فوجی قیادت شہباز حکومت سے مایوس کیوں ہونا شروع ہو گئی؟

 سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ بظاہر شہباز شریف حکومت کو کوئی فوری بڑا سیاسی خطرہ درپیش نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے خلاف دھیمی آنچ پر کھچڑی پکنا شروع ہو گئی ہے، اسکی بنیادی وجہ فوج میں پائی جانے والی یہ سوچ یے کہ وزیراعظم ڈھیلا نکلا ہے اور نون لیگ پی ٹی آئی کی جانب سے فوج پر ہونے والے حملوں کا جواب نہیں دے پا رہی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق کھچڑی پک تو رہی ہے مگر چیف شیف دل کا صاف اور کومٹ منٹ کا پکا ہے، وہ دوغلا نہیں اس لیے کھچڑی کی آنچ کو ابھی فوری بڑھانے کا امکان نہیں ہے، خود نونی حکومت کو سو فیصد یقین ہے کہ حکومت ساز کچن کا چیف شیف نہ تو انکے خلاف کوئی سازش کرے گا، نہ اپوزیشن سے خفیہ ملاقاتیں کرے گا اور نہ ہی نونی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریگا۔ اسلئے فی الحال نونی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر حکومت نے فوجی قیادت کے شکوئوں کا فوری تدارک نہ کیا تو باہمی عدم اعتماد بڑھ جائیگا۔ چنانچہ شہباز شریف کو معاملات بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ کھچڑی کے نیچے جلی دھیمی آنچ تیز ہونے کی بجائے بجھ جائے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ شہباز حکومت کا ہنی مون پیریڈ گزر چکا اسلئے اب صحافیانہ اور ناقدانہ جائزے کا جواز پیدا ہو گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس حکومت کو کوئی بڑا سیاسی چیلنج درپیش نہیں، یہ بھی درست کہ اسے فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے ،یہ بھی صحیح کہ طاقتوروں اور تحریک انصاف کی کشیدگی کی وجہ سے اپوزیشن اپنی پریشانیوں میں گھری ہے، یہ کہنا بھی درست ہے کہ فی الحال فیصلہ سازوں کے پاس کوئی متبادل انتظام بھی موجود نہیں۔ لیکن ان سارے مثبت اشاروں کے باوجود دور کہیں دھیمی آنچ پر کھچڑی پکنے لگی ہے۔ وہ ’’خاص الخاص‘‘ جو شہباز شریف کی محنت اور مہارت کا مداح ہے اسے ہی یہ شکوہ پیدا ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم کے فیصلوں کی رفتار بہت سست ہے۔ سب مانتے ہیں کہ وزیر اعظم منہ اندھیرے، تب جاگ جاتے ہیں جب دوسرے ابھی سوئے ہوتے ہیں، وہ اٹھتے ہی وہ واٹس ایپ پر احکامات جاری کرنا شروع کردیتے ہیں، انہیں علم ہے کہ صبح سویرے اٹھنے والے افسران اور سیاستدان کون سے ہیں، سب سے پہلے انہیں بلاتے اور ان سے مشورہ اور میٹنگز کرتے ہیں۔ آٹھ بجے تک انکا ماتحت عملہ اور سیکرٹریٹ بھی تیار ہو جاتا ہے اور پھر فل ٹائم ورکنگ شروع ہو جاتی ہے۔ سب تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں گورننس کی باریک تفصیلات کا علم ہے، سرکاری اجلاسوں میں وہ جو سوالات اٹھاتے ہیں اور اعتراضات کرتے ہیں اس سے انکی اپنے کام پر مکمل کمانڈ ظاہر ہوتی ہے۔ دوپہر کے لنچ کے بعد وہ گھنٹہ بھر کی نیند لیتے ہیں اور پھر سے تازہ دم ہو کر رات ساڑھے دس بجے تک سرکاری کام کاج میں منہمک ہو جاتے ہیں، وزیر اعظم بہت کم سوتے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کا بہترین استعمال کرتے ہیں، ای گورننس کے ماڈل پر چلتے ہوئے انہوں نے ہر ٹاسک کا جواب ایپ کے ذریعے لینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے مختلف محکموں اور سیکرٹریوں کی ڈیلی پرفارمنس کی اپ ڈیٹ لیتے رہتے ہیں۔ لیکن ان سب خوبیوں کے باوجود خاص الخاص کو انکی حکومت میں کئی بڑی خامیاں نظر آنے لگی ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خاص الخاص کی رائے میں وزیر اعظم کی محنت کے باوجود عوامی فلاح اور معاشی بہتری کے مطلوبہ نتائج نہیں نکل پا رہے۔ اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ چار یا پانچ گھنٹے کی طویل اور بورنگ میٹنگ کے بعد بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا، مذید یہ کہ فیصلے بار بار ملتوی کئے جاتے ہیں، ان میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ وزیر اعظم ہر چیز کی تفصیل پوچھتے ہیں مگر فیصلہ ٹال دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ کوئی اور یا بالاتر حلقے کریں یا پھر بڑے بھائی کی طرف سے کوئی ہدایت آ جائے۔ دوسری جانب خاص الخاص معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہے، اسکی چھٹی حس اس قدر تیز ہے کہ آنیوالے واقعات کو پہلے سے ہی پڑھ لیتا ہے، باخبر اس قدر ہے کہ اکثر دلوں میں چھپی خفیہ باتیں بھی نکال لیتا ہے، کایاں اتنا ہے کہ پکڑائی نہیں دیتا، بارسوخ اس قدر کہ سرکار، دربار اور بڑے سے بڑے طاقتور تک رسائی رکھتا ہے۔ چناچہ خاص الخاص یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وزیر اعظم کے پاس اختیار اور مواقع کی کمی ہے وہ یہ بھی نہیں مانتا کہ فوج کی مداخلت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ فیصلہ کرنا دشوار ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وزیر اعظم کرنا چاہیں تو بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر وہ کچھ بھی کر نہیں پا رہے۔ خاص الخاص سمجھتا ہے کہ فوج جس قدر سپورٹ حکومت کو دے رہی ہے جواباً حکومت فوج کو اس قدر عوامی اور سیاسی حمایت دلوانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ اسکا گلہ ہے کہ نون کو گلے کا ہار بنا کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا مگر وہ فوج کی راہ کے کانٹے چننے میں ابھی تک ناکام رہے ہے۔ خاص الخاص کا اعتراض ہے کہ پے در پے اجلاسوں اور دن رات کی کوششوں کے باوجود ڈیلیوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

