عمران کے انجام سے کیا سبق حاصل کرنا چاہئے؟

سنگین مشکلات میں گھرے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے انجام میں ہم سب کیلئے یہ سبق پوشیدہ ہے کہ کبھی طاقت یا شہرت کے نشے میں مبتلا ہو کر غرور اور تکبر سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ رب کائنات ہر گناہ معاف کرسکتا ہے لیکن تکبر کرنے والے کو ضرور اس دنیا میں نمونہ عبرت بناتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ سادہ لوح لوگ پاکستانی ، عمران خان کو سیدھا سادہ سیاستدان سمجھتے تھے لیکن 1996میں میری یہ رائے بنی کہ وہ پاکستان کے چالاک ترین سیاستدان ہیں۔ ایک ایسے سیاستدان جن کے سینے میں دل نہیں، جو سراپا دماغ ہیں، جو سراپا خواہشات ہیں، جو دیگر سیاستدانوں کے تین چہروں کے برعکس چار چہرے لئے پھرتے ہیں اور جس کو جو چہرہ دکھانا چاہتے ہیں، دکھا دیتے ہیں۔ میری یہ رائے دور طالب علمی میں ان کو قریب سے دیکھنے کے بعد قائم ہوئی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے کی بجائے مزید پختہ ہوتی گئی۔ لوگ انہیں رحم دل لیکن میں سفاک ترین انسان سمجھتا رہا۔ لوگ انہیں سادگی کا نمونہ سمجھتے رہے لیکن میں انہیں تکبر کا مجسم پہاڑ سمجھتا رہا۔ لوگ انہیں انسانیت کیلئےتڑپنے والا قرار دیتے رہے لیکن میرا یقین رہا کہ ان کی سوچ ذات سے شروع ہوتی اور ذات پرہی ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو مغرب کا مخالف مشہور کر رکھا تھا لیکن مجھے یقین تھا کہ انہیں مخصوص مغربی طاقتوں نے لانچ کیا ہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ آج ایسا وقت آگیا کہ عمران خان کی حقیقت واضح ہوتی جارہی ہے حالانکہ بہت سارے لوگ اب بھی غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔  ۔ عمران خان کو  پوری طرح یقین تھا کہ ان کی حکومت گرانے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں لیکن زلمے خلیل زاد کے ساتھ مل کر انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ یہ مشہور کریں گے کہ امریکہ نے انہیں اقتدار سے نکالا اور پھر ایک سائفر کو جواز بنا کر انہوں نے کئی ماہ تک اس جھوٹ کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا۔ آج وہ اسی امریکہ میں لابنگ فرمز کی خدمات کروڑوں ڈالروں کے عوض حاصل کرکے ان سے مدد مانگ رہے ہیں ۔ عمران خان کو اقتدار دلوا کر اور ان کیلئے ملکی اداروں کے وقار کو دائو پر لگا کر جنرل باجوہ نے اپنے اور ملک کے ساتھ بہت ظلم کیا،تاہم عمران خان کا اگر کوئی سب سے بڑا کوئی محسن ہے تو وہ جنرل باجوہ ہی ہیں۔ جنرل باجوہ وہ سب کچھ نہ کرتے تو عمران خان کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے لیکن عمران  نے باجوہ  کے خلاف بول بول کرانہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔

صافی کا کہنا ہے کہ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ شہرت کے گھوڑے پر دوبارہ سوار ہوئے اور درپردہ انہیں بعض مغربی لابیوں کی شہہ بھی حاصل رہی تو وہ ایک بار پھر روایتی تکبر کا شکار ہوگئے۔ شہباز شریف اور زرداری ان سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن و ہ متکبرانہ انداز میں کہتے رہے کہ چوروں سے بات نہیں کریں گے تاہم پھر اللہ نے انہیں یہ وقت دکھایا کہ انہی سے بات چیت کیلئے کمیٹیاں بناتے رہے. ایک بنیادی غلطی ان سے یہ سرزد ہوئی کہ وہ جنرل عاصم منیر کو جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل ندیم انجم کو جنرل فیض حمید سمجھنے لگے حالانکہ ان کی شخصیتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔عمران خان مقبولیت کے زعم میں اور مغربی طاقتوں کی شہہ پرجنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم، میجر جنرل فیصل نصیر اور بریگیڈئیر فہیم رضا وغیرہ پر بھی حملہ آور ہوئے۔ اپنے قتل کے منصوبوں جیسے سنگین الزامات لگا کر انہوں نے ان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی لیکن درپردہ رابطے اور منتیں کررہے تھے۔ بات نہ بنی تو مقبولیت کے غرور میں ان سے دوسری بڑی غلطی 9مئی کی سرزد ہوئی۔ چنانچہ آج آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کیلئے منتیں کررہے ہیں لیکن وہاں سے جواب مل رہا ہے کہ آپ کیلئے اب یہ سہولت دستیاب نہیں۔

سلیم صافی بتاتے ہیں کہ راتوں رات عمران خان ایسے سر کے بل گرے کہ اب ان کے حریف یعنی مریم نواز، بلاول بھٹو اور مولانا وغیرہ ان جیسے تکبر کا شکار ہونے لگ ہیں ۔ بہر حال ہم سب اور بالخصوص عمران خان کے سیاسی مخالفین کیلئے خود عمران خان کا یہ عروج و زوال ایک سبق ہے۔ انہیں سبق لینا چاہئے کہ اگر صرف چالاکیوں سے کام چل سکتا تو پھر عمران خان جیسا چالاک انسان کبھی نہ پھنستا ۔ اسی طرح عمران خان کے انجام میں مریم، بلاول اور مولانا وغیرہ کیلئے بالخصوص اور ہم سب کیلئے بالعموم یہ سبق ہے کہ کبھی طاقت یا شہرت کے نشے میں مبتلا ہو کر غرور اور تکبر سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ رب کائنات ہر گناہ معاف کرسکتا ہے لیکن تکبر کرنے والے کو ضرور اس دنیا میں نمونہ عبرت بناتا ہے۔

Back to top button