فوج سیکیورٹی سے متعلق امور پر اراکین اسمبلی کو بریفنگ دے گی

حکومت یکم جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں افغانستان کی ابھرتی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات پر قانون سازوں کے لیے خصوصی بریفنگ کا اہتمام کررہی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ڈان کو بتایا ہے کہ ‘یہ اندرونی اور بیرونی سلامتی کے امور پر فوجی عہدیداروں کی جانب سے دی جانے والی اِن کیمرہ بریفنگ ہوگی’۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان کو بریفنگ کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک ذرائع نے بتایا کہ حقیقت میں یہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کی سربراہی اسپیکر اسد قیصر کریں گے اور اس میں شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید، اعظم سواتی، طارق بشیر چیمہ، اسد محمود، خالد مقبول صدیقی، خالد حسن مگسی، اختر مینگل، غوث بخش مہر، امیر حیدر خان، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، شہزاد وسیم، یوسف رضا گیلانی، شیری رحمٰن، اعظم نذیر تارڑ، انوارالحق کاکڑ، مولانا عبد الغفور حیدری، فیصل سبزواری، طاہر بزنجو، مشتاق احمد، ہدایت اللہ خان، سردار محمد شفیر ترین ، کامل علی آغا، مظفر حسین شاہ، محمد قاسم اور دلاور خان شامل ہوں گے۔

کچھ 16 قانون سازوں کو بریفنگ کے لئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ وہ ہیں: سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی ، این اے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ، پرویز خٹک ، اسد عمر ، شفقت محمود ، شیریں مزاری ، بابر اعوان ، علی محمد خان ، عامر ڈوگر ، شاہد خاقان عباسی ، خواجہ آصف ، رانا تنویر ، پرویز اشرف ، احسن اقبال اور حنا ربائی کھر۔

جب سوال کیا گیا کہ اجلاس کا اہتمام کیوں کیا جارہا ہے تو بابر اعوان نے کہا کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال تشویش کا باعث بن گئی ہے اور بجٹ اجلاس میں تقریباً تمام پارٹیوں کے سربراہان نے اپنی تقریروں میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں بات کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف افغانستان ہی نہیں سیکیورٹی سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس سے قبل پریس کانفرنس میں بابر اعوان نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے رہنماؤں کو افغانستان میں موجودہ حالات کی وجہ سے سرحدوں کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب سیکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے عہدیدار سیکیورٹی کے امور پر قانون سازوں کو اپ ڈیٹ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے ایک ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری بریفنگ میں شریک ہوں گے کیونکہ انہوں نے افغانستان کے معاملے پر اپڈیٹ کے لیے 30 جون کو اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے سیکیورٹی معاملات پر فوج کی بریفنگ کا خیرمقدم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ جو لوگ سلامتی کے معاملات میں اہمیت رکھتے ہیں وہ سامنے آکر جواب دیں تاہم اسے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ یکطرفہ بال پوائنٹ پریزنٹیشن سے زیادہ ہونا چاہیے، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سلامتی کے نظریات پرسوال جواب سیشن کے ساتھ سنجیدہ بات چیت ہونی چاہیے’۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کے صدر شہباز شریف بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

Back to top button