عوامی جذبات کو ابال آ گیا تو حکومت کا بچنا محال ہو جائے گا


وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اُنکی ذمہ داری اپوزیشن پر ڈالنے کا ایک وطیرہ اپنا لیا ہے، جس سے عوامی مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہیں ہو پا رہی اور انکی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان حالات میں مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زر نے لوگوں کا برا حال کر رکھا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے جذبات ابھی ابال کی منزل تک نہیں پہنچے۔ اور حکومت کو اس منزل سے ڈرنا چاہیے کیوں کہ جب لوگوں کے جذبات ابال کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر انہیں ٹھنڈا کرنا مشکل ہوتا ہے اور عمومی طور پر یہ ابال حکومت کو اتار کر ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنی تازہ تجزیے میں کیا ہے۔
عمران خان کی جانب سے ہر مسئلے کی ذمہ داری اپوزیشن پر ڈالنے کی روش کا جائزہ لیتے ہوئے سہیل وڑائچ حکومت کی دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ اپوزیشن کہاں تک حکومت کی پرفارمنس میں رکاوٹ بنی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی تقریروں کے علاوہ نہ تو حکومت کی قانون سازی روک سکی ہے اور نہ ہی اپنی مرضی کا کوئی قانون پاس کروا سکی۔ اپوزیشن چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئی تو سینٹ میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن ہار گئی اور حکومت جیت گئی، اِس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن سوائے گیدڑ بھبکیوں کے حکومت کا راستہ روکنے میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔
لہذا اگر یہی سچ ہے تو پھر حکومت کیسے اپوزیشن کو اپنی کارکردگی نہ دکھا سکنے اور مسائل کے حل نہ ہونے کا بہانہ بنا کر پیش سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ ساری اپوزیشن لیڈر شپ کو جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے، کرپشن مقدمات میں فیصلے اُن سب کے خلاف ہو جاتے ہیں، ملک میں اپوزیشن کا کوئی بڑا لیڈر نہ جلسے کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی پریس کانفرنس، ہر طرف صرف حکومت ہی حکومت نظر آتی ہے۔ حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور مولانا سمیت 11جماعتی اتحاد پی ڈی ایم کے حق میں ایک بھی آواز نہیں اٹھتی اور جو تحریک انصاف چاہتی ہے وہی کرتی ہے، یعنی ملک میں حزبِ مخالف ختم ہو جاتی ہے۔ فرض کریں ایسا ہو جائے تو کیا عوام کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا مہنگائی، افراطِ زر، بجٹ کا خسارہ، سرکلر ڈیٹ اور قرضوں پر سود کا سلسلہ ختم ہو جائے گا؟ لہذا کوئی بھی باہوش شخص یہ اقرار نہیں کرے گا کہ اپوزیشن ہی کی وجہ سے سارے مسائل ہیں، مسائل تو پہلے سے موجود ہیں اور جب تک اُنہیں حکومتی سطح پر حل نہیں کیا جاتا، وہ موجود رہیں گے۔
باقی دنیا کا جائزہ لیتے ہوئے سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ بھارت میں اپوزیشن موجود ہے، روس جیسے آمرانہ ملک میں بھی اپوزیشن کی آواز موجود ہے، تمام جمہوری ممالک میں جہاں حکومت اپنا کام کرتی نظر آتی ہے وہاں اپوزیشن بھی پورے زور و شور سے کارفرما نظر آتی ہے۔ حکومتیں، اپوزیشن کی حکومت مخالف سرگرمیوں کو برداشت کرتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسی گورننس کرتی ہیں کہ عوامی مسائل حل ہوں۔ عوامی فلاح کے نئے نئے منصوبے پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ پاکستان میں کپتان حکومت نے ہر مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے اُس کا طعنہ اپوزیشن کو دینے کا وطیرہ اپنا لیا ہے، اِس سے وقت تو ٹل جاتا ہے مگر مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہیں ہو پاتی۔
