اسرائیل سازش کر رہا ہے،فوری امریکا سے معاہدے کا کوئی امکان نہیں: ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں کئی اہم نکات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے پر فوری دستخط کا امکان نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ معاہدہ بہت قریب ہے۔
میڈیا بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ ہے جبکہ ایران فی الحال جوہری پروگرام کے تفصیلی معاملات پر بات چیت نہیں کر رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر امریکا کے ساتھ مجوزہ فریم ورک یا 14 نکاتی ایم او یو کو حتمی شکل دے دی گئی تو بعد ازاں 60 روز کے اندر جوہری معاملے سمیت دیگر تفصیلات پر مذاکرات ہوں گے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مجوزہ معاہدہ جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے۔ بدلے میں ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد نہیں کرے گا، تاہم فراہم کی جانے والی خدمات کے سروس چارجز لینا معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق ایران خطے کے ساحلی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سکیورٹی اور تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیشرفت پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی سے ممکن ہوئی، جبکہ اسرائیل موجودہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی اقدامات مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ فی الحال پاکستانی حکام کے کسی سرکاری دورے یا پاکستانی وفد کی تہران آمد کا کوئی باضابطہ منصوبہ موجود نہیں۔
