لاہور میںTLP اور رینجرز کے مابین تصادم،4اموات


معلوم ہوا ہے کہ اتوار کی رات چوک یتیم خانہ لاہور میں دیے گئے تحریک لبیک کے دھرنے کو ختم کروانے کے لئے ایک بڑے پولیس اور رینجرز کے مشترکہ ایکشن میں ٹی ایل پی کے 4 کارکنان فائرنگ سے جاں بحق ہوگے جبکہ درجنوں بھر شدید زخمی ہوگئے. تحریک لبیک کے سینکڑوں کارکنان کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف لاہور پولیس نے ایمبولینسز کو دھرنے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتالوں میں لے جانے سے روک دیا ہے.
بتایا گیا ہے کہ پولیس ایکشن آدھی رات کے بعد شروع کیا گیا لیکن تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے سخت مزاحمت کے بعد پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے اب تک 4 کارکنان کے مارے جانے اور درجن بھر کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق یہ ایکشن وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کے احکامات پر شروع کیا گیا جس کا مقصد 20 اپریل سے ملک بھر میں ٹی ایل پی کی جانب سے دھرنوں اور احتجاج کا منصوبہ فیل کرنا تھا۔ یاد رہے کہ تحریک لبیک نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کو بے دخل نہ کرنے اور سعد رضوی کو گرفتار کرنے کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی کال دے رکھی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا دھرنا پچھلے سات روز سے چوک یتیم خانہ لاہور میں جاری تھا جسے ختم کروانے کے لیے گزشتہ رات ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا جو ہلاکتوں پر ختم ہوا۔ تاہم تحریک لبیک کے مظاہرے اور احتجاجی دھرنے اب بھی جاری ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی مین سٹریم میڈیا اس واقعے کی کوریج اس لئے نہیں کر رہا کہ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کے بعد اس کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک درجن پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر یرغمال بنائے جانے کے بعد سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ملتان روڈ پر واقع مرکز کے آس پاس علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق سی سی پی او لاہور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے اراکین سے یرغمال پولیس افسروں کی رہائی کے لیے مذاکرات کرنے گئے تاہم مذاکرات ناکام رہے۔ کالعدم تحریک لبیک کے رہنما پولیس اہلکاروں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے بعد سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر ٹیم سمیت واپس آگئے۔
تحریک اور حکام کی جانب سے نقصانات سے متعلق متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم ریسکیو ذرائع کے مطابق 69 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہنا تھا کہ حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے لیکن بلیک میل نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے آج لاہور میں ہنگامی پریس میں کہا ہے کہ تمام اختلافات کے باوجود ناموس رسالت پر ہم سب متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغرب میں نبی کریم کے خلاف گستاخیاں اور کارٹون مقابلے کروائے گئے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوئے۔’اس سب کے بعد پاکستان میں احتجاج ہوا اور حکومت نے ایک سیاسی جماعت سے بیس اپریل تک فرانس کے سفیر کو باہر نکالنے کے لیے معاہدہ کیا لیکن قوم انتظار کرتی رہی کہ حکومت معاہدے پر عمل کرتی تاہم بیس اپریل سے قبل ایسے اقدام کئے جس سے فرانس کی حوصلہ افزائی ہوئی۔‘انہوں نے کہا کہ سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا اور اس کے ردعمل میں احتجاج یوا تاہم پہلے تو پولیس خاموش تماشائی بنی رہی لیکن جب مظاہرین نے بعض جگہوں پر قانون ہاتھ میں لیا اور پولیس پر حملے بھی کیے تو پولیس نے ردعمل میں وہ اقدامات کئے جو حکومت کےلیے مناسب نہیں تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چوک یتیم خانہ میں حکومت نے جو تشدد اور سیدھی گولیاں چلائیں اسے ہلاکوں خان اور چنگیز خان دور کی یاد تازہ ہو گئی۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے لال مسجد کے واقعے کو دہرایا ہے جب کہ پولیس کی جانب سے ظلم پر لوگوں میں اشتعال پھیلنا فطری عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلا جواز طاقت کا استعمال بند کیا جائے اور حکومت نے جو معاہدہ کیا اس پر پاسداری بھی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت فرانسیسی سفیر کو باہر نکالے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ مسلمان ایسے شخص کو برداشت نہ کرے۔‘
