عمران کو نواز شریف اور فوج میں ڈیل کی خبر کس نے دی؟


وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کے خصوصی اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی اور سزا معاف ہونے کے حوالے سے افواہوں پر شدید تحفظات کا اظہار کر کے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ میں ڈیل ہونے جا رہی ہے لہذا کپتان کو اپنا اقتدار چھن جانے کا دھڑکا لگ چکا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کبھی یہ بات اپنے ترجمانوں کے اجلاس میں نہ کرتے اگر انہیں اسکی صداقت پر یقین نہ ہوتا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں اس خفیہ ڈیل کی خبر یقینا ان کے اس سابقہ دست راست نے دی ہو گی جس کے لیے نواز شریف کی واپسی کی صورت میں اگلا آرمی چیف بننا نا ممکن ہو جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نون لیگ کے ساتھ ڈیل کا فیصلہ کرلیا ہے تو اس سے عدلیہ اور مقتدر حلقوں کے دامن پر لگے داغ بھی دھل جائیں گے کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ دونوں کے گٹھ جوڑ نے نواز شریف کواقتدار سے رخصت کیا تھا۔ خیال رہے کہ عمران خان نے میاں نواز شریف کی سزا کے خاتمے اور وطن واپسی سے متعلق افواہوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص کس طرح دوبارہ وزیراعظم بن سکتا ہے۔ عمران کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جب انکی اپنی حکومت جیل میں قید نواز شریف کو کسی قانون کے بغیر لندن جانے کی اجازت دے سکتی ہے تو ان کے خلاف قائم مقدمات اور انہیں سنائی گئی سزائیں ختم کرنا تو اور بھی زیادہ آسان ہے خصوصاً جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خفیہ آڈیو اور ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہیں۔
24 دسمبر کو حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں عمران خان نے حاضرین کو مطلع کیا کہ اب نواز شریف کی سزا ختم کروانے اور اسے چوتھی بار وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ لیکن انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس شخص کو ملک کا وزیر اعظم چور لٹیرا کہتا ہو، اب اس کی سزا ختم کروانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ عمران خان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر ایسا ہی ہونا ہے پھر تو سب جیلوں کے دروازے کھول دینے چاہئیں۔ اگر نواز شریف قید نہیں رہے گا تو کسی دوسرے کو قید رکھنے کا کیا جواز ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وزیراعظم کے ان ریمارکس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم حیران ہیں کہ سزا یافتہ نوازشریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے کے لیے کیسے ملک واپس آ سکتا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم اس بات پر بھی حیران ہیں کہ سپریم کورٹ ایک شخص کو نااہل قرار دینے کے بعد اسے الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ نہ صرف نواز شرف نے خود بہت جلد وطن واپسی کا عندیہ دیا ہے بلکہ کندن میں ان سے ملاقات کرنے والے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی کہا ہے کہ وہ نواز شریف کو وطن واپس لینے دوبارہ لندن جا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نے ترجمانوں کے اجلاس میں جو اعلان کیا، سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے اس کا کچھ یوں جواب دیا: "ایک ضروری اعلان سنئیے، میاں نواز شریف جنوری میں پاکستان آنے کا منصوبہ بنارہے۔ منصوبے کے مطابق وہ واپسی پر جیل جائیں گے ۔ پھر عدالتوں سے ریلیف اور سابقہ سزاوں کے خاتمے کے لیے اپیلیں دائر ہو گی۔ ڈی جی نیب لاہور کا تبادلہ اس سلسلے کی کڑی ہے، جبکہ نواز شریف سکرپٹ سے مطمئن ہیں۔ اعلان ختم ہوا”۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں عمران خان کی پریشانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ سوال کہ عدالتیں سابق وزیر اعظم کی سزا کیسےختم کر سکتی ہیں۔ اس سوال کا جواب عمران خان کی باتوں جیسا سادہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو عدالت سزا دے سکتی ہے، وہ اسے ختم بھی کرسکتی ہے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنے اطمینان کے لئے یہ سچائی جان لینی چاہئے کہ نواز شریف کو ایک ایک مشکوک عدالت نے دباو پر سزا دی تھی جسکے خلاف اپیلیں اعلیٰ عدالتوں کی توجہ کا انتظار کررہی ہیں۔ ویسے بھی نواز شریف کو سنائی گئی سزائیں ختم کرنا اس لئے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خفیہ آڈیو اور ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عدلیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے انہیں نااہل قرار دلوایا تھا۔ البتہ اس معاملہ کا دوسرا پہلو ذرا تشویش ناک ہے۔ وہ یہ کہ عمران خان کو کس نے بتایا کہ نواز شریف کی سزا ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ سوال یہ بھی یے کہ اس کا منصوبہ ساز کون ہے۔ وہ آخر ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کا ذریعہ معلومات بھی یقیناً تگڑا ہی ہوگا۔ اس حوالے سے عمران خان کی پریشانی جائز ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تبادلہ ہو چکا ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ان کے اختلافات کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں۔

Back to top button