غیر قانونی افغانوں کو نکالنے کی مہم ٹھنڈی کیوں پڑ گئی؟

پچھلے دنوں غیرقانونی افغان مہاجرین کو زور و شور سے پاکستان سے نکال باہر کرنے کی مہم شروع ہُوئی تھی مگر اب بوجوہ یہ مہم بھی ٹھنڈی پڑ چکی ہے۔ اِس ’’ٹھنڈ‘‘ نے غیر قانونی افغان مہاجرین کی نئی انداز میں حوصلہ افزائی کی ہے ۔ انھوں نے بجا طور پر سمجھا ہو گا کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت ہمیں نکال باہر کرنے کی ہمت نہیں رکھتی ۔ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار تنویر قیصر شاہد نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے ماحول کو آلودہ کرنے میں افغان مہاجرین اور اُن کے عاقبت نااندیش سرپرست و سہولت کار بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے پائیدار اور مستقل امن کا گہوارہ بنانے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے چپے چپے پر براجمان ہونے والے لاکھوں غیر قانونی افغان مہاجرین کو یہاں سے نکالنا ہوگا ان صفایا کرنا ہوگا۔ تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ جس ملک میں انتخابات کے انعقاد کا اونٹ ہی کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا، وہاں سیاسی استحکام کیسے آئیگا؟ اور اگر سیاسی و سماجی استحکام نہیں ہوگا تو غیر ملکی سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟ 5جنوری 2024کو ہماری سینیٹ نے انتخابات کے التوا کی قرار داد منظور کر ڈالی۔ اُسی روز اسٹاک مارکیٹ بھی بیٹھ گئی۔ اِس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا؟ اور اگلے ہی روز جماعتِ اسلامی کے سینیٹر، مشتاق احمد خان ، نے اِس کے برعکس قرار داد سینیٹ میں پیش کر دی ۔ کیا تماشہ لگا ہُوا ہے !ایسے میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے :’’ نجی شعبے میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحبہ موصوف بخوبی جانتی ہیں کہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ماحول ہر لحاظ سے پُر امن اور محفوظ ہونا چاہیے کہ سرمایہ ہمیشہ امن یافتہ ماحول اور مستحکم سماجی ممالک کی طرف بھاگتا ہے ۔کوئی بھی سرمایہ دار ایسے ملک اور خطے میں اپنا سرمایہ نہیں لگانا چاہے گا جہاں اپنے ہی سرمائے کا تحفظ اور اپنے ملازمین کی نگہبانی دشوار ترین ایڈونچر بن جائے ۔ نگران وزیر خزانہ بخوبی جانتی ہیں کہ اِس وقت پاکستان میں امن کو تلاش کرنا کسقدر مشکل مہم بن چکا ہے ۔ تنویر قیصر شاہد کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ٹی ٹی پی عین طالبان کے نیچے پنپ رہی ہے اور ان کے ہاں پناہ یافتہ ہے لیکن طالبان حکام پاکستان دشمن ٹی ٹی پی کا ٹیٹوا دبانے کے بجائے پاکستان کے مدِمقابل کھڑی ہے ۔ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کی مسلسل دوست اور محبی ثابت ہو رہی ہے۔ کل نہ جہادِ افغانستان پاکستان کے کسی کام آیا نہ آج طالبان حکام پاکستان کے کسی کام آ رہے ہیں ۔ سر زمینِ افغانستان سے پاکستان منتقل ہونے والی دہشت گردی پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ س وقت ہماری نگران وزیر خزانہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی بات کررہی تھیں، عین اُس وقت دہشت گرد بلوچستان میں خود کش حملوں اور اغوا کاریوں کی وارداتوں میںمعصوم بلوچوں کو شہید کررہے تھے . کے پی کے میں بے گناہ شہریوں کا خون بہا رہے تھے .افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کرکے دہشت گردی کرنے والے عناصر ہماری سیکیورٹی فورسز سے تصادم اختیار کر رہے تھے۔ دہشت گردوں اور سماج دشمنوں کے خاتمے کے لیے اُسی طرح نہائت سختی سے نمٹنا چاہیے جیسے ترکیہ کے صدر، رجب طیب اردوان، اپنے ملک میں نمٹ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر اِن دہشت گردوں سے اِسی اسلوب میں فوراً نمٹا جائے تو اِس کے خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ خاص طور پر ٹی ٹی پی ، افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرحد غیر قانونی طور پر پار کرکے دہشت گرد عناصر سے اِسی انداز میں نمٹنا از بس ضروری ہو گیا ہے۔ اِن عناصر کو بہ سرعت اگر کچلا جائے تو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو یقیناً مثبت بنانے میں تعاون ملے گا۔ افغان مہاجرین اور ٹی ٹی پی کے پھیلائے گئے گند اور مشکل ترین حالات کے باوصف ہمارے ادارے اور ہمارے وطن دوست سرمایہ کار وطنِ عزیز میں سرمایہ کاری کی کوششیں ترک نہیں کررہے ۔ اُمید کے چراغ مکمل طور پر گُل نہیں کیے گئے ہیں. آخر میں تنویر قیصر شاہد کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سے مکالمے کی تو بات ہی نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان جا کرمولانا فضل الرحمن اپنی نجی حیثیت میں اگر افغان طالبان حکام سے کوئی بات چیت اور مکالمہ کرنا چاہ رہے ہیں تو ضرور کریں مگر ٹی ٹی پی کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا نہیں ہونا چاہیے ۔

Back to top button