آفریدی نے حکومت اپوزیشن معاہدہ کیسے سبوتاژ کیا؟

 

 

 

 

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان دو روز پر محیط طویل مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے اور اپوزیشن اور حکومت کے مابین ایک تحریری معاہدے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا جس کی صدر زرداری نے بھی توثیق کر دی تھی، لیکن آخری لمحات میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے طے شدہ معاملات سے پیچھے ہٹ کر معاہدے کو سبوتاژ کر دیا۔ ایسے میں اب وفاق کے پاس آخری راستہ یہی بچا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی میں سے کسی ایک آپشن کا استعمال کیا جائے۔

 

مذاکرات کی ناکامی کے اگلے روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور پہنچ کر گورنر خیبر پختون خواہ فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی جس کے بعد ان افواہوں میں تیزی آ گئی ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ہونے جا رہا ہے۔  یاد رہے کہ ہفتے کی رات حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی کامیابی کی خبریں چلنا شروع ہو گئی تھیں چونکہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی وفود نے جو معاہدہ طے کیا تھا اس پر اتفاق رائے کے بعد صرف صدر زرداری کی توثیق باقی رہ گئی تھی جو محسن نقوی نے حاصل کر لی۔ لیکن نقوی جیسے ہی معاہدے کا حتمی ڈرافٹ لے کر پارلیمنٹ ہاؤس واپس آئے تو انہیں بتایا گیا کہ سہیل آفریدی نے اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وہ خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے اور تحریک طالبان کو دہشت گرد قرار دینے سے مکر گئے ہیں۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ آفریدی نے بد نیتی کے تحت طے شدہ معاملات سے آخری وقت میں پیچھے ہٹ کر مذاکرات کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا، اور ملک کو انتشار کی طرف دھکیل دیا ہے۔

 

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب معاہدے کو حتمی شکل دی جارہی تھی اور دستخط ہونے میں چند لمحے باقی تھے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کے رکن سے رابطہ کرکے واضح کیا کہ وہ اس معاہدے کو قبول نہیں کرتے، جس کے بعد پہلے سے طے شدہ مسودے میں متعدد تبدیلیاں سامنے آئیں اور مذاکراتی عمل دوبارہ الجھ گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ ڈرافٹ چار مرتبہ تیار اور چار مرتبہ تبدیل ہوا اور آخرکار خیبر پختونخوا حکومت نے ان نکات پر بھی پسپائی اختیار کرلی جن پر مذاکرات کے دوران اتفاق ہوچکا تھا۔

مذاکرات کے دوران جن نکات پر اتفاق کا دعویٰ کیا گیا تھا ان میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 72 گھنٹوں کے اندر تحریری معاہدہ اور اس پر عملدرآمد کا منصوبہ پیش کرنا، سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کو صوبے میں آزادانہ کارروائی اور محفوظ ٹھکانے بنانے سے روکنا اور دہشت گردی کے خلاف صوبائی سطح پر واضح اور عملی ذمہ داری قبول کرنا شامل تھا۔ نقوی کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مذمت پر بھی اتفاق کیا تھا۔

 

مجوزہ معاہدے کے دیگر نکات میں افغان مہاجرین کے حوالے سے قومی پالیسی کی حمایت، ان کی واپسی اور افغان کیمپوں کے خاتمے کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطہ نہ رکھنے، انسداد دہشت گردی اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی اور صوبے میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ مسلح افواج کے ساتھ تعاون بڑھانے، سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اہم فیصلے کرنے اور ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد کے نکات بھی مذاکراتی عمل کا حصہ تھے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم نے سنجیدگی کے ساتھ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی اور مذاکرات کے دوران حکومت بھی اپنی حد تک لچک کا مظاہرہ کرتی رہی، لیکن آخری مرحلے میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے اپنے وعدوں سے انکار نے پورا عمل سبوتاژ کردیا۔

 

وزیر داخلہ نے سوال اٹھایا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہی کرنے تھے تو وہ خود مذاکراتی عمل میں شریک کیوں نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق اگر حکومت کو پہلے سے معلوم ہوتا کہ صوبائی حکومت آخری مرحلے پر مذاکراتی معاہدے کو ویٹو کردے گی تو مذاکرات شروع ہی نہ کیے جاتے۔ وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے سیاسی کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی سیاست کا محور انتشار ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے تب مذاکراتی عمل کو ناکام بنایا جب ایک قابل قبول سمجھوتہ سامنے آ چکا تھا۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کو یہ خدشہ تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوکر لانگ مارچ ختم ہو گیا تو تحریک انصاف کے اندر ان کی سیاسی پوزیشن کمزور پڑ جائے گی اور علی امین گنڈاپور سے وابستہ گروپ ان کی کرسی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

مذاکرات کی ناکامی کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے اور خود لکی مروت پہنچ کر مارچ کی قیادت شروع کردی۔ دوسری جانب محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حکومت 9 مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دے گی اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہر صورت عمل درآمد کرایا جائے گا۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد اب وزیراعظم اور صدر مسلسل رابطے میں ہیں اور خیبر پختون کے حوالے سے جلد فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ ابیوں نے کہا کہ کسی صوبائی حکومت کو اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شر پسندوں کو روکنے کے لیے سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

 

مذاکرات کی ناکامی اور لانگ مارچ کے آغاز کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی واضح کردیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں وفاقی حکومت سخت آئینی اقدام کرسکتی ہے۔ بلاول بھٹو کے مطابق وفاقی حکومت پہلے ہی کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تیار تھی تاہم پیپلزپارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے اقدام سے پہلے سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ بلاول نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج آئینی راستے ہیں اور اگر صوبائی حکومت دہشت گردی اور امن و امان کے مسئلے کو اہمیت نہیں دیتی تو ایسے اقدامات پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔  وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات فی الحال قبل از وقت ہے، تاہم ان کے مطابق صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور وفاقی حکومت صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

ماضی کی طرح لانگ مارچ کی ہوا کیوں نہیں بن پائی؟

ادھر محسن نقوی نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا اس وقت دہشت گردی کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے اور ایسے حالات میں سکیورٹی معاملات کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے امکان کی تصدیق اور وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی و قانونی آپشنز پر مسلسل غور کے بعد یہ معاملہ اب محض پی ٹی آئی کے لانگ مارچ تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان ایک بڑے آئینی اور سیاسی تصادم کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

 

 

Back to top button