ملتان روڈ پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے دھرنا دیے کارکنان اور پولیس کے درمیان اتوار کی صبح جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ تحریک لبیک کے کارکنان نے نواں کوٹ کے ڈی ایس پی محمد عمر فاروق کو ایک درجن دیگر اہلکاروں کے ساتھ یرغمال بنا لیا۔ان کا زخمی حالت میں ایک ویڈیو بیان بھی تحریک لبیک کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ تھانہ نواں کوٹ کی حدود میں مشتعل افراد نے حملہ کیا اور پھر تحریک کے ہی رکن قاری فاروق نے مشتعل افراد کو روکا۔ ان کا کہنا تھا جب آپس میں معاہدہ ہوا ہے تو معاہدے کی پاسداری ہونی چاہیے۔
لاہور پولیس کے ایک ترجمان عارف رانا نے بتایا کہ تحریک لبیک کے اہلکاروں نے اتوار کی صبح تھانہ نواں کوٹ پر حملہ کر کے ایک ڈی ایس پی، پانچ پولیس اہلکاروں اور دو رینجرز کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا جس کے بعد ہم نے آپریشن شروع کیا۔ تاہم پنجاب وزیر اعلی کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بارہ اہلکاروں کے یرغمال بنائے جانے کا اعلان کیا ہے۔پولیس ترجمان عارف رانا کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے لوگوں نے وہاں آئل ٹینکر کھڑا کر رکھا ہے جس میں کم از کم 50 ہزار لیٹر پٹرول ہے اور اسی پٹرول سے بم بنا کر وہ پولیس والوں پر چلا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک پولیس کے 11 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں جنہیں لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ یہ آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے اہلکار بازیاب نہیں ہو جاتے۔
کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان شفیق امینی نے بھی ایک ویڈٰو بیان جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اتوار کی صبح پولیس نے تحریک کے لاہور مرکز پر حملہ کیا جس میں کثیر تعداد میں کارکنان زخمی ہوئے۔
تحریک لبیک پاکستان کے ایک سینیئر اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر جھڑپوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک کے لوگوں کو پولیس والوں کو یرغمال نہیں بنانا چاہیے تھا۔ ’حکومت خاموش بیٹھی ہے جبکہ یہ مسئلہ ٹیبل ٹاک سے حل کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے حکومت کو سامنے آنا چاہیے۔ تحریک کی سنجیدہ لیڈرشپ سامنے نہیں آ رہی۔ پیر افضل قادری جیسے سینئیر رہنماؤں کو سامنے لا کر صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے وسطی ایشا اور بین المذاہب، مولانا حافظ طاہر اشرفی نے اس ساری صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘تحریک لبیک اب ایک کالعدم جماعت ہے۔ انہوں نے پولیس اور رینجر اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں یہ ایکشن ہوا۔ جہاں تک اسلام اور ناموس رسالت کا تعلق ہے، پاکستان کا موقف وہی ہے جو پوری امت مسلمہ کا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ یہ پر امن ہو کر ہمارے ساتھ مل کر بین القوامی سطح پر ناموس رسالت کے مسئلے کو اجاگر کریں نہ کے تشدد کا راستہ اپنائیں، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچائیں یا سکیورٹی فورسز کو یرغمال بنائیں۔‘ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ وزیر داخلہ ان سے پہلے مذاکرات کر رہے تھے لیکن انہوں نے بات نہیں سنی۔ ’جب تک یہ پرامن نہیں ہوتے تب تک ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ پر تشدد راستہ چھوڑ کر امن کی زندگی کی طرف لوٹیں اور اگر یہ ریاست کی عمل داری کو چیلنج کریں گے تو ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا پڑیں گے جو کہ وہ اٹھائے گی۔’
دوسری جانب صبح سے جاری جھڑپوں میں ریسکیو کے حوالے سے بھی تحریک کے کچھ کارکنان کے ویڈیو بیان سامنے آئے کہ جھڑپوں کے دوران حکومت نے ریسکیو 1122 کو جائے وقوعہ پر مدد مہیا کرنے سے منع کیا ہے اور اسی لیے صرف ایدھی کی ایمبولینسیں یہاں کام کر رہی ہیں۔
