غیر شرعی نکاح کیس:عمران خان، بشریٰ کو 7-7 سال قید

خصوصی عدالت نے غیر شرعی نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7-7 سال قید اور 5-5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔عدالت نے اس مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سینئر سول جج قدرت اللہ نے سنایا ہے اور اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کے دوران دونوں کو کمرۂ عدالت میں پیش کیا گیا۔بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے گذشتہ برس 25 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دوران عدت نکاح کے الزام کا مقدمہ دائر کیا تھا۔اس سے قبل ایک عام شہری محمد حنیف کی جانب سے عدت میں نکاح سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جسے ایک عدالت کی جانب سے غیر متعلقہ ہونے کے باعث خارج کر دیا گیا جبکہ جب یہ درخواست جج قدرت اللہ کی عدالت میں دائر کی گئی تو اسے بھی گذشتہ برس نومبر میں واپس لے لیا گیا تھا، خاور مانیکا کی جانب سے مدعی بننے پر اس کیس کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت سے سیکشن 494/34، 496 سمیت دیگر دفعات کے تحت دائر درخواست میں عدالت سے سخت سزا سنانے کی استدعا کی تھی۔بیان میں خاور مانیکا نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان ’پیری مریدی‘ کی غرض سے ان کے گھر داخل ہوئے اور ان کی غیر موجودگی میں گھر آتے رہے جس سے تنگ آ کر انھوں نے بالآخر 14 نومبر 2017 کو اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی تھی۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ صلح کرنا چاہتے تھے لیکن ’یکم جنوری 2018 کو بشریٰ بی بی نے دورانِ عدت عمران خان سے شادی کی جو قانونی اور اسلامی نہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس بارے میں خبر سامنے آنے کے بعد انھوں نے (بشریٰ بی بی اور عمران خان) نے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔فرح گوگی (بشریٰ بی بی کی سہیلی) نے مجھ سے رابطہ کر کے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا جسے میں نے منع کر دیا۔خاور مانیکا نے بیان میں کہا تھا کہ وہ پہلے اس معاملے پر اس لیے نہیں بولے تھے کیونکہ ’یہ گھر کی بات ہے لیکن باتیں منظر عام پر آنے کے بعد وہ اسے عدالت میں لے جا رہے ہیں۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے گذشتہ برس 25 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دوران عدت نکاح کے الزام کا مقدمہ دائر کیا تھا۔اس سے قبل ایک عام شہری محمد حنیف کی جانب سے عدت میں نکاح سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جسے ایک عدالت کی جانب سے غیر متعلقہ ہونے کے باعث خارج کر دیا گیا جبکہ جب یہ درخواست جج قدرت اللہ کی عدالت میں دائر کی گئی تو اسے بھی گذشتہ برس نومبر میں واپس لے لیا گیا تھا۔خاور مانیکا کی جانب سے مدعی بننے پر اس کیس کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔خاور مانیکا نے اسلام آباد کی مقامی عدالت سے سیکشن 494/34، 496 سمیت دیگر دفعات کے تحت دائر درخواست میں عدالت سے سخت سزا سنانے کی استدعا کی تھی۔بیان میں خاور مانیکا نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان ’پیری مریدی‘ کی غرض سے ان کے گھر داخل ہوئے اور ان کی غیر موجودگی میں گھر آتے رہے جس سے تنگ آ کر انھوں نے بالآخر 14 نومبر 2017 کو اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی تھی۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ صلح کرنا چاہتے تھے لیکن ’یکم جنوری 2018 کو بشریٰ بی بی نے دورانِ عدت عمران خان سے شادی کی جو قانونی اور اسلامی نہیں۔انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس بارے میں خبر سامنے آنے کے بعد انھوں نے (بشریٰ بی بی اور عمران خان) نے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کیا۔’فرح گوگی (بشریٰ بی بی کی سہیلی) نے مجھ سے رابطہ کر کے طلاق کی تاریخ تبدیل کرنے کا کہا جسے میں نے منع کر دیا۔خاور مانیکا نے بیان میں کہا تھا کہ وہ پہلے اس معاملے پر اس لیے نہیں بولے تھے کیونکہ ’یہ گھر کی بات ہے لیکن باتیں منظر عام پر آنے کے بعد وہ اسے عدالت میں لے جا رہے ہیں۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

Back to top button