فردوس عاشق کا PTI کو دوبارہ رسوا کرانے کا پلان

فردوس عاشق اعوان پر ق لیگ کی قیادت سے ساز باز کرکے سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں ایک قاف لیگی پیرا شوٹر کو ٹکٹ دلوا کر تحریک انصاف کو دوبارہ بد ترین شکست سے دوچار کرنے کی سازش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ فردوس عاشق 2018 کے الیکشن میں خود بھی سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں ناکام رہی تھی لیکن سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 38 پر ضمنی الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کی ٹکٹ فردوس عاشق اپنی مرضی کے امیدوار کو دلوانا چاہ رہی ہیں جس وجہ سے ان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کو گلہ ہے کہ فردوس عاشق قیصر بریار کی حلقہ پی پی 38 کے انتخابی معرکہ سے بیدخلی کے باوجود ایک بار پھر بریار فیملی کے ہی احسن سلیم بریار کو ٹکٹ دلوانے کے لیے سرگرم ہیں۔ پی ٹی آئی والوں کارکنان ہے کہ نہ تو احسن سلیم کا کسی طرح تحریک انصاف اور حلقہ 38 سے کوئی تعلق واسطہ ہے اور نہ ہی اس حلقے کی عوام بریار فیملی کو تسلیم کر رہی ہے، اس لئے تحریک انصاف کو اس ضمنی الیکشن میں بھی غلط امیدوار کی وجہ سے ہزیمت اٹھانی پڑے گی جس کی تمام تر ذمہ داری فردوس عاشق پر عائد ہو گی۔
سیالکوٹ شہر میں تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے مطابق سعید احمد بھلی حلقہ پی پی 38 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیے فیورٹ امیدوار تھے لیکن تمام سروے رپوٹوں اور پی ٹی آئی ورکرز کے مطالبے کے باوجود اچانک فردوس عاشق اعوان اور پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعلی پنجاب طاہر خورشید نے سیالکوٹ کی ایکدوسری تحصیل ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے خاندان کے قیصر بریار کو حلقہ پی پی 38 کا ٹکٹ دلوا دیا، تاہم انکے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کے بعد اب ان کے بیٹے کو ٹکٹ دلوانے کی کوششیں جاری ہیں جس کے باعث تحریک انصاف کے ووٹرز اور سپورٹرز میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 38 میں ن لیگی ایم پی اے چوہدری خوش اختر سبحانی کی وفات کے بعد الیکشن کمیشن نے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا ہے اور 28 جولائی کو انتخابی معرکہ ہوگا۔ سیالکوٹ کے حلقہ پی پی میں پی ٹی آئی ورکرز سراپا احتجاج ہیں اور سوشل میڈیا پر قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے نووارد کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کروانے کی کوششوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے مطابق حلقہ کے عوام سعید بھلی کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں اور انکا مطالبہ ہے کہ ٹکٹ پی ٹی آئی ورکر کو دیا جائے، انکامکینانیے کہ اس ٹکٹ پر قاف لیگ کے پیرا شوٹر کا کوئی حق نہیں بنتا ہے۔
دوسری جانب احسن سلیم بریار کے کاغذات نامزدگی بھی ہائی کورٹ میں اس بنیاد پر چیلنج ہو گئے ہیں کہ انہوں نے کوئی کاروبار نہ کرنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی داخل کروایا ہے حالانکہ وہ تلون اسپورٹس سمیت تین کمپنیوں کے شیئر ہولڈر ہیں۔ سیالکوٹ میں ہر کوئی جانتا ہے کہ قیصر بریار کا تمام خاندان مستقل طور پر ق لیگ کا حصہ ہے اور قیصر بریار کا بڑا بھائی سلیم بریار قاف لیگ پنجاب کا سینئر نائب صدر اور دوسرا بھائی عنصر بریار قاف لیگ ضلع سیالکوٹ کا صدر ہے۔
ان حالات میں تحریک انصاف کے مقامی رہنما الزام لگاتے ہیں کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی وزیر اعلی پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس نے پارٹی لیڈرشپ کو حلقے کے درست حالات نہیں بتائے تھے اور دھوکے سے سلیم بریار کے بھائی قیصر بریار کو تحریکِ انصاف کا ٹکٹ دلوا دیا تھا۔ لیکن دوہری شہریت چھپانے پر ان کے کاغزات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ٹکٹ دلوانے میں وزیراعلی بزدار کے سیکرٹری طاہر رشید کا
بھی اہم کردار ہے۔ واضح رہے کہ طاہر خورشید کی چند ماہ قبل ہی سلیم بریار سے رشتہ داری ہوئی ہے۔ طاہر خورشید کی بیٹی کی شادی سلیم بریار کے بیٹے سے ہوئی ہے۔ اسی رشتے داری کی بنا پر طاہر خورشید نے فردوس عاشق اور ق لیگ کی قیادت کی مدد سے اپنے سمدھی کے بھائی قیصر بریار کو راتوں رات پی ٹی آئی میں شامل کرکے ٹکٹ دلوایا اور انکے کاغذات پر اعتراضات کے بعد اپنے سمدھی کے بیٹے کو ٹکٹ دلوانے کے لئے کوشاں ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ فردوس نے وزیر اعظم کو غلط اطلاع دی کہ پوری بریار فیملی بشمول سلیم بریار پی ٹی آئی میں شامل ہو گئی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف قیصر بریار نے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی جوائن کی ہے، سلیم بریار بدستور ق لیگ میں ہیں جبکہ ان کے بیٹے کو ٹکٹ دلوانے کے لئے فردوس عاشق پورا زور لگا رہی ہیں۔ خیال رہے کہ قیصر بریار برطانوی شہریت کے حامل ہیں۔ یہ بات انہوں نے پارٹی لیڈر شپ سے چھپائی جس بنا پر قیصر بریار کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن مسترد کردیئے۔
پی ٹی آئی کی مقامی قیادت ق لیگ کے امپورٹڈ امیدوار کی بجائے سعید بھلی کے لئے ٹکٹ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ نہ صرف سعید بھلی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں بلکہ ان کا بھائی خورشید بھلی امریکہ میں پی ٹی آئی کا یوتھ ونگ کا صدر ہے۔ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ سعید احمد بھلی عوامی سیاست دان ہیں۔ وہ 2015 میں تاریخی مارجن کے ساتھ ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 2015 میں آزاد حیثیت میں یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ ضلع سیالکوٹ میں 60 چیئرمین یونین کونسل منتخب ہوئے جن میں سے 59 آزاد چئیرمین حکومتی جماعت ن لیگ میں شامل ہوئے۔ لہازا سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان نے لیڈر شپ کو یہ بتا دیا ہے کہ اگر قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے والے کسی شخص کو پی ٹی آئی کا امیدوار بنا کر میدان میں اتارا گیا تو یہاں ایک بار پھر پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اس کی پوری ذمہ داری فردوس عاشق پر عائد ہوگی۔
