کیا پاکستان کی دوغلی افغان پالیسی پکڑی گئی؟

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور فتوحات کے دوران امریکہ اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کرنے اور دوغلی افغان پالیسی اپنانے کے الزامات زور پکڑ گے ہیں۔ ایک جانب اعلیٰ افغان حکومتی عہدیدار مسلسل پاکستان پر دوغلی پالیسی اور درپردہ طالبان کی حمایت جاری رکھنے کا الزام عائد کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ عہدیداران بھی اسلام آباد پر طالبان کی پشت پناہی کے دعوے کی تائید کر رہے ہیں۔
اب اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر اور مستقل مندوب غلام ایم اسحاق زئی نے پاکستان پر طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے اور اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام وضع کرنے میں کابل کی مدد کرے۔
5 اگست کو افغانستان کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے غلام اسحاق زئی نے کہا کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کرنے والا پاکستان ان کے ساتھ شامل ہے، اور وہ یقینی طور پر ان سے فائدہ حاصل کرے گا، یہ کوئی سول وار نہیں ہے بلکہ مجرمانہ اور دہشت گرد نیٹ ورک ان کے کیمپوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر طالبان کی جنگی مشین کو مستقل طور پر اب بھی پاکستان کی جانب سے محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔‘ سلامتی کونسل سے خطاب میں غلام اسحاق زئی نے مزید کہا کہ ’ڈیورنڈ لائن کے قریب طالبان جنگجوؤں کے جمع ہونے، افغانستان میں داخل ہونے، فنڈز اکٹھے کرنے، اجتماعی تدفین کے لیے لاشوں کی حوالگی اور پاکستانی ہسپتالوں میں طالبان جنگجوؤں کے علاج کی ویڈیوز بھی منظرعام پر آچکی ہیں، جو نہ صرف سلامتی کونسل کی 1988 کی پابندیوں سے متعلق قرارداد کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے عمل میں عدم اعتماد کی وجہ بھی ہے۔‘
اسی طرح سال 2003ء سے 2005ء تک افغانستان میں کینیڈا کے سفیر کے طور پر تعینات رہنے کے فوری بعد افغانستان ہی میں اقوام متحدہ کے معاون مشن کے نائب خصوصی نمائندے کے طور پر فرائض نبھانے والے سابق کینیڈین سفارت کار کرس الیگزینڈر مسلسل پاکستان پر افغانستان میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے سمیت طالبان کی فوجی اور مالی معاونت کرنے جیسے الزامات پر مبنی ٹوئیٹس کر رہے ہیں۔ چند روز پہلے سابق کینیڈین سفارت کار کی جانب سے ایک تصویر بھی ٹویٹ کی گئی جس میں درجنوں طاکبان جنگجوؤں کو پاک افغان بارڈر ہر دیکھا جا سکتا ہے۔ کرس کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ یہ تصویر ان طالبان جنگجوؤں کی ہے جو پاکستان سے افغانستان سرحد پار کرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی اس بات سے انکار کرتا ہے کہ پاکستان افغانستان کے خلاف ‘جارحیت کے عمل‘ میں مصروف نہیں ہے تو وہ اس پراکسی جنگ اور جنگی جرائم میں ملوث ہے۔
جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے سخت الفاظ میں سابق سفارت کار کرس الیگزانڈر کے اس دعوے کو مسترد کیا اور کینیڈین حکام کے ساتھ اس معاملے کو اٹھانے کا عزم بھی کیا۔ کرس کینیڈا کے وزیر برائے شہریت اور امیگریشن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے اور پاکستان کے دفترِ خارجہ کے درمیان لفظی ٹکراؤ کی صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف اور ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید امریکی دورے پر واشنگٹن میں موجود تھے۔ چار اگست کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں امریکی صحافیوں کو اپنے اس دورے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف کا کہنا تھا کہ امن کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان پر افغان دھڑوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان کے بارے میں ایک منفی تاثر بہرحال موجود ہے جس کی تاریخی وجوہات ہیں۔
نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر معید یوسف کے مطابق امن کے لیے تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان پر افغان دھڑوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔
جب سابق کینیڈین سفارت کار کرس الیگزانڈر سے ان کی ٹوئیٹ کے بارے میں دریافت کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان کی ‘دوغلی افغان پالیسی‘ پر تنقید کر رہے۔ کرس کے بقول اس بار پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان کی ٹوئیٹ پر ردعمل اس لیے دیا کیونکہ افغان طالبان جنگجوؤں کی تصویر جو انہوں نے شیئر کی تھی وہ حقیقت پر مبنی تھی۔ سابق سفارتکار کے مطابق یہ طالبان جنگجو تھے جو پاکستانی علاقے کُرم ایجنسی سے سرحد پار پکتیا صوبے میں جا رہے تھے۔ سابق سفارت کار کے مطابق امریکی انتظامیہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ وہ پاکستان کے ساتھ کیسے روابط رکھنا چاہتی ہے: ”فی الحال پاک امریکا تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان کو فون تک نہیں کیا۔‘‘
دوسری جانب پاکستان افغان طالبان کی معاونت کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ حال کی میں وزیر اعظم عمران خان نے افغان صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ نشست کے دوران کہا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں کا ذمہ دار نہیں۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’طالبان کیا کر رہے ہیں اور کیا نہیں، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ کو طالبان سے خود پوچھنا چاہیے کیونکہ ہم ان کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ان کے ترجمان۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ بیس سال تک جنگ کے باوجود بھی افغان طالبان کو شکست نہیں دے پایا تو پاکستان سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ ان کو کنٹرول کر پائے گا؟
