لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ مری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

سانحہ مری کیس کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کی جانب سے محفوظ کر لیا گیا ہے، دوران سماعت جسٹس چودھری عبدالعزیز نے ریمارکس دیئے کہ پتا نہیں قوم کا ضمیر کب جاگے گا، لوگوں میں احساس ذمہ داری ہی نہیں۔
ایڈووکیٹ جلیل اختر نے دلائل دیئے کہ 3 کنال مجموعی طور پر جگہ تھی جو پارکنگ پلازہ کیلئے مختص تھی، اس پر عدالت نے کہا کہ آئیڈیا طے ہوا رقم مختص ہوئی پھر سب ختم ہو گیا ، پھر یہ پیسہ کہاں گیا ؟کسی کے باپ کا نہیں ،مزدوروں کا پیسہ ہے، کیا یہ کوئی مغلیہ سلطنت ہے۔
مری ایکسپریس وے پر غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں، مری میں محکمےکی غفلت کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات ہوئیں، محکمہ کی غفلت کی وجہ سے لوگوں کا پیسہ ضائع ہوا، اگر آج تعمیرات گرا دیں تو لوگوں کے اربوں روپے ضائع ہوجائیں گے، محکمے نے غیرقانونی تعمیرات سے روکا ہوتا تو یہ پیسہ مناسب جگہ لگا ہوتا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور جسٹس عبدالعزیز نے کہا کہ سانحہ مری کے کیس کو کلوز کررہا ہوں اس کا فیصلہ جلد کروں گا، خیال رہےکہ 7 اور 8 جنوری کی رات کو مری میں برفانی طوفان اور رش کے باعث 23 افراد اپنی گاڑیوں میں انتقال کرگئے تھے، انتقال کرجانے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے۔
