لاپتہ امریکی نژاد پاکستانی خاتون کے کیس کا ڈراپ سین

دو ماہ پہلے پاکستان پہنچنے کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والی پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ کو زندہ بازیاب کروانے کی امریکی حکام کی کوششیں تب ناکام ہوگئیں جب خاتون کے سابقہ شوہر نے یہ انکشاف کیا کہ وہ انھیں 16 اکتوبر کو پاکستان پہنچتے ہی ہنگو لیجا کر قتل کر چکا ہے۔
اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ جائیداد کے لین دین کا تنازعہ حل کرنے کی خاطراسلام آباد پہنچنے والی پاکستانی نژاد امریکی شہری وجیہہ سواتی 16 اکتوبر سے پراسرار طور پر لاپتہ تھیں جن کی بازیابی کے لئے امریکی سفارت خانے پہنچنے والی ایف بی آئی ٹیم پاکستانی پولیس سے مل کر مغویہ کو بازیاب کروانے کی کوششوں میں مصروف تھی۔ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اسلام آباد پولیس کو 30 دسمبر تک وجیہہ کو بازیاب کروانے کی مہلت دی تھی جس کے بعد مقتولہ کے دوسرے شوہر رضوان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس تفتیش کے دوران رضوان نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے وجیہہ کو قتل کرکے لاش ہنگو میں اپنے ایک ملازم کے گھر دفن کر دی تھی۔
یاد رہے کہ 46 سالہ وجیہہ سواتی کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا اور وہ کئی برسوں سے امریکہ میں رہائش پذیر تھیں۔ ان کے پہلے شوہر ماہر امراض قلب تھے جن کے قتل کے بعد خاتون نے رضوان سے دوسری شادی کی تھی لیکن رضوان کے ساتھ اختلافات پیدا ہونے کے بعد وجیہہ نے طلاق لے لی تھی۔ 16 اکتوبر کو وہ اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ جائیداد کے لین دین کا معاملہ حل کرنے کی خاطر فقط چار روز کے لیے پاکستان آئی تھیں۔
خیال رہے کہ وجیہہ سواتی کے تین بیٹے ہیں، 22 سالہ بڑا بیٹا اس وقت امریکہ میں ہے جبکہ دو بیٹے جن کی عمریں بالترتیب 15 اور 10 برس ہیں، عارضی طور پر اپنی خالہ کے گھر برطانیہ میں مقیم ہیں۔
پر اسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والی امریکی شہری وجیہہ کی وکیل شبنم اعوان کا کہنا ہے کہ مغویہ تقریباً ہر سال پاکستان آتی تھیں، ان کے پہلے شوہر ماہر امراض دل تھے جنہیں پاکستان میں سال 2014 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ شبنم نے بتایا کہ وجیہہ اپنے شوہر کا آلات جراحی کا کاروبار سنبھالتی ہیں اور پراپرٹی سیکٹر میں بھی انویسٹمنٹ کرتی رہتی تھیں۔ شبنم اعوان کے مطابق وجیہہ کی اپنے دوسرے شوہر رضوان سے پہلی ملاقات یو اے ای میں ایک بروکر کی حیثیت سے ہوئی۔ وجیہہ کے بہنوئی مقصود کے مطابق رضوان نے طلاق کے بعد وجیہہ کے پیسوں سے خریدا گیا ایک گھر انکے نام کرنا تھا لیکن اب وہ ٹال مٹول کر رہا تھا۔ اسی لئے وجیہ پاکستان بھی آئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وجیہہ نے بتایا کہ رضوان نے اس کے پیسوں سے خریدی گئی گاڑیاں بھی اپنے نام کروا لی ہیں اور وہ بھی اس سے واپس حاصل کرنی ہیں. رضوان نے ستمبر 2020 میں وجیہہ کو زہریلی دوا دے کر مارنے کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ وجیہہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر 2 نومبر 2921 کو کاٹی گئی۔ یہ ایف آئی آر ان کی پہلی شادی سے ہونے والے 22 سالہ بیٹے عبداللہ نے کٹوائی جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ درخواست میں انہوں نے اپنے سوتیلے والد رضوان حبیب پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ان کی والدہ کو اغوا کیا ہے۔
وجیہہ کی گمشدگی کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے پنڈی بینچ کے جسٹس شاہد محمود عباسی کی عدالت میں رٹ پٹیشن کی سماعت ہوئی تو عدالت نے پولیس کی سرزنش کی اور اسے 30 دسمبر تک گم شدہ خاتون کو برآمد کرنے کی مہلت دی۔ ایف آئی آر کے مطابق عبداللہ نے بتایا ہے کہ ان کی والدہ 16 اکتوبر کو پاکستان آئی تھیں۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ 15 سالہ بھانجا ایان بھی تھا۔ عبداللہ کے مطابق 22 اکتوبر کی رات کو ان کی والدہ کی پاکستان سے برطانیہ واپسی کی فلائٹ تھی، میرا کزن ایان تو واپس برطانیہ پہنچ گیا لیکن میری والدہ نہیں آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ کے پاس ہی ان کے کزن کا پاسپورٹ تھا اور ان کی والدہ کے اغوا کے بعد ان کے کزن کو نئے سفری دستاویزات بنوانے پڑے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی والدہ انھیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ کر کچھ روز کے لیے پاکستان گئی تھیں جس کی وجہ اپنے سابقہ شوہر رضوان کے ساتھ جائیداد اور دیگر تنازعات کو حل کرنا تھا۔
