فائز عیسٰی کیس کے فیصلے پر قانونی ماہر حیران

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ملک کے صدر کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے پر کہیں تو خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہیں ابھی انتظار فرمائیے کی آوازیں گونج رہی ہیں۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر آئینی اور قانونی ماہرین بیرسٹر سلمان اکرم راجا نے کہا ’ایک بات تو واضع ہے کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دستیاب ریفرنس ختم کر دیا ہے اور یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے تاہم ریفرنس ختم کرنے کے بعد کی صورت حال میں ججز میں اختلاف پایا گیا ہے۔ تاہم اکثریتی فیصلہ یہ ہے کہ معاملہ اب ایف بی آر کو بھیجا جائے گا۔ ان کے مطابق ایف بی آر کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ سات دن کے اندر سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنی ابتدائی رپورٹ جمع کروائے اور اس کے بعد جو مواد سامنے آئے اس کو سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کیا جائے اور سپریم جوڈیشل کونسل اس مواد کی روشنی میں ازخود اختیار کا استعمال کر سکتی ہے اور سمجھے تو اس پر قانون کے مطابق کاروائی بھی کر سکتی ہے۔ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ یہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اپنے فیصلے میں ایف بی آر اور سپریم جوڈیشل کونسل دونوں کو اس بات کا پابند کر دیا ہے کہ وہ معاملے کی چھان بین جاری رکھیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ ایک آئینی ماہر کے طور پر اس فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا پہلی بات تو یہ ہے کہ اس پر میری رائے نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔ البتہ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کو موجود ملکی قوانین کے تحت چلایا جاتا تو بہتر ہوتا۔ جیسا کہ کسی بھی عام شہری کے ساتھ قانونی سلوک ہوتا ہے۔
یعنی اس ملک میں ٹیکس کا قانون موجود ہے اور اس کی اپیل بھی موجود ہے۔ اس کے نتائج کو سپریم جوڈیشل کونسل سے جوڑنا ضروری نہیں تھا اور نہ یہ ضروری تھا کہ ایف بی آر اپنی کارروائی کو کونسل کو بھجواتا ہے۔ ذاتی طور پر پوچھیں تو میں خوش نہیں ہوں۔ قانون کو اپنا راستہ خود لینے دینا چاہیئے تھا۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں وکلا تحریک کے سرگرم لیڈر بیرسٹر اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ میں تو یہ فیصلہ سن کے حیران رہ گیا ہوں۔ بھئی اگر آپ نے بدنیتی کی بنیاد پر ریفرنس خارج کیا ہے تو جن افراد پر اس بدنیتی کا الزام آ رہا ہے آپ نے ان کو کیوں نہیں سنا؟۔
بیرسٹر اعتزاز احسن سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا عجیب فیصلہ ہے۔ ایک طرف آپ نے ایف بی آر جیسے ادارے کو جو کہ خود مختار ہے اور اسے کسی حکم نامے کی ضرورت نہیں پابند کر دیا اور دوسری طرف ریفرنس کو بدنیتی پر بھی مبنی قرار دے دیا۔ اعتزار کے مطابق ’مجھے تو بہت تضادات نظر آرہے ہیں میں اپنی حتمی رائے تبھی قائم کر سکوں گا جب اس کا تفصیلی فیصلہ آئے گا۔ ابھی تو یہ بھی واضع نہیں کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی بنیاد کےلیے کس قانون کا سہارا لیا۔
