فرانس: زیرتربیت سپاہی کا‘داعش کانام’لےکرافسران پرحملہ

فرانس کی سیکیورٹی فورسزکے اندر4 ماہ کے دوران حملے کا دوسرا واقعہ پیش آیا جہاں زیرتربیت سپاہی نے بیرک میں موجود پولیس افسران پرچھری کے وارکردیے۔
ذرائع کے مطابق مشرقی فرانس کےعلاقے ڈیوزے میں واقع ایک بیرک میں ملزم نے رات گئے حملہ کیا جس سے ایک افسر کے ہاتھ میں زخم آئے تھے تاہم پولیس نے چاقو بردارحملہ کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا جو اب ہسپتال میں موجود ہے۔
ذرائع نے مقامی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملےسے چند لمحے قبل ہی پولیس کوایک فون موصول ہوا اورفون کرنے والے نے کہا کہ میں مسلح افواج میں ہوں اورڈیوزے میں دہشت گرد گروپ داعش کے نام پرحملے کی تیاری کررہا ہوں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبرمیں وسطی پیرس میں فرانسیسی پولیس کے مرکزمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی اسسٹنٹ مائیکل ہارپن نے چاقو سے حملہ کیا تھا اور4 افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس نے فائرنگ کرکے حملہ آورکوہلاک کردیا تھا جبکہ رپورٹس کے مطابق حملے سے قبل مائیکل ہارپن میں انتہاپسندانہ سوچ ابھری تھی لیکن ان کے خلاف باقاعدہ تفتیش نہیں کی گئی تھی اورانہیں کام جاری رکھنے دیا گیا تھا۔ فرانس کے مسلح افواج کی وزیرفلورنس پارلے نے پولیس بیرک میں حملےبعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرمیں اپنے بیان میں کہا کہ ‘اس بات کی تصدیق ہوگئی ہےکہ حملہ ایک نوجوان سپاہی تھا، ابتدائی دو ماہ کی تربیت ہوئی تھی اوراس وقت جائزے کے مرحلے میں تھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حملے کے وقت وہ ڈیوٹی پرنہیں تھا تاہم اب یہ معاملہ تفتیش کے لیےعدالتی حکام کے پاس ہے جو اس حملے کے محرکات کی تفتیش کریں اور میں اس واقعے کی مذمت کرتی ہوں’۔ خیال رہے کہ فرانس کا دارالحکومت پیرس گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے متعدد حملوں کا شکار ہوا ہے۔ نومبر2015 میں پیرس کے مختلف علاقوں اورایک تھیٹر میں فائرنگ اوربم حملوں کے نتیجے میں 130 شہری ہلاک ہوگئے تھے جن کو دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس میں ہونے والے بدترین حملے قراردیے گئے تھے۔
برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ تیزدھارآلےسےدو شہریوں کو زخمی کرنےوالےحملہ آورکےحوالے سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی سزایافتہ حملہ آورکو جیل سے فوری رہا ہونے سے روکیں گے۔ فرانس کے شہراسٹراس برگ کی کرسمس مارکیٹ میں 12 دسمبر2018کوفائرنگ سے3 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد ملک بھرمیں سوگ منایا گیا اورقومی پرچم بھی سرنگوں رہا تھا۔
اس سے قبل 13 مئی 2018 کو پیرس میں پولیس نے چاقو کےحملےمیں ایک شخص کو قتل اورمتعدد کوزخمی کرنے والے حملہ آورکو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ تفتیش سے منسلک ذرائع نے اس حملے سے متعلق کہا تھا کہ واقعے میں حملہ آور سمیت 2 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوئے۔ طریبس شہرمیں 23 مارچ 2018 کو ایک سپر مارکیٹ میں داعش سے وفاداری کا دعویٰ کرنے والے مسلح حملہ آور نے فائرنگ کرکے 2 شہریوں کونشانہ بنایا تھا۔
خیال رہے کہ 14 نومبر 2015 کو دارالحکومت پیرس میں 6 مختلف مقامات پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور دھماکوں اور فائرنگ کے یکے بعد دیگرے واقعات میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ داعش نے اس بدترین حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بیان میں کہا تھا کہ صلیبی فرانس پر 8 مسلح افراد نے حملہ کیا اور یہ حملے ‘طویل صلیبی مہم’ کی وجہ سے کیے گئے ہیں۔