اس حوالے سے ریسکیو 1122 کے ترجمان محمد فاروق نے بتایا کہ ‘ریسکیو کا یہ کام ہے کہ تمام زخمیوں کو بلاامتیاز مدد مہیا کرے۔ لیکن ہم یہ سروسز تب مہیا کر سکتے ہیں جب آگے ہمارے لیے حفاظت اور راستہ کلیئر ہو۔ وہاں دونوں طرف کنٹینر لگے ہوں تو ایمبولینس اندر کیسے جائے گی؟’
دوسری جانب ریسکیو کے ہی ایک ذرائع نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تحریک لبیک اور پولیس کی جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والوں کی تعداد 69 ہے۔ 46 کو معمولی زخموں کی طبی مدد دے کر گھر بھیج دیا گیا جبکہ 23 کو ہسپتال منتقل کیاگیا جن میں 11 پولیس اہلکار اور 12 شہری شامل ہیں۔اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ریسکیو 1122 نے اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی تھی لیکن تحریک لبیک کے کارکنان ریسکیو 1122 پر اعتماد نہیں کر رہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ہم انہیں ایمبولینس میں لے جا کر اغوا کر لیں گے یا پولیس کے حوالے کر دیں گے۔پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنان کے درمیان جاری جھڑپوں کے بعد سے چوک یتیم خانہ اور ارد گرد کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے جبکہ ٹریفک کا گزر بھی اس علاقے سے بند کر کے ڈائیورشن لگا دی گئی ہے۔
لاہور پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکن اورنج ٹرین کی چھت پر چڑھے ہوئے ہیں جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر ہیں۔ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے تقریریں کی جا رہی ہیں اور لوگوں کو بلایا جا رہا ہے۔
کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ چند روز قبل شروع ہوا تھا جب پولیس نے تحریک کے سربراہ سعد حسین رضوی کو جو تحریک کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں، گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد تحریک کے مشتعل ارکان سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے پاکستان بھر میں بڑی شاہراؤں کو بند کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ پولیس والوں کو مختلف مقامات پر تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
وزیر اعلی پنجاب کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹر پر دو ٹویٹس میں بتایا کہ اتوار کی صبح پٹرول بموں اور تیزاب کی بوتلوں سے لیس متشدد جتھے نواں کوٹ پولیس سٹیشن پر حملہ آور ہوئے۔ جہاں رینجرز اور پولیس اہلکار محبوس ہوگئے اور تقریباً چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ متشدد جتھے ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت ایک درجن پولیس اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر اغوا کرکے اپنے مرکز لے گئے۔
آج صبح پٹرول بموں اور تیزاب کی بوتلوں سے لیس متشدد جتھے نواں کوٹ پولیس سٹیشن پر حملہ آور ہوئے۔ جہاں رینجرز اور پولیس اہلکار محبوس ہوگئے اور تقریباً 6پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ متشدد جتھے DSP نواں کوٹ سمیت 12پولیس والوں کو اسلحے کے زور پر اغواء کرکے اپنے مرکز میں لے گئے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پولیس کی طرف سے کوئی آپریشن پلان یا شروع نہیں کیا گیا اور جوابی کارروائی صرف دفاع اور مغوی پولیس اہلکاروں کو بچانے کی لیے کی گئی۔ اس سے پہلے ان جتھوں کے ہاتھوں چھ پولیس اہلکار ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کسی صورت میں اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اس لیے حکومت کے پاس اپنی رٹ قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو تین ماہ تک مذاکرات کی کافی بات کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ کالعدم تنظیم نے 192 مقامات بلاک کیے تھے، ان میں سے 191 کلیئر ہوگئے ہیں محض ایک جگہ مسئلہ ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں امن وامان کی صورت حال اب معمول پر آگئی ہے اور حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کو ممکنہ طور پر بہترین طریقے سے نمٹایا ہے۔راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں زخمی پولیس اہلکاروں کی خیریت دریافت کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس سلسلے میں کسی بھی غیر ملکی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا اقدام خالصتاً پاکستان کا داخلی فیصلہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button