لندن میں مقیم الطاف حسین کو بے گھر ہو جانے کا خطرہ

پچھلے تیس برس سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے ایم کیو ایم کے بانی بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ الطاف حسین کی سات برطانوی جائیدادیں خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ ایم کیو ایم پاکستان نے ان تمام جائیدادوں کا قبضہ چھیننے کے لئے جو کیس دائر کیا تھا اس کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔ ان جائیدادوں کی مالیت کا تخمینہ 10ملین پاؤنڈز سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ الطاف کے خلاف اس عدالتی جنگ میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر سید امین الحق، وائس آف کراچی کے رہنما ندیم نصرت اور الطاف کے سابق ساتھی طارق میر شامل ہیں۔ ان تینوں نے شمالی لندن کے پوش علاقے میں واقع سات مہنگی ترین جائیدادوں کے کنٹرول کے لیے عدالت میں الطاف حسین کے خلاف ہاتھ ملا لیا ہے اورانہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اسکے علاوہ کراچی سے فاروق ستار اور وسیم اختر بھی لندن کی عدالت میں الطاف حسین کے خلاف لائیو ویڈیو گواہی دیں گے۔

 

یاد رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ایما پر سید امین الحق نے پارٹی کے بانی کے خلاف جن جائیدادوں کا کنٹرول حاصل کرنے کا مقدمہ دائر کیا ہے ان میں مل ہل میں واقع ایبی ویو کا گھر بھی شامل ہے جہاں الطاف حسین اس وقت خود رہائش پذیر ہیں؛ اسکے علاوہ لندن میں مہنگی ترین ایج ویئر روڈ پر واقع ون ہائی ویو گارڈن بھی شامل ہے، اسی طرح ایج ویئر کے علاقے میں ہی فائیو ہائی ویو گارڈنز کی ملکیت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جہاں الطاف حسین کے کزن افتخار حسین رہتے ہیں، ایج ویئر کے علاقے میں ہی واقع 185 وِچ چرچ لین کی ملکیت بھی عدالت ہی طے کرے گی جو کہ اس وقت ایم کیو ایم لندن کے زیرِ استعمال ہے؛ اسکے علاوہ دیگر متنازعہ جائیدادوں میں ایج ویئر کے علاقے میں 221 چرچ لین اور مل ہل میں 53 بروک فیلڈ ایونیو بھی شامل ہیں۔ ایک اور متنازعہ جائیداد ایج ویئر کے علاقے میں واقع الزبتھ ہاؤس ہے جو ایم کیو ایم کا انٹرنیشنل سیکرٹریٹ ہوا کرتا تھا۔

 

عدالتی کاغذات کے مطابق مدعی سید امین الحق نے بطور مدعی الطاف حسین، ان کے بھائی اقبال حسین، طارق میر، محمد انور، افتخار حسین، قاسم علی رضا اور یورو پراپرٹی ڈویلپمنٹ لمیٹڈ کے خلاف کیس کیا ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان پراپرٹیز کی اصل بینیفشری ایم کیو ایم پاکستان ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے لندن میں دائر کئے گئے مقدمے میں لندن میں واقع پراپرٹیز پر دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ کچھ برس پہلے الطاف حسین کی شرانگیز تقریر کی وجہ سے ایم کیو ایم کے دولخت ہوجانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے سابق سربراہ اور بانی کو براہ راست چیلنج کیا ہے۔ اس کلیم کا مقصد ہائی کورٹ سے یہ واضح فیصلہ حاصل کرنا ہے کہ الطاف حسین اور انکے ساتھی ٹرسٹیز کی حیثیت سے جس پراپرٹی پر قابض ہیں، وہ ایم کیو ایم پاکستان کی ملکیت ہے۔ عدالت میں اس حوالے سے ٹرسٹ کے مخصوص ڈاکومنٹس بھی پیش کئے گئے ہیں جن کی بنیاد پر الطاف حسین کے خلاف فیصلہ ہونے کا قویٰ امکان موجود ہے۔ الطاف کے ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ جائیداد اپنے نام منتقل کرنے کا بانی ایم کیو ایم کا مطالبہ نا مناسب ہے، کیونکہ یہ تنظیم کی ملکیت ہیں۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے لندن کے علاقے ایج ویئر میں موجود صرف 2 مکانات کی پاکستانی روپوں میں مالیت تقریباً 36 کروڑ 88 لاکھ روپے بنتی ہے۔

Back to top button