بڑے لفافے ہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران کی کرتوتوں بارے سب سے زیادہ انفارمیشن میرے پاس ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پچھلے برسوں میں جو بھی شخص عمران سے ناراض ہوتا، وہ پہلی فرصت میں میرے پاس آتا اور سب دو نمبریوں کی تفصیلات بیان کرتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس عمران کی شادیوں اور طلاقوں کی تمام تفصیل اور شواہد کے انبار ہیں لیکن میں نے کبھی ان کی ذاتی زندگی پر بات نہیں کی اور نہ کبھی گالی دی ہے۔
صافی کے بقول عمران خان نے کبھی اپنا پرس جیب میں نہیں رکھا اور ساری زندگی دوسروں کے لفافوں پر گزاری ہے، یوں لفافی کا لفظ انہیں جچتا ہے لیکن میں نے کبھی انہیں عمران لفافی نہیں کہا۔ صافی کہتے ہیں کہ ریحام خان جب عمران خان کی اہلیہ تھیں تو ایک روز فیاض الحسن چوہان نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بیگم نسیم ولی خان کے لیے نہایت نامناسب الفاظ استعمال کئے، جس کے جواب میں بیگم نسیم کے ترجمان نے جواباً ریحام خان پر ذاتی حملے کئے۔ اگلے روز ریحام میرے دفتر تشریف لائیں تو میں نے انہیں کہا کہ کل ٹی وی ٹاک شو میں آپ کو جو گالی پڑی ہے، اس کے ذمہ دار فیاض الحسن چوہان ہیں۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ خان صاحب سے یہ شکایت کریں گی لیکن چند روز بعد ہی فیاض الحسن چوہان کو وزارت سے نواز دیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر نہیں بلکہ دنیا بھر سے عمران خان نے شہباز گل جیسے بدزبانوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ عمران خود بھی نجی محفلوں میں بہت ذیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ اس لئے اب وہ اس ملک کو اکٹھا رکھنے والے ادارے یعنی فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور اس سے آئین کے مطابق ایک غیر جانبدار ادارے کے طور پر نہ چلنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ میں دس پندرہ سال متنبہ کرتا رہا کہ عمران سب سے خطرناک کام ہماری سوسائٹی کی اقدار اور روایات کو پامال کرنے کا کررہے ہیں لیکن افسوس کہ کسی نے دھیان نہیں دیا۔ایک جانب خان نے محمود خان اچکزئی کی چادر کا مذاق اڑایا تو دودری جانب مولانا فضل کی پگڑی اور داڑھی کا مذاق اڑاتے رہے۔ موصوف خان صاحب سب کو القابات سے پکارتے رہے۔ میرے لئے بھی انہوں نے دو تین القابات تراش لئے تھے۔ عمران مجھے اور میری ماں کو پندرہ سال سے سوشل میڈیا پر گالیاں دلوارہے ہیں لیکن خود کبھی میڈیا پر میرا نام لینے کی ہمت نہیں کرسکے۔ میں اس دوران لوگوں کو سمجھاتا رہا کہ عمران میری اور میری ماں کی کردار کشی کررہا ہے، تو لوگ مانتے نہیں تھے حالانکہ میرے پاس شواہد موجود تھے ۔ عمران خان خود کئی بار ٹی وی پر آکر ایکٹنگ کرتے ہوئے انجان بن جاتے تھے کہ ہمارے تو لاکھوں کارکن ہیں اور یہ گالم گلوچ وہ اپنے تئیں کر رہے ہیں۔ اگلے روز عمران نے تہذیب اور شائستگی کی تمام حدیں پھلانگتے ہوئے فریحہ ادریس کے شو میں مجھے اپنی زبان سے سلیم لفافی قرار دے دیا۔ باوجود اسکے کہ عمران یہ جانتے ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں۔
صافی کہتے ہیں کہ عمران نے جن جن سے لفافے لئے ہیں، ان کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات میرے پاس ہیں لیکن میں نے کبھی انہیں عمران لفافی نہیں کہا۔ ان کی اہلیہ پنکی اور پیرنی وغیرہ کے ناموں سے پکاری جاتی ہیں لیکن میں پھر بھی انہیں خاتون اول اور بشریٰ بی بی کے ناموں سے پکارتا رہا حالانکہ مجھے ان کے اور ان کے سارے خاندان کے ”کارناموں“ کا پتہ ہے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ ماضی کو چھوڑیں مجھے آج بھی پتہ ہے کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعد انہیں بلٹ پروف گاڑی کا لفافہ کس نے دیا اور ان کے سیمیناروں کا خرچہ کون سا نیا اے ٹی ایم ادا کرتا ہے؟ اس نئے اے ٹی ایم کی بنیادیں بھی برطانیہ میں ہیں لیکن بہر حال میں عمران خان کا مشکور ہوں کہ فریحہ ادریس کے شو میں سلیم لفافی کہہ کر انہوں نے ثابت کردیا کہ گزشتہ پندرہ سال وہ جھوٹ بولتے رہے اور میں سچ بولتا رہا کہ یہ سب کچھ خان صاحب خود کروا رہے ہیں۔
بقول صافی، نیازی صاحب جب ایجنسیوں کی سلیکشن سے وزیراعظم بنے اور تمام طاقتورادارے ان کے پاس تھے تو میں نے ٹی وی پر بیٹھ کر یہ پیشکش کی تھی کہ وہ صحافیوں کی کرپشن کے بارے میں ایک کمیشن بنا دیں اور آغاز مجھ سے کریں۔اب جب عمران نے خود اس الزام کا اعادہ اپنی زبان سے کیا ہے تو میں انہیں پیشکش کرتا ہوں وہ چار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی دیں جو میرے اور عمران کے مالی معاملات کی تحقیق کرے۔ میرے رزق میں اگر ایک پیسہ حرام کا ثابت ہوا یا کسی سے لفافہ لینے کا الزام ثابت ہوا تو میں صحافت چھوڑ دوں گا اور اگر عمران لفافے لینے والے ثابت ہوئے تو وہ سیاست چھوڑدیں گے۔
