پی ٹی آئی کی خوشیوں پر پانی کیسے پھرنے والا ہے؟

عمران خان کو جیل سے پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ نظرثانی اپیل کے نتیجے میں تحریک انصاف کی خوشیوں پر پانی پھرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستانی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کسی سزا یافتہ قیدی کو علاج کے لیے جیل سے نکال کر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا ہو، اس لیے حکومت نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نظرثانی درخواست کی سماعت کے بعد عدالتی حکم میں تبدیلی کا قوی امکان ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر باقاعدہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے، جس کی سماعت بدھ کو ہو گی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم یہ حکم عدالت کے اختیار سماعت سے تجاوز کرتا ہے، لہٰذا اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں بنیادی طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قانون اور جیل قواعد میں ایک مخصوص طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت پہلے طبی معائنہ اور میڈیکل بورڈ کی سفارش ضروری ہوتی ہے اور اگر جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہو تو عمومی طور پر سرکاری ہسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی اس معاملے پر حکومت کے قانونی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری کیے گئے حکم کے بعض نکات، خصوصاً دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے ان کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت، قانونی حدود کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکام اور قانونی ٹیم نے عدالتی حکم کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ سزا یافتہ شخص کو جیل میں طبی سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے جو قانونی دائرہ کار موجود ہے، اس میں نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم معمول کے طریقۂ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی بنا پر حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے حکم میں مناسب ترمیم کی درخواست دائر کی ہے۔
وفاقی وزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق سب سے پہلے ایک میڈیکل بورڈ بنایا جاتا ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ قیدی کا علاج جیل کے اندر ممکن ہے یا اسے جیل سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر جیل سے باہر علاج ضروری قرار پائے تو عام طور پر سرکاری ہسپتال میں طبی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ سرکاری ہسپتال مطلوبہ علاج فراہم کرنے سے قاصر ہیں، نجی ہسپتال منتقل کرنا معمول کا طریقۂ کار نہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر کسی ایک سزا یافتہ قیدی کو نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دینے کی نظیر قائم ہوتی ہے تو پھر ملک بھر کی جیلوں میں موجود ہزاروں قیدیوں کے حوالے سے بھی یہی سوال اٹھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک بھر میں سینکڑوں قیدی مختلف بیماریوں کا شکار ہیں اور یہ تعین کرنا ہوگا کہ آیا سپریم کورٹ کا حکم صرف عمران خان تک محدود ہوگا یا اسے دیگر قیدیوں کے لیے بھی قانونی نظیر کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست کا مقصد عمران خان کو طبی سہولت سے محروم کرنا نہیں بلکہ عدالتی حکم میں موجود قانونی ابہام کو دور کرنا ہے۔ ان کے بقول طبی ماہرین کو ضرور شامل کیا جاسکتا ہے اور شفا انٹرنیشنل سمیت کسی بھی بڑے طبی ادارے کے ماہرین سے رائے لی جاسکتی ہے، تاہم علاج کے لیے قانونی اور انتظامی طریقۂ کار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک روز قبل عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے عمران خان کی صحت کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی شامل کیا جانا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح کیا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران مناسب سکیورٹی انتظامات حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر عمران خان کی صحت یا میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا یا عدالتی حکم میں عائد شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو ہسپتال منتقلی سے متعلق فراہم کی گئی سہولت واپس لی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب عمران خان کے اہل خانہ اور تحریک انصاف نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ان شرائط کی پابندی کریں گے۔
عدالت نے عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیکل ریکارڈ بھی طلب کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ رپورٹس عدالت کے سامنے پیش کی جائیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی گئی تھی جس میں اڈیالہ جیل کے حکام نے پیش ہونا تھا جبکہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں معائنے اور علاج سے متعلق رپورٹس بھی عدالت میں جمع کرائی جائیں گی۔
ابتدائی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کو عدالت کے حکم پر اعتراض نہیں اور عدالت کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم بعد ازاں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد حکومت نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عمران کو لاحق ’اینگزائٹی تھری پلس‘ نامی بیماری کیا ہے؟
حکومتی ذرائع کے مطابق اب معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے اور نظرثانی درخواست کی سماعت میں اصل توجہ اس سوال پر مرکوز ہو گی ہے کہ کیا کسی سزا یافتہ قیدی کو براہ راست عدالتی حکم کے ذریعے نجی ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کرے گی کہ اگر عمران خان کو علاج کی ضرورت ہے تو ان کے لیے بہترین ممکنہ طبی سہولت کسی سرکاری ہسپتال میں فراہم کی جاسکتی ہے، جبکہ نجی طبی ماہرین کو بھی ضرورت کے مطابق میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
حکومت کے اس مؤقف کے باعث عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قانونی اور آئینی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ حکومت کی نظرثانی درخواست پر اپنے سابقہ حکم میں ترمیم کرتی ہے تو عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کا معاملہ ایک نئی سمت اختیار کرسکتا ہے، جبکہ اگر عدالت اپنے سابقہ حکم کو برقرار رکھتی ہے تو حکومت کو اس پر عملدرآمد کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔
