’لاہوری آپ کی مہمان نوازی اور کھانے کھلانے کا ڈھنگ جانتے ہیں‘

دنیا بھر میں سیاحت کے لیے مشور مقامات میں لاہور کا نام سر فہرست آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کو اس حوالے سے اپنے جذبات کے اظہار کا موقع مل گیا۔
امریکی اخبار میں تاریخی مقامات چھپنے والی رپورٹ میں قارئین کی جانب سے ایسے تفریحی مقامات شیئر کے گئے ہیں جن کی سیر نے انہیں خوشی اور تسلی دی۔ دو ہزار سے زائد مقامات کی فہرست موصول ہونے کے بعد مختلف ممالک میں سے 52 مقامات کو چنا گیا جس میں پاکستان کے شہر لاہور کی بادشاہی مسجد بھی شامل ہے۔
لاہور شہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی خاتون کا کہنا تھا کہ ’اکثر جنوبی ایشیا سے آنے والے سیاحوں کو پاکستان کا منفی تاثر دیا جاتا ہے لیکن لاہور کے لوگ مہربان اور ملنسار اور سب سے بڑھ کر مہمان نواز ہیں۔‘
اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اٹھارہ سال کی تھی۔ میرا 12 سال سے لاہور جانا نہیں ہوا تھا۔ سردیوں کی ایک شام میں جب میں اور میری والدہ بادشاہی مسجد کے قریب موجود دکانوں پر کپڑے وغیرہ دیکھ رہے تھے اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ہمارے کندھوں پر پشمینے کی گرم شالیں تھیں اور ہم نے چکن کڑاہی کا مزے دار کٹورا کھایا۔‘یہ بات بالکل درست ہے کپ لاہوری آپ کی مہمان نوازی اور کھانا کھلانے کا ڈھنگ بخوبی جانتے ہیں۔‘
معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس رپورٹ کا لنک شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’لاہور کی بہترین ثقافت، ان کی بے مثال مہمان نوازی اور مزے دار کھانے دنیا بھر کے لوگوں کے منتظر ہیں۔ یہ جگہ ہر کسی کی گھومنے پھیرنے والی فہرست میں ضرور ہونی چاہیے۔‘جہاں متعدد صارفین نے زلفی بخاری کی ٹویٹ سے اتفاق رائے کیا وہیں اکثر نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاہور کی آلودگی اور کچرے کی شکایات کا ڈھیر لگا دیا۔
ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’شاید آپ لاہور کی تعریف کے دوران وہاں کی آلودہ ہوا کے بارے میں لکنا بھول گئے۔‘
پوسٹ شیئر کرنے والے مجموعی صارفین کا کہنا تھا کہ ’لاہور لاہور اے۔‘
ایک اور ٹوئٹر صارف نے مزاحیہ انداز میں اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’لاہور اور مہمان نوازی دو الگ چیزیں ہیں میں نے کسی سے راستہ کیا پوچھ لیا وہ بھی غلط نکلا۔‘
