سوال یہ ہے کہ عمران خان آخر کیا کھاتا ہے؟

عمران خان کے چاہنے والوں کے دل آج کل اُردو غزل کے عاشقوں کی طرح اِتنے دُکھی ہیں کہ حال بھی پوچھو تو رونے لگتے ہیں اور پھر وہی پرانی گالیاں دینے لگتے ہیں لہٰذا خان صاحب کی تعریف کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ عاشق دُکھی ہو جائیں گے، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری اور مصنف محمد حنیف اپنی تازہ تحریر میں لکھتے ہیں کہ میڈیا کی آزادی بارے ایک سیمینار میں خان صاحب نے فرمایا کہ شہباز گِل پر تشدد کر کے ان سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ عمران خان کھانے میں کیا کھاتا ہے، حنیف کے بقول، عمران خان کے سجن دشمن سب جانتے ہیں کہ خان کُھل کے کھاتا ہے، مزہ لے کر کھاتا ہے، لیکن مشکل سے مشکل وقت میں بھی ورزش نہیں چھوڑتا، خان صاحب جیسا عمر رسیدہ لیکن فِٹ انسان اگر آپ نے پاکستان میں کوئی اور دیکھا ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا۔
خان صاحب کے دشمن اُن کی ماضی کی محبتوں کی تصویر نکال کر اُن پر کیچڑ اُچھالتے ہیں، ان کو جو چیز باقی سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے محبتیں بھی راز نہیں رکھیں اور جو بھی کھایا سب کے سامنے بیٹھ کر کھایا، ہمارے روایتی سیاستدانوں کی طرح دوسروں کو کھلایا نہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی کسی سے چائے بھی نہیں پوچھی تو یہ ان کے کردار کی بلندی ہے ورنہ ہمارے سیاستدانوں کی ڈیرے داری تو صرف روٹی شوٹی کھلانے پر ہی چلتی ہے، اور آج بھی چل رہی ہے۔
پنجاب کا تخت گجرات کے چوہدری کے پاس ہے جن کے خاندان کی سیاسی فلاسفی صرف یہی ہے کہ ’روٹی کھاؤ تے مٹی پاؤ۔‘ ایک بزرگ اور جید صحافی نے کئی بار لکھا ہے کہ جب عمران خان سیاست کے بیابانوں میں گھوم رہے تھے تو جو بھی بلاتا تھا وہاں پہنچ جاتے تھے اور میزبان سب بھول کر دیسی مرغی ڈھونڈنے نکل جاتے تھے۔ خان صاحب کے ایک کھانے کی تصویر پوری قوم نے دیکھی ہے۔ لاہور سے لانگ مارچ سے پہلے وہ ناشتہ کر رہے ہیں ساتھ میں بیٹھے جنون والے سلمان احمد حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ میز پر ایک پلیٹ میں چنے، ایک میں آم اور ایک میں دہی پڑی ہے۔ نہ کوئی روٹی، نہ کوئی چاول۔ تصویر دیکھ کر میرے دل سے بے ساختہ نکلا تھا: یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
محمد حنیف پوچھتے ہیں کہ آپ نے کبھی ٹومیٹو کیچ اپ کا ساشے کھولا ہے، آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ہماری عمر کے لوگ اسے کبھی ناخنوں سے، تو کبھی دانتوں سے کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ عمران خان کو ایک ساشے کھولتے دیکھا تھا۔ ریستوران میں اُن کے دیوانوں کا ہجوم تھا وہ سب کو توجہ دے رہے تھے، تصویریں کھنچوا رہے تھے، باتیں بھی کر رہے تھے۔ اس دوران خان صاحب کے سامنے سینڈوچ اور چپس کی پلیٹ رکھی گئی۔ انھوں نے پلیٹ کی طرف نظر ہی نہیں ڈالی، ساشے اٹھایا اور کسی جیب کترے کی سی مہارت سے اسے کھولا، چپس پر ڈالا اور کھانا شروع ہو گئے۔ میں نے زندگی میں بڑے کھانے والے دیکھے ہیں لیکن اتنی رغبت اور بے اعتنائی کا حسین امتزاج میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ اور مجھے کیچ اپ کا وہ ساشے کُھلتے ہی یقین آ گیا تھا کہ ایک دن ساری قوم کا نصیب بھی خان صاحب کے ہاتھوں ایسے ہی کُھلے گا۔
حنیف کہتے ہیں کہ سیاست کے حرکیات کو میں اتنا نہیں سمجھتا لیکن خان صاحب کا اسٹیبلشمنٹ یا نیوٹرلز سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ خان کھاتا بھی کُھل کے ہے، اور اسکی فٹنس بھی کسی کمانڈو میجر والی ہے، لیکن وہ کھلاتا کسی کو نہیں بلکہ چائے بھی نہیں پوچھتا۔ عمران نے اپنے حامیوں کو ایک نکتہ سمجھا دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں، اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ تو بیٹھ سکتے ہیں، لیکن چوروں اور لٹیروں، کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے جو خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں، بقول حنیف، کھانے اور کھلانے کے الزام میں ایک وزیرِ اعظم پہلے ہی زندگی بھر کے لیے نااہل ہو چکا ہے۔
اس کے بارے میں بھی عمران نے کہا کہ وہ اس لیے نااہل ہوا کہ جے آئی ٹی میں شامل بریگیڈیئر ڈٹ گئے تھے۔ اچھا ہوا کوئی تو ڈٹا لیکن یہ تھوڑا سا خطرناک رجحان ہے۔ کل کوئی کرنل اگر بریگیڈیئر کے سامنے ڈٹ گیا، یا پھر میجر کرنل کے سامنے اور اگر بات یہاں تک پہنچی کہ صوبیدار لفٹین کے سامنے اور سپاہی صوبیدار کے سامنے ڈٹ گیا تو کون کس کے بوٹ پالش کرے گا۔ اور جن کو سیاستدانوں کے دسترخوانوں سے روٹی شوٹی کھانے کی عادت ہے وہ تو عمران کے خلاف اکھٹے ہوں گے ہی کیونکہ وہ تو چائے بھی نہیں پوچھتا۔