ماہِ دسمبر اور جنوری کو اپوزیشن نے اپنی احتجاجی تحریک کے فیصلہ کن اقدامات کے لئے طے کر رکھا ہے، اِسی دوران 13 دسمبر کو لاہور کا جلسہ ہوگا اور پھر معاملہ لانگ مارچ کی طرف جائے گا۔حکومت کی طرف سے ابھی اپوزیشن کے خلاف سوائے پکڑ دھکڑ کے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ لیکن توقع یہ ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے ہر صورت میں مذاکرات ہوں گے۔بہتر تو تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کسی دبائو کے بغیر مذاکرات کرتے مگر جب حکومت پر لانگ مارچ کا دبائو ہوگا تو اُسے لازماً مذاکرات کے لئے تیار ہونا ہوگا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ماضی کے تجربوں سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتیں لانگ مارچ کو روکتی نہیں بلکہ اسلام آباد جانے دیتی ہیں اور پھر سارا دبائو اسلام آباد اور راولپنڈی کی اسٹیبلشمنٹ پر آ جاتا ہے کہ وہ کیسے اِس مجمع کو گھر واپس بھیجے۔ اِسلئے اِس بات کا قوی امکان ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے اسٹیبلشمنٹ فریقین یعنی حکومت اور اپوزیشن کو مجبور کرے کہ وہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے حوالے سے مذاکرات کریں کیونکہ اگر لانگ مارچ واقعی ہوگا تو پھر سارا دبائو حکومت پر نہیں بلکہ تیسرے فریق پر ہوگا اور تیسرا فریق نہیں چاہے گا کہ مولانا خادم رضوی کے مذہبی دھرنوں کے بعد اب سیاسی دھرنوں کو ختم کرنے کے لئے بھی وہی مذاکرات کریں۔ لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس وقت تیسرا فریق ایک دوسرے فریق کے ساتھ کھڑا ہے۔ یعنی اسٹبلشمنٹ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور اسی وجہ سے اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کے لیے کوئی ضامن نہیں مل رہا۔ لہذا امید یہی ہے کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کا وقت آنے تک اسٹیبلشمنٹ کسی حد تک اپنے آپ کو نیوٹرلائز کر کے خود خو ضامن کے طور پر قابل قبول بنا لے گی۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے حامیوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کا مطلب اپوزیشن کے لئے این آر او کے سوا کچھ نہیں۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں یہ بالکل غلط خیال ہے کیوں کہ مذاکرات لین دین اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے خیال میں تو مذاکرات کا پہلا نکتہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پورا کرنا ہوگا، گویا اپوزیشن کو مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ہی یہ ماننا پڑے گا کہ وہ باقی 3سال تحریک انصاف کی حکومت کو چلنے دیں گے۔ دوسری طرف حکومت کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے قانون سازی پر ایسی پیشکش کرنا پڑے گی جس سے اپوزیشن کو یہ احساس دلایا جائے کہ اُن کا بھی نظام میں حصہ ہے اور اگلے انتخابات میں اُنہیں منصفانہ طور پر حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔
مہنگائی، بےروزگاری اور افراطِ زر نے لوگوں کا برا حال کر رکھا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے جذبات ابھی ابال کی منزل تک نہیں پہنچے۔ عام طور پر کوئی غیرمتوقع واقعہ یا حادثہ لوگوں کو جذبات کو مہمیز دے کر بھڑکا دیتا ہے۔ حکومتوں کو اِس منزل سے خوفزدہ رہنا چاہئے کیونکہ جب لوگوں کے جذبات ابال کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر اُنہیں ٹھنڈا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمومی طور پر پھر یہ ابال حکومت کو اُتار کر ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان خوش قسمت ہیں کہ اُن کے خلاف مڈل کلاس کے جذبات تو بھرے پڑے ہیں لیکن لوئر کلاس اُن کے اتنے خلاف نہیں۔ عام طور پر تحریک کا آغاز لوئر اور پسے ہوئے طبقات کی طرف سے ہوتا ہے اور بعد میں مڈل کلاس اِس میں شامل ہو جاتی ہے۔ عمران خان کے لئے مڈل کلاس اور کارپوریٹ کلاس کی جو ہمدردی تھی اُس میں کمی آئی ہے۔ بزنس مڈل کلاس میں بھی عمران خان ابھی غیرمقبول ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کا المیہ یہ ہے کہ اُس کا حامی ووٹر ووٹ تو ن لیگ کو دے گا مگر وہ پارٹی کے لئے بازار میں نکلنے کو تیار نہیں ہے۔ وہ ہلکی آواز میں ن لیگی دور کی تعریف تو کرے گا لیکن عمران خان دور کے خاتمے کے لئے اپنی دکان ایک دن کے لئے بند کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ ن کا ووٹر یہ چاہتا ہے کہ کاش کوئی ایسا راستہ نکل آئے جس سے اُس کی لیڈر شپ کی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ صلح ہو جائے تاکہ ن لیگ دوبارہ اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہو جائے مگر دوسری طرف اُس ووٹر کا تضاد یہ بھی ہے کہ اُنہیں مزاحمتی بیانیے کے باوجود پسند نواز شریف ہی ہے۔ لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ نوازشریف کا فوجی قیادت مخالف بیانیہ کیا رنگ لاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button