لیگی قیادت نے ٹک ٹاک MNAکی چھٹی کیسے کروائی؟

مسلم لیگ ن کی جانب سے معروف ٹک ٹاکر مریم اکرام کو خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے ممبر قومی اسمبلی کی نشست کیلئے منتخب کرنے کے بعد پارٹی کے اندر اور باہر سے ایسی تنقید شروع ہوئی کہ پارٹی کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مریم اکرام مسلم لیگ (ن) کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز بناتی رہی ہیں اور فالوورز، لائکس حاصل کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے کیمپوں (خاص طور پر زمان پارک کے اجتماعات میں) میں بھی جاتی رہی ہیں۔جب مریم اکرام کا نام مسلم لیگ (ن) کی مخصوص نشستوں کے امیدواروں کی فہرست میں آیا تو پارٹی قیادت کیجانب سے سخت کی گئی، کئی رہنماؤں نے ان کا نام فہرست سے نکالنے کا مطالبہ کیا، (ن) کی سینئر خاتون کارکن نے سوال کیا کہ ’ایک نامعلوم لڑکی کو خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے بننے کے لیے کیوں منتخب کیا گیا، جب کہ ہم برسوں سے پارٹی کی خدمت کر رہے ہیں؟مریم اکرام کو سماجی شراکت یا پارٹی سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سپورٹر تھیں جنہوں نے فوری پیسہ کمانے کے لیے ٹک ٹاک اور یوٹیوب ویڈیوز کا سہارا لیا۔ لیگی یوٹیوبرز نے تسلیم کیا کہ مریم اکرام زمان پارک میں پی ٹی آئی کیمپ میں چھپ کر ویڈیوز بناتی تھیں اورسوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اکتوبر 2022 کی ہے۔ٹویٹر صارفین نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں انہوں نے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو اب وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی کہ انہیں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزد امیدواروں کی فہرست سے نکال دیا جائے، پارٹی نے فوری طور پر اس ہدایت پر عمل کیا اور یوٹیوبر سے کہا کہ وہ اپنی اسمبلی کی نامزدگی سے دستبردار ہو جائیں۔تاہم اب امکان ہے کہ یوٹیوبر مریم اکرم 19 مارچ سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنی نامزدگی واپس لینے کے بارے آگاہ کریں گی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مریم اکرام نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی ملک کی مجموعی صورتحال پر کچھ پوسٹ اپلوڈ کی تھیں۔انہوں نے اپنی نامزدگی کے حوالے سے اپنی ابتدائی ٹوئٹ میں نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف، پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطاء اللہ تارڑ اور شیزا فاطمہ خواجہ کا شکریہ ادا کیا تھا۔پارٹی رہنماؤں کے ردعمل کے بعد انہوں نے ٹویٹ کیا کہ کچھ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے انہیں قومی اسمبلی کی نشست دینے پر اعتراض کیا تھا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے پارٹی کارکنوں کی تنقید پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن پارٹی کی حمایت جاری رکھوں گی۔

Back to top button