کیا ادارے اپنی زیادتیوں پرنواز شریف سے معافی مانگیں گے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اب ایک نئے آغاز کی اشد ضرورت ہے یعنی ’آئین کے راستے پر سفر کا آغاز ۔ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف اپنے وطن واپس آ چکے ہیں، اب ہمارے اداروں میں اتنا حوصلہ تو ھے نہیں کہ نواز شریف کے ساتھ کی گئی اپنی زیادتیوں کی طویل فہرست پر برملا معافی مانگ سکیں، لیکن یہ ادارے اپنے عمل سے شرمندگی کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ ظلم کے متلاطم اور مہیب دریا کے پار اترنے والوں کے دل میں انتقام کا سمندر موجزن ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہوا کرتی۔تاہم جب کوئی شخص اپنی ذات سے اوپر اُٹھ جاتا ہے، اس کا مقصد اس کا رہنما ٹھہرتاہے تو ایسے لوگوں کو تاریخ میں ’’بڑے لوگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’قوم کو منڈیلا کی واپسی مبارک ہو‘‘ نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے مبینہ طور پر یہ جملہ عمران خان نے عدالتی کارروائی کے دوران ارشاد فرمایا، پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ عمران خان نے جیل میں نواز شریف کی پوری تقریر انتہائی غور سے سنی۔پہلا خیال ذہن میں آیا کہ یقیناً عمران خان نواز شریف کی تقریر میں صُلح کُل کے پیغام سے متاثر ہوئے ہیں، عمران خان نے سوچا ہو گا کہ یار یہ اچھا آدمی ہے جس نے نہ تو منہ پر ہاتھ پھیر کر مجھے گالی دی، نہ میری نئی سائیکل واپس لینے کی دھمکی دی، نہ مجھے سائفر زادہ کہا، نہ گھڑی چور، نہ اسرائیل کا جوائی، نہ نو مئی کا غدار ، کچھ بھی نہیں کہا، بلکہ میرا ذکر ہی نہیں کیا، اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ’ سب‘ جماعتیں اور ادارے مل کر ہی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ تو شاید عمران کو لگا ہو کہ یہ گفتگو تو کوئی سیاسی مدبر ہی کر سکتا ہے۔ اور کپتان کی قلبی کیفیت بدل ہو گئی ہو۔مگر دوست مُصر ہیں کہ عمران اپنے روایتی سُوقیانہ پن سے کام لیتے ہوئے طنز فرما رہے ہیں
حماد غزنوی کا کہنا ھے کہ جگرِ لخت لخت کو جمع کر کے نواز شریف پھر کوئے ملامت کو لوٹ آئے ہیں۔ بلاشبہ، نواز شریف کی سیاسی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے، پچھلے 25 سال میں انہیں صرف ایک مرتبہ انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے، جیل بھگتی، جلا وطنی سہی، کبھی کمانڈو انہیں اغوا کر لیتے ہیں، کبھی انہیں ہتھکڑیاں لگا کر توہین کی جاتی ہیں، کبھی اذیت دینے کیلئے ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کر لیا جاتا ہے،کلثوم نواز کے آخری دنوں میں جو رویہ ان کے مخالفین نے اپنایا وہ بھی کمینگی کے باب کا ایک مستقل عنوان رہے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ جس شخص نے یہ سب اہانت برداشت کی اس کے لہجے میں تلخی نہیں ہے، لگتا ہے وہ پندار کا صنم کدہ ویران کر کے لوٹا ہے، لگتا ہے کہ وہ انتقام اور بدلے سے کوسوں دور نکل آیا ہے، وہ تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے مخاطب ہے، وہ ایک نئے آغاز کا مشورہ دے رہا ہے۔کیا اس مشورے میں کسی کی دل چسپی ہے؟ یہ مشورہ عمران خان کیلئے بھی ہے اور اداروں کیلئے بھی، اور مختلف جماعتوں کے حامیوں کیلئے بھی۔ عمران خان آج بھی اپنے سیاسی مخالفین کو شودرسمجھنا چھوڑ دیں تو ان کیلئے راستہ کھلنے کا امکان نسبتاً جلد پیدا ہو سکتا ہے۔انہیں اب تک اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ وسیع تناظر میں سیاست دان ہی سیاست دانوں کے آخری حلیف ہوتے ہیں۔نفرت کے کاروبار میں دونوں فریق خسارہ اٹھاتے ہیں، خان صاحب یہ دکان بند کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک نئے آغاز کی اشد ضرورت ہے، اور ان کیلئے ’نئے آغاز‘ کا ہمیں تو ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے، اور وہ ہے ’آئین کے راستے پر سفر کا آغاز، باقی تو سب چالاکیاں ہم نے اس ریاست میں کر کے دیکھ لیں، اب اس راستے کو بھی آزما کر دیکھ لیں۔ کچھ دوستوں کو اندیشہ ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف کی ضرورت ہے، اور اگر نواز شریف کی حکومت بن بھی گئی تو دو تین سال میں مالکوں کا دل بھر جائے گا اور نواز شریف کا دم بھی وضع احتیاط سے رکنے لگے گا، یعنی وہی لغو کھیل، وہی لا یعنی چرخا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا کوئی طالب علم اس خدشے کو دلیل سے رد کرنے کی جرات اپنے اندر نہیں پاتا۔ دعا ہے کہ ان دوستوں کے خدشات غلط ثابت ہوں۔ ہمارے پاس اب کسی اوٹ پٹانگ تجربے کا وقت نہیں بچا۔بہرحال، نواز شریف اپنے وطن واپس آ چکے ہیں، اب ہمارے اداروں میں اتنا حوصلہ تو نہیں ہے کہ نواز شریف کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کی طویل فہرست پر برملا معافی مانگ سکیں، لیکن یہ ادارے اپنے عمل سے شرمندگی کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں۔ ادھر قرائن بتا رہے ہیں کہ نواز شریف اب سیاست برائے سیاست کے موڈ میں نہیں ہیں، انہوں نے کبھی یہ فقرہ بولا تو نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ’’اللّٰہ انہیں سب کچھ دے بیٹھا ہے‘‘۔اب نواز شریف یقیناً کچھ ایسا کرنا چاہیں گے جس سے وہ تاریخ کے اوراق میں فقط ایک کامیاب سیاست دان کے طور پر نہ جانے جائیں، بلکہ ایک مدبر کے طور پر زندہ رہیں
