عون کی چھٹی، ترین گروپ اور کپتان میں کشیدگی بڑھ گئی

عمران خان کے سابق دست راست اور رازداں عون چوہدری کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے کوآرڈینیٹر کے عہدے سے فراغت کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین میں غیر اعلانیہ "سیزفائر” ٹوٹ گیا ہے اور سیاسی جنگ کے لیے صف بندی شروع ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق کپتان کے عون چوہدری سے متعلق حالیہ اقدام کے بعد ترین گروپ نے حکومتی عہدوں سے استعفوں پر غور شروع کردیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عون چوہدری کو ترین گروپ کا ساتھ نہ چھوڑنے کی سزا کے طور پر بزدار کی ٹیم سے فارغ کے جانے کے بعد دونوں فریقوں نے مستقبل کی سیاسی جنگ کے لیے صف بندی شروع کر دی ہے۔ ترین گروپ میں شامل وزراء،معاونین خصوصی اور مشیروں کی جانب سے حکومتی عہدوں سے اجتماعی استعفے دینے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے جبکہ حکومتی دبائو اور نذیر چوہان کے بعد عون چوہدری کے انجام کو دیکھتے ہوئے ترین گروپ کے موجودہ 30 ارکان میں سے 3 تا 5 افراد کی جانب سے ترین گروپ سے علیحدگی کا بھی قوی امکان ہے۔ مزید برآں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف جاری تحقیقات اور مقدمات میں تیزی آنے اور جہانگیر ترین کی گرفتاری کا امکان بڑھ گیا ہے۔ خیال رہے کہ کپتان کی ایما پر جہانگیر ترین اور ان کی فیملی پر شوگر سکینڈل اور منی لانڈرنگ الزامات کے تحت ایف آئی آئی اے کی جانب سے مقدمات قائم کئے جانے کے بعد جہانگیر ترین نے اپنے ہم خیال اراکین اسمبلی کے ہمراہ نہ صرف پاور شو کیا بلکہ حکومت کو اپنے گروپ کے بغیر مالی سال 2021-22 کا بجٹ پاس کروانے کا چیلنج بھی دیا تھا۔ کپتان اینڈ کمپنی نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ترین پر ہتھ ہولا رکھنے کی پالیسی اپنائی جس کی بدولت بجٹ سے قبل تحریک انصاف حکومت اور جہانگیر ترین میں غیر اعلانیہ "مفاہمت” اور "سیزفائر”ہوا جس کے بعد ترین گروپ نے بجٹ کی منظوری میں حکومت کو ووٹ دیا تھا۔ بجٹ منظوری کے بعد یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ حکومت ترین گروپ کے خلاف اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نذیر چوہان نے شہزاد اکبر کے خلاف مذہبی الزام عائد کیا اور حکومت نے اس پر نذیر چوہان کو گرفتار کیا جس کے بعد نذیر چوہان نے شہزاد اکبر سے معافی مانگی اور جیل سے رہا ہونے کے بعد جیل گیٹ پر فیاض چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گروپ سے علیحدگی کا اعلان کیا اور جہانگیر ترین کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ ترین گروپ نے نذیر چوہان کی علیحدگی کو حکومتی دباؤ قرار دیا جس کے بعد 6 اگست کو ترین گروپ کے اہم رکن اور وزیر اعلی کے معاون خصوصی عون چوہدری کو طلب کر کے استعفیٰ طلب کیا گیا اور انہیں عہدے سے برخاست کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ ترین گروپ کی تشکیل کے وقت شامل 33اراکین میں سے وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان اور صآحبزادہ امین سلطان ایم این اے سمیت رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان اس گروپ سے الگ ہو چکے ہیں، ترین گروپ میں اس وقت دو صوبائی وزرا ملک نعمان لنگڑیال اور اجمل چیمہ شامل ہیں،وزیر اعلی کے دو مشیر عبد الحی دستی اور فیصل جبوانہ شامل ہیں جبکہ دو پارلیمانی سیکرٹری عمر آفتاب ڈھلوں اور امین چوہدری شامل ہیں،اسی طرح چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی عمر تنویر بٹ بھی اس گروپ میں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ترین گروپ میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے کہ جن افراد کے پاس حکومتی عہدے ہیں وہ سب مل کر اجتماعی استعفے دے کر بطور رکن پارلیمنٹ اپنی سیاست جاری رکھیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ترین ہم خیال گروپ کے خلاف مستقبل میں سخت رویہ اپنایا جائے گا،یہ لوگ یا تو ترین گروپ ختم کریں یا تحریک انصاف سے الگ ہو جائیں۔اب تیتر آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں چلنے دیں گے۔ یہ توقع بھی کیا جا رہی ہے کہ کپتان اینڈ کمپنی ترین گروپ کو دبائو میں رکھنے کے لئے نذیر چوہان کے بعد ترین گروپ کے مزید اراکین کو توڑ لے ۔
