لاہور کے حلقہ 127سے پیپلز پارٹی کی فتح یقینی کیوں؟

پاکستان میں عام انتخابات کے حوالے سے جہاں دیگر سیاسی جماعتیں ٹکٹوں کی تقسیم کے مراحل میں الجھی دکھائی دیتی ہیں وہیں دوسری طرف نہ صرف پیپلزپارٹی نے اپنے امیدوار انتخابی میدان میں اتار دئیے ہیں بلکہپاکستان میں 8 فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے پیپلزپارٹی نے باقاعدہ طور پر اپنی الیکشن مہم کا آغاز لاہور سے کر دیا ہے۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی اس حلقے سے کامیابی کے لیے خصوصی منصوبہ بندی رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ سے اپنے آبائی حلقے کے ساتھ ساتھ لاہور کے حلقہ این اے 127 سے بھی قومی اسمبلی کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں جو اعتراضات کے باوجود ریٹرننگ افسر نے منظور کر لیے ہیں۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ این اے 127 میں فتح کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کیا ہو گی اور یہ حلقہ پارٹی کے لیے اتنا اہم کیوں ہے، اس پر بات کرنے سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں لاہور کا حلقہ این اے 127 نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے بعد کن کن علاقوں پر مشتمل ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عام انتخابات 2024 کے لیے جاری کی گئی حلقہ بندیوں کا جائزہ لیا جائے تواس حلقے کا مرکزی حصہ ٹاؤن شپ، گرین ٹاؤن، کوٹ لکھپت اور چونگی امرسدھو کی گنجان آبادیوں پر مشتمل ہے۔صرف یہی نہیں اس علاقے میں دو گنجان آباد مسیحی بستیاں مریم کالونی اور بہار کالونی بھی ہیں۔قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ بھی اسی حلقے میں ہے جبکہ ماڈل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن اور فیصل ٹاؤن کے کچھ علاقے بھی حلقہ این اے 127 میں شامل ہیں۔اس حلقے کی کل آبادی 9 لاکھ کے قریب نفوس پر مشتمل ہے جبکہ یہاں چار لاکھ کے قریب ووٹرز ہیں۔

اس بات کو سمجھنے سے پہلے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے آخر بلاول بھٹو زرداری کو اس حلقے سے میدان میں کیوں اُتارا؟ اس حلقے کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

دو دہائیوں پر محیط سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو سال 2002 میں جب پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت زیر عتاب تھی اور چوہدری برادران کی مسلم لیگ ق کا دور دورہ تھا۔ عام انتخابات 2002 میں اس حلقے سے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری منتخب ہوئے۔ انہوں ق لیگ کے اس وقت کے امیدوار عبدالعلیم خان اور ن لیگ کے نصیر بھٹہ کو شکست دی تھی۔

سنہ 2008 کے انتخابات میں ن لیگ کی قیادت جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ چکی تھی تو اس حلقے سے نصیر بھٹہ نے پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر ریاض اور ق لیگ کے عبدالعلیم خان کو شکست دی۔

اسی طرح سنہ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں یہ سیٹ ن لیگ کے پاس رہی۔ تاہم 2018 حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے باعث اس حلقے کا نمبر این اے 133 ہو چکا تھا اور یہاں سے مسلم لیگ ن کے لاہور کے صدر پرویز ملک منتخب ہوئے تھے۔

سیاسی اور انتخابی تجزیہ کار افتخار احمد بتاتے ہیں کہ ’2021 میں پرویز ملک کا انتقال ہوا تو ان کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک نے حصہ لیا۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی بیس 22 ہزار ووٹ تھے، پیپلزپارٹی نے اسی کو دوبارہ واپس لینے کے لیے اسلم گل کو شائستہ پرویز ملک کے مقابلے میں کھڑا کیا۔ زرداری نے اس الیکشن میں بہت دلچسپی لی۔ انہوں جو بھی طریقہ اپنایا وہ کام کر گیا اور ضمنی انتخابات میں انہوں نے 33 ہزار ووٹ حاصل کیے حالانکہ پرویز ملک کے مقابلے میں پی پی نے ساڑھے پانچ ہزار ووٹ لیے تھے اور ٹی ایل پی سے بھی پیچھے رہے تھے۔‘

اسی حلقے کے ووٹر اور سینیئر صحافی نعیم قیصر کے مطابق’اس حلقے میں دو بڑی مسیحی بستیاں بہار کالونی اور مریم کالوںی ہیں۔ ان کا ووٹ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اپنے آپ کو لبرل جماعت قرار دینے والی پیپلزپارٹی کے لیے اس ووٹ کو سمیٹنا بظاہر آسان ہدف ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جب طاہرالقادری اس حلقے سے جیتے تھے تو انہوں نے اپنی وکٹری سپیچ میں کہا تھا کہ ان کو 54 ہزار مسیحیوں نے ووٹ ڈالا ہے۔‘

اقلیتی برادری کے ووٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے فیکٹر بھی ہیں۔ افتخار احمد کہتے ہیں کہ ’ضمنی انتخابات میں زرداری فارمولہ کامیاب ہونے کے بعد اسی وقت ہی فیصلہ ہو گیا کہ بلاول کو لاہور سے اسی نشست پر الیکشن لڑوایا جائے گا۔ اگر بلاول لاہور سے یہ سیٹ جیتتے ہیں تو یہ علامتی طور پر ایک بڑی بات ہو گی اور یہی پیپلزپارٹی چاہتی ہے جس کا ووٹ بینک لاہور میں بہت کمزور ہو چکا ہے۔‘

سنہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کے اعجاز چوہدری نے اس حلقے سے 77 ہزار ووٹ لیے تھے تاہم وہ پھر بھی 12 ہزار ووٹوں سے ن لیگ کے پرویز ملک سے ہار گئے تھے۔ نعیم قیصر کہتے ہیں کہ ’طاہر القادری چونکہ شریف خاندان کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے انہیں ن لیگ کے ووٹ بینک کا فائدہ بھی ہوا۔ اس حلقے میں نواز شریف آخری بار 95 کے انتخابات میں خود الیکشن مہم چلانے آئے تھے۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی نہیں آئے لیکن ان کا اُس وقت کا ووٹ بنک اس علاقے میں موجود ہے۔ اور جس کسی کو بھی ن لیگ کی ٹکٹ ملی وہی جیتا۔‘مسلم لیگ ن کی طرف سے ابھی تک اس حلقے میں کسی امیدوار کا تعین نہیں کیا گیا تاہم ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ ن لیگ کے عطااللہ تارڑ سال 2024 کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے۔

Back to top button