لاہور کی مہناز ملک ورلڈ بینک ٹربیونل کی جج کیسے بنیں؟

ورلڈ بینک ٹربیونل کی پاکستانی نژاد جج مہناز ملک جنھیں بینظیر نے کہا تھا ’مہناز پاکستان کے لیے بہت کچھ کریں گی نے آج واقعی محترمہ شہید بینظیر کے الفاظ کو سچ ثابت کر دکھایا ہے۔
مہناز ملک نے بتایا کہ اپنے کیریئر کی پہلی ہی پیشی کے دوران ایک انتہائی اہم اور حساس کیس میں مجھے ٹریبونل کے ایک جج کی جانب سے نامناسب فقروں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی ہی پیشی پر نامناسب فقرے سُن کر چند لمحوں کے لیے میں گھبرائی کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ پھر میں نے اپنے حواس کو قابو میں رکھتے ہوئے اُن کو مناسب جواب دیا اور وہ کیس بھی جیتا۔
پاکستان کے شہر لاہور میں پیدا ہونے والی مہناز نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کی تھی جس کے بعد وہ سکالرشپ پر قانون کی تعلیم حاصل کرنے کیمبرج یونیورسٹی گئیں اور صرف 24 سال کی عمر میں برطانیہ میں ’لا سوسائٹی نیشنل ٹرینگ لائیرز آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے کریئر کا باقاعدہ آغاز کیا، مہناز ملک یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون تھیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے ایک بہت ہی سینیئر قانون دان کے ساتھ پریکٹس کا آغاز کیا تھا۔ ’ایک انتہائی اہم کیس سے پہلے وہ بیمار ہو گئے، جب کیس کی تاریخ پڑی تو وہ اس میں پیش ہونے کے قابل نہیں تھے۔ اب مجھے ہی اس میں پیش ہونا تھا۔ یہ انتہائی اہم لمحہ تھا۔ کیس اہم تو تھا ہی مگر یہ میری کریئر کی شروعات بھی تھیں۔‘
مہناز ملک نے بتایا کہ ہماری لا فرم جس کی قیادت بہت ہی سینئر قانون دان کرتے تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں مجھے نمائندگی کرنا تھی، کیریئر کا پہلا کیس ہو تو وہ بندہ ویسے ہی بہت محتاط ہو جاتا ہے مگر اس کے لیے میں نے بھرپور تیاری اور محنت کی تھی۔
مہناز ملک کے مطابق اِس ابتدائی یادگار کیس کامیابی کے بعد انھوں نے انڈونیشیا کے دو کیس بھی کامیابی سے جیتے اور اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا یہاں تک کہ بین الاقوامی تنازعات کے مقدمات میں اُن کا ایک نام بن گیا۔
میں چھوٹی تھی تو اس وقت میرے نانا کے گھر میں بے نظیر بھٹو آئی تھیں۔ میرے نانا نے اس وقت کہا تھا کہ یہ مستقبل میں پاکستان کی وزیراعظم ہوں گی۔ مجھے اس وقت سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ خاتون کیسے ملک کی وزیر اعظم ہوں گی؟ وہ ہمارے گھر آئیں تو ان کی سب کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ جب میری باری آئی تو انھوں نے آٹو گراف لکھا کہ مہناز پاکستان کے لیے بہت کچھ کریں گی۔ وہ الفاظ صرف میرے لیے تھے، مجھے اس پر بہت خوشی ہوئی۔
یہی وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کا یہ جملہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا اور اسی کے باعث میرا بے نظیر سے ان سے کافی رابطہ بھی رہا، مہناز ملک بتاتی ہیں کہ جب وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن گئیں تو اُن کا بے نظیر بھٹو سے اکثر رابطہ ہوتا تھا۔ بے نظیر بھٹو بھی آئس کریم کی شوقین تھیں اور میں بھی۔ ہم دونوں اکثر شام کو مل کر لندن میں اچھی آئس کریم تلاش کیا کرتے تھے۔اُس وقت میری بے نظیر کے ساتھ لمبی بات چیت ہوتی تھی۔
ایک مرتبہ تو وہ بہت تنگ ہوئیں اور مجھ سے کہا کہ مہناز تم بہت اچھی ہو، مجھ پر تنقید مت کیا کرو، میں پہلے ہی بہت تنقید سنتی ہوں اور تنقید سن سن کر تنگ آ گئی ہوں، میں نے بے نظیر کا انٹرویو کیا۔ یہ انٹرویو کافی پسند کیا گیا تھا۔
مہناز ملک بتاتی ہیں کہ کم عمری میں اُن کی کتاب کو ایوارڈ ملا تھا۔ ’میری کتاب میں موجود ایک کہانی کو بی بی سی نے بھی نشر کیا تھا، اور اُس زمانے میں دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی اس پر خبریں شائع کی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ زندگی میں میں نے بہت محنت کی ہے اور 18 سال کی عمر کے بعد کبھی والدین سے پیسے نہیں لیے، مہناز بتاتی ہیں کہ مجھے کیمبرج میں مکمل سکالر شپ ملا تھا جس میں رہائش، ٹیوشن فیس وغیرہ سب کچھ شامل تھا۔ اس لیے دوران تعلیم تو مجھے جتنے پیسے ضرورت ہوتے تھے وہ وہاں سے مل جاتے تھے، بلکہ ایسا ہوتا تھا کہ جب چھٹیاں ہوتی تھیں تو میں پاکستان چلی آتی تھی، جس کی وجہ سے کچھ پیسے تو بچ بھی جاتے تھے۔
میں سمجھتی ہوں کہ جب دل میں لگن ہو اور آپ محنت کر رہے ہوں تو پھر کچھ بھی ناممکن اور مشکل نہیں رہتا ہے، میری زندگی میں ایسا ہو چکا ہے۔ میں صرف 24 سال کی عمر ہی میں بین الاقوامی ٹریبونل میں پیش ہونا شروع ہو گئی تھی اور پھر آئی سی ایس آئی ڈی کی تاریخ میں دنیا کی کم عمر ترین خاتون جج بن گئی ایسا اس وجہ سے ممکن ہوا کہ رکاوٹوں کے باوجود میری منزل واضح تھی اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ خلوص نیت سے محنت تھا۔
