فواد چوہدری نے سمیع ابراہیم کے بعد مبشر لقمان کو بھی تھپڑ جڑ دیئے

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بدنام زمانہ اینکر سمیع ابراہیم کو تھپڑ جڑنے کے بعد ایک اور بدنام اینکر مبشر لقمان کو بھی دو تھپڑ جڑ دیے۔ معلوم ہوا ہے کہ 5 جنوری 2019 کے روز پی ٹی آئی رہنما محسن لغاری کے بیٹے کی شادی پر لاہور میں اینکر مبشرلقمان سے آمنا سامنا ہونے پر فواد چوہدری نے جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی کی موجودگی میں مبشر سے یہ سوال کیا کہ تم نے کل رات اپنے چینل پر میرے حوالے سے بے ہودہ الزامات لگائے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ میری حریم شاہ کے ساتھ ویڈیوز تمہارے پاس موجود ہیں۔ مجھے وہ ویڈیوز دکھاؤ۔ جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ میرے پاس تو ایسی کوئی ویڈیوز نہیں اور آپ پر الزام تو میرے پروگرام میں موجود مہمان صحافی نے لگائے تھا۔ اس پرفوادچوہدری آگے بڑھے اور مبشر لقمان کو یکے بعد دیگرے دائیں اور بائیں گال پر دو تھپڑ جڑ دیئے۔ زوردار تھپڑ کھاتے ہی مبشرلقمان چکراکر جہانگیر ترین کے پیروں میں گر گئے جس کے بعد فواد چوہدری نے اس کے سینے پر بیٹھ کر گھونسے جڑنے شروع کر دیئے۔ اس پر جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی نے مداخلت کی اور فواد چوہدری کے ہاتھوں مبشر لقمان کی جان چھروائی۔
یاد رہے کہ 4 جنوری کی رات مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر پروگرام کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ مستقبل قریب میں دو وفاقی وزراء کی حریم شاہ اور صندل خٹک کے ساتھ نازیبا ویڈیو لیک ہونے جارہی ہیں جن میں چوہدری فواد بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد پروگرام میں موجود مہمان رائے ثاقب کھرل نے یہ دعوی کیا کہ حریم شاہ اور صندل خٹک نے اسے بتایا کہ ان کے پاس فواد چوہدری کی ڈھیرساری نازیبا ویڈیوز موجود ہیں۔ نام نہاد صحافی رائے ثاقب کھرل نے پھر یہ دعوی بھی کر دیا کہ ٹک ٹاک سٹارز نے انہیں ان وڈیوز کی کچھ جھلکیاں بھی دکھائیں۔
رائے ثاقب کھرل نے خاتون وفاقی وزیر زرتاج گل کے بارے میں بھی دعوی کیا کہ ٹک ٹاک سٹارز کے پاس اس کی بھی نازیبا ویڈیوز موجود ہیں۔
مبشر لقمان کے نصیب برے تھے کہ پروگرام کرنے کے اگلے ہی روز شادی کی تقریب میں فوادچوہدری سے آمنا سامنا ہو گیا اور پھر وہ ہوا جو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
واقعے کے بعد جب گوگلی نیوز نے فواد چوہدری سے رابطہ کرکے ان کا موقف جانا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ مبشر لقمان آج دوپہر ان کے ہاتھوں دو تھپڑ اور کچھ گھونسے کھا چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ وجہ حریم شاہ کے حوالے سے ان پر لگایا جانے والے الزام تھا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ مجھ پر اللہ تعالی کا خاص کرم ہے کہ ساکھ کے بحران کا شکار نام نہاد صحافی طوائفیں میرے ہاتھوں پٹ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صحافتی طوائفیں اپنی روش سے باز نہ آئیں تو مستقبل میں بھی ان کی دھلائی اور ٹھکائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button