لڑکی سے ہراسانی پر عمران خان تنقید کی زد میں کیوں؟


پاکستانی شوبز شخصیات نے وزیر اعظم عمران خان سے خواتین کو ہراساں کرنے اور انکی سرعام تذلیل میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے زبانی کلامی نوٹس تو بہت لے لئے لیکن اب انہیں عملی طور پر بھی کچھ کر کے دکھانا ہوگا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں اسی مائنڈ سیٹ کے لوگ ملوث ہیں جو عمران خان کی طرح عورت کو ہی اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
شوبز شخصیات نے وزیر اعظم عمران خان سے یوم آزادی کے موقع پر گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعے پر سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل یہ وہی لوگ ہیں جو طالبان ٹائپ فرسٹیٹڈ مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے مینار پاکستان والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔ حسب سابق اس واقعے کا بھی نوٹس لینے اور اس کی رپورٹ طلب کرنے پر شوبز شخصیات نے عمران خان کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ دراصل مینارپاکستان پر انہی لوگوں نے ایک نہتی لڑکی کو ہراساں کیا جو عمران خان کے عورتوں کے حوالے سے حالیہ بیانات سے متاثر ہیں۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم کچھ عرصہ پہلے یہ بیان دے چکے ہیں کہ ریپ ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ ایسا انکے فحش لباس کی وجہ سے ہوتا یے۔ اسی لئے اب سوشل میڈیا پر خان صاحب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرام تو سبز اور سفید رنگ والے جھنڈے پر مشتمل لباس پہن کر مینار پاکستان گئی تھی پھر اسکے ساتھ یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟
اداکارہ غنا علی نے مینار پاکستان واقعے کا نوٹس لیے جانے کے بعد وزیر اعظم سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا اور انہیں مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی نوٹس لیتے ہیں لیکن عملی طور پر ہوتا کچھ بھی نہیں اور بات کچھ عرصہ بعد آئی گئی ہو جاتی ہے۔ غنا نے وزیراعظم کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زبانی کلامی بہت نوٹس لیے ہیں، اب وہ کچھ کر کے بھی دکھائیں۔ اداکارہ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ نور نقدم کا بھی نوٹس لیا گیا اور مینار پاکستان کے واقعہ کا نوٹس ہی لیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نوٹسز سے آگے بھی بات بڑھ پائے گی یا نہیں؟ اداکارہ ہانیہ عامر نے بھی وزیر اعظم سے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے فرسٹریٹڈ مرد حضرات پر کرفیو نافذ کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیراعظم عورت کے حقوق کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہو وہاں اسی طرح کے واقعات پیش آئیں گے۔ اداکارہ ثنا جاوید نے لاہور واقعے پر کمنٹ کرتے ہوئے کہا کہ خاتون پر حملہ کرنے والے مرد حضرات سے تو روبوٹ اچھے ہوتے ہیں۔ وہ دراصل وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کی طرف اشارہ کر رہی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں ہوتا کہ عورت عریاں لباس پہن کر پھرے اور مرد کوئی حرکت نہ کرے۔ ثنا نے کہا کہ مینار پاکستان پر لڑکی کو نوچنے والے 400 افراد جہنم کے حقدار ہیں۔اپنے ردعمل میں گلوکارہ قرت العین بلوچ نے لاہور واقعے کو وزیر اعظم عمران خان کے بیانات کا نتیجہ قرار دیا اور انہیں اپنی پوسٹ میں مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ وہی ایسے بیانات دیتے ہیں، جن سے خواتین غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔اداکارہ ماورہ حسین نے بھی خاتون پر حملے کے بعد سوال کیا کہ کیا اس میں بھی ان کے لباس کا قصور تھا؟
شوبز شخصیات کے علاوہ دیگر شخصیات نے بھی وزیر اعظم اور حکومت سے خاتون کو ہراساں کرنے والے ملزمان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ معروف گلوکار جواد احمد نے سوال کیا کہ کیا یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان جسے وہ ریاست مدینہ میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ خیال رہے کہ 14 اگست کے روز ٹک ٹاکر عائشہ کو مینار پاکستان پر سینکڑوں افراد نے 3 گھنٹے تک ہراساں کیا تھا جسکے بعد 17 اگست کو اس کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ لاہور میں لاری اڈہ تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر 6 ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں کہ 400 لوگوں نے ان سب پر حملہ کر دیا اور اسے کئی گھنٹے تک نوچتے رہے جس سے اس کے جسم کے ہر حصے پر نشان پڑ گئے۔ دوسری جانب لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد سے 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو کہ اس واقعے میں ملوث تھے اور دیگر ملزمان کو بھی ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Back to top button