سہیل وڑائج کے مطابق خاص الخاص کو یہ بھی گلہ ہے کہ نون حکومت کا کوئی سیاسی بیانیہ نہیں، معیشت کی بحالی کا منتردرست سہی مگر جب تک معیشت کی بہتری عوام تک پہنچے گی اس وقت تک مسائل کا انبار کھڑا ہو چکا ہوگا۔ سیاسی بیانیہ ہوتا تو اپوزیشن کا کچھ توڑ ممکن تھا مگر نون کے سیاسی بیانیے کی عدم موجودگی میں اپوزیشن ہی اکیلی سیاسی میدان میں دندنا رہی ہے۔ اس کے بعد سہیل وڑائج وضاحت کرتے ہیں کہ خاص الخاص کوئی بندہ نہیں ہے اور نہ ہی اسکا حکومت سے کوئی تعلق ہے، اسے میری چڑیا سمجھ لیں، فال والا طوطا کہہ لیں، لٹو خیال کر لیں یا بھنبیری جان لیں، یہ میرا وہ مخبر ہے جو مجھے ’’پارٹی ازاوور‘‘ اور ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ جیسی باتیں وقت سے پہلے بتا دیتا ہے، میری یہ بھنبیری منطق، خبر، تجزئیے اور ناقدانہ جائزے کے معیارات کو سامنے رکھ کر خبر نکالتی ہے۔

انکا کہنا یے کہ خاص الخاص کو شہباز شریف سے بہت ہمدردی ہے لیکن اب وہ ماننے لگا ہے کہ نون لیگ میں فیصلہ کن حیثیت نواز شریف کو ہی حاصل ہے، وہی بڑے فیصلے کرتے ہیں اب جبکہ وہ نظام کا حصہ نہیں تو چھوٹے بھائی سے بڑے فیصلے ہو نہیں پا رہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شہباز شریف جان بوجھ کر نواز شریف کی طرف دیکھتے ہوں تاکہ سیاست میں انکا امام، بھائی یہ تمام فیصلے کرے تاکہ کہیں غلط فہمی نہ پیدا ہو جائے۔ خاص الخاص کا خیال ہے کہ فرسٹریشن بڑھ رہی ہے فیصلوں میں دیر ہو رہی ہے، ڈیلیوری نہیں ہو رہی، اسی لئے کھچڑی پک رہی ہے، معاملات نہ سدھرے تو آنے والے دنوں میں دوریاں بڑھنے لگیں گی۔

خاص الخاص نبض شناس ہے، اور دلوں کے بھید بھی جان لیتا ہے، اسے شکوہ ہے کہ فوج اپوزیشن کے سیاسی اور ذاتی نشانے پر ہے، لیکن نونی حکومت فوج مخالف چلائی جانیوالی مہم میں گونگی بنی بیٹھی ہے، فوج کے بڑوں پر ذاتی حملے ہو رہے ہیں اور گالیاں تک دی جا رہی ہیں، لیکن نونی حکومت اپوزیشن کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی بجائے ان سے ہاتھ ملانے کیلئے ترسی جا رہی ہے، خاص الخاص کو خاص کر گلہ ہے کہ کپتان نے جیل میں میلہ لگایا ہوا ہے، ہر روز وہاں فوج کیخلاف منصوبہ بندی ہوتی ہے اور سیاسی حکومت نے کپتان کو جیل میں 8 شاہانہ کمرے دے رکھے ہیں۔ تنقید کا نشانہ فوج ہے حالانکہ اس کا قصور صرف نونی حکومت کی حمایت کرنا ہے لیکن دوسری جانب نون لیگ فوج پر ہونے والی تنقید پر خاموش رہ کر کیا پیغام دے رہی ہے؟۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خاص الخاص کے خیال میں شہباز شریف میں بہت لچک ہے، وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر انہیں شکوئوں کا اشارہ ملا تو وہ اپنی گورننس میں بہتری لے آئینگے۔ خاص الخاص نے نوٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف حالیہ دنوں میں کبھی وزراء پر برس رہے ہیں اور کبھی بیورو کریسی پر غصہ کر رہے ہیں، کہیں وہ کرپشن کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں اور کہیں ایف بی آر کی استعداد کار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ خاص الخاص کے خیال میں یہ اصلاح احوال کی کوششیں ہیں تاکہ کھچڑی کے نیچے لگی دھیمی آنچ کا ایندھن ہی بجھا دیا جائے، نہ آگ ہو گی تو نہ دھواں ہوگا اور نہ کھچڑی مکمل طور پر پک پائے گی….!

Back to top button