لانگ مارچ کے بعد KP حکومت اور اسمبلی خطرے میں؟

حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کو تارپیڈو کر کے سہیل آفریدی نے وقتی طور پر اپنی وزارت اعلیٰ تو بچا لی لیکن خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور اسمبلی کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد قوی امکان ہے کہ خیبر پختونخوا میں یا تو ایمرجنسی نافذ کر دی جائے یا گورنر راج لگا دیا جائے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت پہلے ہی بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کرنے والے سہیل آفریدی کو کاؤنٹر کرنے کے لیے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے امکانات پر غور کر رہی تھی، لیکن پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا موقف یہ تھا کہ اس مسلئے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ صدر آصف زرداری بھی ایمرجنسی یا گورنر راج جیسا انتہائی قدم اٹھانے سے گریزاں تھے چنانچہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنایا گیا، لیکن وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کامیاب مذاکرات کو ناکام کر دیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سہیل آفریدی بطور وزیراعلیٰ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کی بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے تو پھر ان کی وزارت اعلیٰ بھی نہیں بچے گی۔ محسن نقوی نے سہیل آفریدی پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے آخری مرحلے میں دہشت گردی کے خلاف تعاون سے متعلق اپنی یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹ کر معاہدے کو ناکام بنایا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو صوبے میں محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے، کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی مذمت، پولیس اور انسداد دہشت گردی کے لیے وسائل، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور وفاق کے ساتھ سکیورٹی معاملات میں تعاون سمیت متعدد نکات پر اتفاق ہوا تھا لیکن بعد میں خیبر پختونخوا حکومت پیچھے ہٹ گئی۔
اس صورت حال کے بعد وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ دوسری طرف گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی سے بارے یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹنے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہو تو کیا انسداد دہشت گردی اقدامات صوبائی حکومت کی اولین ترجیح نہیں ہونے چاہئیں۔ گورنر کے اس ردعمل نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان آئندہ دنوں میں وفاق کی جانب سے کوئی بڑا آئینی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
باخبر سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کے درمیان بھی خیبر پختونخوا کی مجموعی صورت حال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے جبکہ وفاقی حکومت کے اندر یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ ایک صوبائی حکومت کو مسلسل سیاسی احتجاج، وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ اور قومی سطح پر انتشار کا ذریعہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پہلے ہی وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ گورنر راج کا آپشن بھی زیر بحث رہا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا اور دونوں راستوں کے لیے آئینی تقاضے مختلف ہیں۔
اس صورتحال میں خود سہیل آفریدی کی حکمت عملی پر سوالات کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے مذاکرات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ نہیں کرنا تھا تو پھر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو دو روز تک وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی اجازت کیوں دی گئی؟ اگر مذاکرات محض وقت حاصل کرنے یا سیاسی فیس سیونگ کے لیے تھے تو اس دوران حکومت کے ساتھ عمران خان سے ملاقات سمیت مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کیوں کی گئی؟ اور اگر واقعی معاہدے کی گنجائش موجود تھی تو عین آخری مرحلے پر صوبائی حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ مذاکرات کرنا بذات خود کوئی سیاسی جرم یا کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بحرانوں کا جمہوری حل نکالنے کا معمول کا طریقہ ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ پی ٹی آئی کے دوہرے بیانیے کا بن گیا ہے کہ ایک طرف مذاکراتی ٹیم حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مارچ روکنے یا مؤخر کرنے کے امکانات تلاش کرتی رہی جبکہ دوسری طرف سہیل آفریدی مسلسل کارکنوں کو اپنی تقریروں میں یہ پیغام دیتے رہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہو گا۔ خود پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات نے بھی لانگ مارچ ہر صورت منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ مذاکرات کو بھی حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کے لیے یہ ایک انتہائی مشکل سیاسی امتحان تھا کیونکہ اگر وہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے پر دستخط کر کے لانگ مارچ واپس لینے یا مؤخر کرنے پر آمادہ ہو جاتے تو پارٹی کے اندر ان کے مخالفین، خصوصاً علی امین گنڈاپور، ان کے خلاف کھل کر میدان میں آ سکتے تھے۔ سہیل آفریدی پہلے ہی اس وقت شدید تنقید کی زد میں تھے جب انہوں نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا تھا اور ان کا موازنہ علی امین گنڈاپور سے کیا جا رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے معاہدے پر دستخط کرنا سیاسی طور پر اپنی کمزوری تسلیم کرنے کے مترادف بھی سمجھا جا سکتا تھا، چنانچہ سیاسی دباؤ میں ان کے لیے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے بجائے لانگ مارچ برقرار رکھنا زیادہ محفوظ راستہ بن گیا۔
خیبر پختونخوا میں پہلے ہی وزیراعلیٰ اور اسمبلی کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ گزشتہ ہفتے سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان صوبائی حکومت، وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ ایمرجنسی اور حتیٰ کہ اسمبلی تحلیل کرنے کے امکانات پر بات چیت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ڈیڈلاک کی صورت میں اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن بھی زیر غور آیا تھا۔ اس پس منظر میں مذاکرات کی ناکامی نے سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن وقتی طور پر مضبوط کرنے کے بجائے پورے صوبائی سیٹ اپ کے مستقبل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
دوسری جانب سہیل آفریدی نے مذاکراتی ٹیم کو بھیجے گئے اپنے سات نکاتی مسودے کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مطالبات میں کوئی ایک بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں تھا۔ ان کے مسودے میں وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں، سیاسی مذاکرات کے لیے مستقل کمیٹی، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی، انسانی اور طبی حقوق، سیاسی قیدیوں اور دیگر معاملات سمیت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مشاورت کا طریقہ کار بھی شامل تھا، جبکہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کو وفاقی حکومت کی تحریری یقین دہانیوں سے مشروط کیا گیا تھا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی لانگ مارچ کو اسلام آباد تک لے جانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس سیاسی محاذ آرائی کی قیمت خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کو تو نہیں چکانا پڑے گی۔ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے اور وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج پرامن اور آئینی حق کے دائرے میں ہے۔ یوں اب معاملہ محض لانگ مارچ یا عمران خان کی رہائی کے مطالبے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ براہ راست وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اختیار، سکیورٹی اور آئینی حدود کی کشمکش بن چکا ہے۔ اگر سیاسی راستہ دوبارہ نہ نکلا تو ایمرجنسی، گورنر راج یا صوبائی اسمبلی کے اندر کسی بڑی تبدیلی کا امکان آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کی سیاست کا سب سے بڑا سوال بن سکتا ہے۔
