عمران خان کی ہفتے میں اہلخانہ سے ایک بارملاقات،بیٹوں سے2باربات کرانےکاحکم

سپریم کورٹ نےعمران خان کی ہسپتال منتقلی و اہلخانہ کی ملاقات، بیٹوں سے ہفتے میں 2 بار ٹیلیفون پر بات کرانے کاتحریری فیصلہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق آج کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے تحریری فیصلہ قلم بند کیا۔

تحریری فیصلے کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے علاج کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں عمران خان کی آنکھ کا ریٹینا کے ماہر سے علاج اور ذاتی معالجین تک رسائی دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے طبی رپورٹ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت میں بظاہر خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے عبوری طور پر عمران خان کے فوری طبی معائنے اور علاج کے لیے مناسب انتظامات کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے عمران خان کا مکمل طبی ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے گرفتاری سے اب تک تمام ٹیسٹ رپورٹس، نسخے، طبی آرا اور علاج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران عمران خان کی اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں، جبکہ ان کے خلاف زیر سماعت، زیر حراست، ٹرائل یا سزا یافتہ تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

تحریری فیصلے میں عمران خان کو آئندہ دو روز میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے اور طبی معائنے و علاج کے لیے 5 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان کو بھی طبی معائنے اور علاج میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو عمران خان سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک ملاقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں اپنے بیٹوں سے ہفتے میں 2 مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم بھی دیا ہے۔

Back to top button