قرضہ کمیشن کی تحقیقات مکمل، قرضوں کے سپیشل آڈٹ کی سفارش

قرضہ کمیشن نے ماضی میں لئے گئے اربوں روپے کے قرضوں کے حوالے سے جاری تحقیقات مکمل کر لی ہیں. ذرائع پلاننگ کمیشن کے مطابق 10 ہزار 500 ارب روپے کے قرضوں کی تحقیقات کی گئی ۔ پن بجلی منصوبوں میں 600 روپے سے زائد کی بے قاعدگیاں دیکھنے میں آئیں۔ نیلم جہلم منصوبہ 84 ارب روپے سے 500 ارب روپے کی لاگت تک کیسے پہنچا کمیشن نے سپیشل آڈٹ کی سفارش کردی ۔
گومل زیم ڈیم 12 ارب روپے کی بجائے 22 ارب روپے میں مکمل کیا گیا ۔ ذرائع پلاننگ کمیشن بتاتے ہیں کہ منصوبوں میں خردبرد بھی خوب کی گئی۔ اور غیر قانونی معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ کمیشن ذرائع کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کی لاگت 100 ارب روپے سے بھی بڑھ گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ کمیشن نے 2008 سے 2018 تک کے قرضوں کی تحقیقات کی گئی۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 14 جون 2019 کو ہی نوازشریف اور زرداری کی حکومت کے لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا ، وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران اس کے لئے کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا تھا جس کی تحقیقات رپورٹ مکمل ہو گئی ہے اور بڑی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے6 ماہ میں3.8 ارب ڈالر غیرملکی قرضہ واپس کردیا، غیرملکی مجموعی قرضے میں 1.7 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا ہے جبکہ دسمبر تک ساڑھے پانچ ارب ڈالر قرضے حاصل کیے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جولائی تا دسمبرغیرملکی قرضوں کی مد میں 5.5 ارب ڈالرموصول ہوئے۔ اسی طرح پاکستان نے جولائی تا دسمبر 6 ماہ کے دوران 3.8 ارب ڈالرکا غیرملکی قرضہ واپس کیا ہے۔ مجموعی غیرملکی قرض میں 1.7 ارب ڈالرکا اضافہ ہوا۔ دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا اور سرمایہ کاری کا حجم 1 کروڑ 8 لاکھ 52 ہزار ڈالر تک پہنچا، گزشتہ سال جنوری میں73 لاکھ 68 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی۔ جنوری میں اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کا رحجان رہا ، رواں سال پورٹ فولیوسرمایہ کاری34 لاکھ 83 ہزارڈالر زائد رہی
