ماں بیٹی سے زیادتی کرنے والا رکشہ ڈرائیور ، ساتھی گرفتار

چوہنگ پولیس نے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) ایونیو میں ماں اور بیٹی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر لیا۔واقعے کی پیشرفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جس کی شناخت رکشہ ڈرائیور عمر فاروق کے نام سے ہوئی۔

کچھ دیر بعد پولیس نے دوسرے ملزم منصب کو بھی گرفتار کرلیا۔ذرائع نے کہا کہ ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ وہ پہلے بھی دو ریپ کیسز میں گزشتہ سال اور 2018 میں لاہور اور اوکاڑہ میں گرفتار ہوچکا ہے۔قبل ازیں ملزمان کے خلاف خاتون کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 (ریپ پر سزا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق 35 سالہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اور ان کی بیٹی بس سے اتوار کی رات 10 بجے وہاڑی سے لاہور پہنچی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے آفیسرز کالونی، صدر کنٹونمنٹ بورڈ میں اپنی بہن کے گھر جانے کے لیے ٹھوکر بس ٹرمینل سے سبز کلر کا رکشہ کرایا۔انہوں نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور اور رکشے میں موجود دوسرا شخص ایل ڈی اے ایونیو میں سنسان جگہ پر لے گئے جہاں انہوں نے انہیں اور ان کی بیٹی سے زیادتی کی۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ گاڑی کی لائٹ دیکھ کر دونوں نے شور مچایا جو ان کے قریب آکر رک گئی، جبکہ رکشہ ڈرائیور اور دوسرا ملزم رکشہ چھوڑ کر فرار ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان ان کا موبائل اور 5 ہزار نقدی بھی لے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی چیخیں سن کر کسی نے پولیس کو کال کی جو کچھ دیر بعد جائے وقوع پر پہنچی۔ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگر ملزمان ان کے سامنے آئیں تو وہ انہیں پہچان لیں گی۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) لاہور غلام محمود ڈوگر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور پولیس نے ملزم کا رکشہ قبضے میں لے لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کی تھی۔انہوں نے سی سی پی او کو ملزمان کو 48 گھنٹوں میں گرفتار کرکے متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی تھی۔

Back to top button