عمران کی فوج میں نفاق ڈالنے کی کوشش کتنی کامیاب ہے؟


تحریک عدم اعتماد کے ذریعے قتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے عمران خان ایک جانب امریکہ اور دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی فراغت کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، لیکن ان کے کئی ساتھی یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ فوج میں کپتان کے نکالے جانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اسٹیلبشمینٹ کا ایک بڑا دھڑا ان کا حمایتی ہے جو کہ فوری الیکشن کا حامی ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کے خلاف مہم چلانے والے عمران کے ساتھی یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عمران کے امپورٹڈ حکومت کے بیانیے سے اتفاق کرتے ہیں اور فوج کے نیوٹرل ہونے کی پالیسی سے متفق نہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ موجودہ فوجی قیادت پر اس دھڑے کی جانب سے کافی دباؤ ہے۔
دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی چین آف کمانڈ کے تحت چلنے والا ادارہ ہے جس کے ڈسپلن پر حکومتوں کے آنے جانے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نفاق کی باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی عمران کے اقتدار کا خاتمہ ایک جمہوری طریقے سے تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ہوا ہے جسے سازش کا رنگ دینا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ فوجیوں کی ایکس سروس مین سوسائٹی میں اگر عمران کے لئے ہمدردی پائی جاتی ہے تو اسے فوج میں نفاق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ریٹائرڈ فوجیوں کی اس تنظیم کی کسی قسم کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں اور نہ ہی اس کے بیانیے کا فوج کے ادارے پر کوئی اثر پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ عمران ایک عوامی جلسے میں بالواسطہ فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ مجھے اقتدار سے نکالنے والوں سے جو غلطی ہوئی ہے اسے درست کیا جائے اور فوری الیکشن کروائے جائیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سیاست شروع دن سے منفی ذہنیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد بھی اسی منفی ذہنیت کے تحت پاکستان اور اس کے عوام کی بہتری کی خاطر کچھ کرنے کی بجائے ساری توانائیاں سیاسی مخالفین سے انتقام لینے پر ضائع کر دیں، چنانچہ ان کے مخالفین نے اکٹھے ہو کر انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن سے برسراقتدار آنے کے بعد تبدیلی کے نعرے لگانے والے عمران نے سٹیٹس کو کی پالیسیاں اپنائے رکھیں اور ملک کو آگے لیجانے کی بجائے معاشی تباہی کی کھائی میں دکھیل دیا۔ یاد رہے کہ عمران وہ واحد پاکستانی حکمران تھا جسے اسٹیبلشمنٹ نے تین برس سے زائد پوری طرح سپورٹ کیا لیکن اس کے باوجود وہ اتنا نااہل نکلا کہ ناکام ترین حکمران ثابت ہوا۔
اقتدار سے بے دخلی روکنے کے لئے عمران نے جو فاشست ہتھکنڈے اپنائے اور آئین شکنی کی نئی تاریخ رقم کی وہ بھی اس ملک کے عوام نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اب ایک پارٹی یا تنظیم کے بجائے ایک مشتعل جھتے کا روپ دھار لیا ہے جو گوریلا سیاست کرنا چاہتا ہے اور جس کے لیے آئین اور قانون کی کوئی وقعت نہیں۔ عمران نے حکومت سے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے جو مئی کے آخر میں ہوگا۔ عمران اپنے ہمدردوں کو مسلسل فوجی قیادت، عدلیہ اور حکومتی شخصیات کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ انکے حواریوں نے اب یہ روش اپنا لی ہے کہ جہاں کوئی سیاسی مخالف نظر آ جائے اس پر آوازیں کسی جاتی ہیں اور حملہ کیا جاتا ہے۔ اب تک تو ایسے مناظر اسمبلیوں اور ہوٹلوں میں دیکھنے میں آئے تھے لیکن تب ایک افسوس ناک تاریخ رقم کردی گئی جب کپتان کے یوتھیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسجد نبوی جیسے مقدس مقام پر حکومتی اراکین کا گھیراؤ کیا اور ان سے بدتمیزی کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی۔
ناقدین کہتے ہیں کہ مسجد نبوی وہ جگہ ہے جہاں آواز بلند کرنا بھی بے ادبی ہے لیکن کپتان کے یوتھیوں نے منصوبہ بندی کے تحت وہ گھناؤنا حرکت کی جس نے ناصرف مسلم امہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی بلکہ پاکستان کی بھی بدنامی ہوئی۔
عمران کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت کو عملاً ایک تنظیمی اصولوں کے تحت چلنی والی سیاسی پارٹی کی بجائے ایک تشدد پسند جھتے کی شکل دے دی یے جو آئین اور قانون کو ماننے کی بجائے زور زبردستی اور دھونس دھمکی پر یقین رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ ہجوم یا جھتے کے بارے میں افلاطون نے صدیوں پہلے بتایا تھا کہ یہ عقل سے عاری اور سفاک لوگوں کا گروہ ہوتا ہے جس کی ذہن سازی نفرت اور تقلید کے بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس وقت کپتان کے انصافیوں، یوتھیوں اور عمرانڈوز Imrandoos کا پورا بیانیہ یہ ہے کہ عمران کے علاوہ اس ملک کا ہر سیاستدان چور اور کرپٹ ہے حالانکہ اقتدار سے رخصتی کے بعد موصوف کی اپنے جو کرپشن سکینڈل سامنے آئے ہیں وہ شرمناک ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے خان صاحب نے فوج کے خلاف مہم جوئی تب شروع کی جب ان کے ہاتھ سے حکومت چلی گئی اور اب وہ اور ان کے ساتھی یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوج نے امریکہ کے ساتھ مل کر ان کے خلاف سازش کی اور ادارے میں اب بھی ان کی حمایت موجود ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران جیسے نکمے اور نااہل شخص کو وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھا کر جو غلطی کی اس کا خمیازہ نہ صرف فوج بلکہ پاکستان نے بھی بھگتا ہے لہذا اب موصوف کے اقتدار میں واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں رہا چاہے وہ جتنے بھی سازشی مفروضے اور کہانیاں سناتے رہیں۔

Back to top button