نئے صوبوں سے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ کیوں ہو گا؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل نہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے میں ہے، نہ مزید انتظامی یونٹس بنانے میں اور نہ ہی نئے صوبے بنانے میں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلے ہی بہت تقسیم زدہ ہیں، اس لیے ایسے فیصلے نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے ملک میں موجود سیاسی، انتظامی اور معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو۔ ان کے مطابق مسائل کا حقیقی حل اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور بلدیاتی اداروں کو آئینی تقاضوں کے مطابق بااختیار بنانے میں ہے۔

 

مظہر عباس نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ محض انتظامی نقشے تبدیل کرنے یا اختیارات کو ایک سطح سے دوسری سطح پر منتقل کرنے سے ملک کے بنیادی سیاسی اور انتظامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ابھی تک سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے 11 سالہ دور کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکا کہ قوم کو ایک نئے دور کی نوید دی جا رہی ہے، تاہم اس نئے دور کے خدوخال ابھی تک سرکاری طور پر واضح نہیں کیے گئے۔ البتہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کو ایک واضح پیغام تصور کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بحث نئے صوبوں سے آگے بڑھ کر مزید انتظامی یونٹس اور پھر بااختیار بلدیاتی نظام تک پہنچ گئی ہے۔

 

مظہر عباس کے مطابق اس پوری بحث میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی کسی نہ کسی شکل میں سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حتمی صورت حال کسی فیصلہ کن سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی، کیونکہ پاکستان میں چاہے حکمران منتخب ہوں یا ہائبرڈ نظام کے تحت اقتدار میں آئیں، عمومی طور پر اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش غالب رہتی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا حکمران واقعی بلدیاتی اداروں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے پر آمادہ ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور ادارے زوال پذیر ہیں تو پھر وہ کون سی قومی خدمات اور کارکردگی ہے جس کی بنیاد پر وزرا کو اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں سرکاری ایوارڈز کے لیے نامزد کیا جاتا ہے۔

 

مظہر عباس نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب کسی شہر یا ادارے کی ذمہ داری کسی دوسرے ادارے کو منتقل کی جاتی ہے تو پہلے یہ اطمینان کرنا ضروری ہوتا ہے کہ نیا ذمہ دار اس بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ کون سے وفاقی ادارے ہیں جو وفاق کے زیرانتظام مثالی انداز میں ترقی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف وفاق اپنے اداروں کا بوجھ کم کرنے کے لیے انہیں نجی شعبے کے حوالے کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف تین سے چار کروڑ آبادی والے شہر کراچی کو وفاق کے زیراثر لانے کی منطق پیش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کراچی کے ساتھ مسلسل ’فٹ بال‘ کھیلا جاتا رہا ہے، کبھی اسے وفاقی دارالحکومت بنانے کی بات ہوئی، کبھی صوبائی دارالحکومت کے طور پر دیکھا گیا اور اب شہر کو وفاق کے زیرانتظام لانے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کو بااختیار بلدیاتی حیثیت دے دی جائے اور اس کے لیے ایک مضبوط، مؤثر اور ساتھ ہی قابل احتساب نظام قائم کر دیا جائے تو یہ غلط سمت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق صرف کراچی نہیں بلکہ پورے ملک میں ایسا بلدیاتی نظام نافذ کیا جانا چاہیے، جس پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مظہر عباس نے کہا کہ فی الحال نئے صوبوں یا دیگر انتظامی تبدیلیوں کی بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے حکومت اور پارلیمنٹ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ’غیر جماعتی‘ بلدیاتی نظام سے بھی نکلنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کبھی بنیادی جمہوریت اور کبھی غیر جماعتی انتخابات کے نام پر ایسے نظام متعارف کرائے گئے جنہوں نے سیاسی عمل کو نقصان پہنچایا۔

 

انہوں نے پنجاب میں رواں سال کے آخر میں متوقع بلدیاتی انتخابات کے غیر جماعتی بنیادوں پر انعقاد کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے سیاسی وارث اور اس کے متعارف کردہ نظام کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول موجودہ حکمت عملی ایک ’مکس پلیٹ‘ کی صورت اختیار کر سکتی ہے، جس میں انتخابات غیر سیاسی اور غیر جماعتی بنیادوں پر لڑے جائیں اور بعد میں کامیاب ہونے والے امیدوار کسی سیاسی جماعت کا حصہ بن جائیں۔

 

مظہر عباس نے ماضی کے بلدیاتی اور عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1979ء، 1983ء اور 1987ء کے بلدیاتی انتخابات جبکہ 1985ء کے عام انتخابات بھی غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے تھے، تاہم ان تجربات سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ سیاسی وابستگیوں کو محض قانونی یا انتظامی طریقہ کار کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں مارشل لا نافذ ہوتا ہے تو عملی طور پر پورا ملک وفاق کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں امن و امان کی صورت حال، منشیات اور اسلحے کا پھیلاؤ بھی اس دور کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھا۔

 

مظہر عباس کے مطابق سندھ میں سیاسی تفریق بھی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی، جس کے باعث صوبہ معاشی اعتبار سے اپنی پوری صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کرسکا، اور اس صورت حال کی ذمہ داری وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کراچی کو وفاق کے زیرانتظام دے دیا جاتا ہے تو کیا وفاق کی جانب سے ماضی میں شہر کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جب بھی کسی سیاسی یا سویلین حکومت کو برطرف کیا جاتا ہے تو بنیادی طور پر وفاقی حکومت ہی اقتدار سے محروم ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر کراچی وفاق کے براہ راست کنٹرول میں ہوگا تو ہر سیاسی تبدیلی کے ساتھ شہر کا انتظام بھی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے کا خطرہ موجود رہے گا، جو شہری انتظام اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

عمران بارے عدالتی فیصلے کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

مظہر عباس نے کہا کہ مسئلے کا بنیادی حل اختیارات کی سیاسی، مالی اور انتظامی تقسیم کو نچلی سطح تک لے جانے میں ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا بنیادی کام قانون سازی اور پالیسی سازی ہونا چاہیے جبکہ مقامی حکومتوں کو شہریوں کی روزمرہ ضروریات، ترقیاتی منصوبوں اور شہری انتظام کے حوالے سے مکمل اختیارات حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی سوچ اور سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے، محض سرکاری یا غیر سرکاری سوچ کے ذریعے نہیں۔ ان کے مطابق ملک کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا، جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا اور عوام کو بااختیار بنانا ہی پاکستان کے تمام مسائل کا دیرپا حل ہے۔

Back to top button