متنازعہ گورنرسندھ کامران ٹیسوری سے استعفیٰ مانگ لیا گیا


طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایجنسیوں کے مخبر کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد اب موصوف سے استعفے مانگ لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کامران ٹیسوری کے گورنر بنائے جانے پر نالاں تھیں لہذا انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ہوگیا ہے اور اگلے چند روز میں کامران ٹیسوری اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کامران ٹیسوری استعفیٰ مانگے جانے کے باوجود پس و پیش سے کام لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی فیس سیونگ فراہم کی جائے چونکہ انہیں گورنر سندھ کا حلف اٹھائے ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا۔

اسٹیبلشمنٹ کے اصرار پر ایک متنازعہ اور دو نمبر شخص کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ نہ صرف عوامی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں آیا تھا بلکہ اس نے ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ایم کیو ایم والوں کا کہنا ہے کہ جس طرح ماضی میں فروغ نسیم کو انکی جماعت کے کھاتے میں وزیر قانون بنایا گیا تھا اسی طرح اب ان کے کھاتے میں ٹیسوری کو گورنر سندھ بنا دیا گیا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ وہ ایجنسیوں کا آدمی ہے اور اس کا متحدہ سے کوئی تعلق نہیں۔ یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کو چند برس پہلے ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ ہی ایم کیو ایم پاکستان سے نکال دیا گیا تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے اچانک ٹیسوری کو نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان میں واپس لے لیا گیا بلکہ پارٹی قیادت نے اسے رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنوینر کا عہدہ بھی دے دیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کامران ٹیسوری کے گورنر تعینات ہونے پر ایم کیو ایم پاکستان کے بیشتر مرکزی رہنماؤں نے انہیں مبارکباد اور نیک خواہشات کے پیغامات تک نہیں بھیجے تھے اور ان کی تعیناتی پر خفگی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے گورنر سندھ کے لیے وفاق کو جو پانچ نام دیے تھے انہیں اسٹیبلشمنٹ نے سکیورٹی کلیئرنس نہیں دی تھی اور یہ اعتراض کیا تھا کہ ان لوگوں کیخلاف مختلف جرائم کے مقدمات درج ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ٹیسوری کے خلاف بھی مختلف نوعیت کے کیسز درج تھے اور وہ دوبئی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب بھی مطلوب ہیں۔ ٹیسوری کی ایم کیو ایم میں واپسی پر کئی رہنماؤں کی ناراضگی ابھی برقرار ہی تھی کہ اچانک انہیں گورنر تعینات کرنے کی خبر سامنے آگئی۔ یہ خبر اراکین رابطہ کمیٹی سمیت دیگر ذمہ داران کے لیے بھی حیران کن تھی۔ ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ ٹیسوری کو گورنر بنانے کا فیصلہ کہیں آسمانوں پر ہوا اور ظلم یہ کہ پارٹی قیادت کو تعیناتی سے قبل اعتماد میں بھی نہیں لیا گیا۔

کامران ٹیسوری کی تعیناتی پر ردعمل اتنا سخت تھا کہ ایم کیو ایم نے حکومت چھوڑنے کا عندیہ بھی دے دیا تھا جس کے بعد ٹیسوری کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایم کیو ایم سے اندرون خانہ دوبارہ نئے گورنر کے لیے نام مانگ لئے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے پہلے مرحلے میں گورنر سندھ کے لیے نسرین جلیل سمیت پانچ افراد کے نام پیش کیے گئے تھے جن میں نسرین جلیل، کشور زہرہ، وسیم اختر اور عامر خان بھی شامل تھے۔ ان ناموں پر غور کرنے کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے نسرین جلیل کو فائنل کیا تھا۔ تاہم نسرین کی تعیناتی پر بھائی لوگوں نے اعتراض کر دیا اور کہا کہ موصوفہ الطاف حسین کے بہت قریب رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کامران ٹیسوری کب استعفیٰ دیتے ہیں اور ان کی جگہ نیا گورنر سندھ کون تعینات ہوتا ہے؟

Back to top button