مجھ پرعائد پابندی کی وجہ کوئی فرد نہیں بلکہ ادارہ ہے

ریاست پاکستان کے عتاب کا شکار معروف صحافی حامد میر


ریاست پاکستان کے عتاب کا شکار معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ان پر عائد کردہ پابندی کا تعلق کسی فرد سے نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی سوچ سے ہے، جو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن قرار دے کر دراصل اپنے جرائم چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے لیے لکھے گے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ سوال اور الزام میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سوال کا مقصد علم کا حصول ہوتا ہے اور الزام کا مقصد کسی کی کردار کشی ہوتا ہے۔ جب الزام کو سوال بنا دیا جائے تو پھر علم کے نہیں بلکہ نفرت کے دروازے کھلتے ہیں۔ سوال کا جواب مشکل اور الزام کا جواب آسان ہوتا ہے۔ سال 2021ء میں مجھے بہت سے الزامات کا سامنا تھا۔ یہ الزامات گزشتہ بیس پچیس برسوں میں لگائے جانے والے الزامات کا تسلسل تھے جنہوں نے قتل کی دھمکیوں اور پھر قاتلانہ حملوں کی شکل بھی اختیار کر لی تھی۔
حامد میر کہتے ہیں کہ یہ دھمکیاں اور قاتلانہ حملے دراصل الزامات لگانے والوں کی اخلاقی کمزوری کا ثبوت تھے۔ مئی 2021ء میں اسلام آباد کے نوجوان صحافی اسد علی طور پر ان کے گھر میں گھس کر تشدد کیا گیا جس کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر صحافیوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے سے مجھ سمیت کئی صحافیوں نے خطاب کیا۔
میرا خطاب کسی ٹی وی چینل پر نشر ہوا نہ کسی اخبار میں شائع ہوا۔ لہکن میرے لہجے کی تلخی کسی کی طبیعت پر بہت ناگراں گزری جسکے نتیجے میں جیو نیوز نے مجھ پر پابندی لگا دی۔ لیکن اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ روزنامہ جنگ میں بھی میرا کالم بند کر دیا گیا۔ میں نے جیو نیوز کی انتظامیہ کو پیش کش کی کہ میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیتا ہوں لیکن مجھے کہا گیا کہ صرف چند دنوں کی بات ہے، پھر معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ کچھ صحافتی تنظیمیں بھی اس دوران اس معاملے میں ثالث بن گئیں۔ لیخن ان تنظیموں کا کردار ثالث کا تھا یا کسی کے سہولت کار کا؟ یہ ایک لمبی کہانی ہے، جسے ایک نہ ایک دن منظرعام پر آنا ہے۔ فی الحال صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ایک طرف تو مجھ سے وعدہ کیا گیا کہ آپ بے فکر ہو جائیں، اسد علی طور پر حملے کے ملزم جلد گرفتار ہو جائیں گے لیکن دوسری طرف مجھ پر الزامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کچھ زرخرید یوٹیوبرز نے الزامات کو سوال کا رنگ دیا اور ان کے سوال مجھے منیر نیازی کا یہ شعر یاد دلاتے رہے:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
سوال صحیح ہو تو جواب مشکل ہو جاتا ہے لیکن اگر الزام کو سوال بنا دیا جائے تو جواب بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مئی 2021ء میں مجھ پر عائد کی جانے والی پابندی کے بعد صرف میری ذات پر ہی نہیں بلکہ میرے خاندان پر بھی الزامات لگائے گئے۔ میرے بھائی عامر میر کو ایف آئی اے نے لاہور نے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے الزام میں اچانک گرفتار کر لیا۔ عامر میر کے ساتھ ایک اور صحافی عمران شفقت کو بھی ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ دونوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر ایک بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔ یہ مقدمہ طاقت ور ریاستی اداروں کے اخلاقی دیوالیہ پن کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا ذریعہ بنا۔ اس واقعے کے بعد بی بی سی کے معروف پروگرام ہارڈ ٹاک میں مجھے واضح کرنا پڑا کہ میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے پیچھے عمران خان نہیں بلکہ پاورفل اسٹیبلشمنٹ ہے۔
حامد میر کے بقول میرا قصور صرف اتنا تھا کہ ایک صحافی کو اس کے گھر میں گھس کر مارا گیا، میں نے اس واقعے پر احتجاج کیا۔ مجھے غلط ثابت کرنے کا بہترین طریقہ یہ تھا کہ ریاستی ادارے اسد علی طور پر حملے کے ملزمان کو گرفتار کر کے دنیا کے سامنے پیش کرتے۔ افسوس کہ نہ ملزم گرفتار ہوئے اور نہ مجھے غلط ثابت کیا گیا۔ لہٰذا اپنی خفت مٹانے کے لیے مجھ پر پابندی کا سلسلہ دراز کر دیا گیا۔ عام خیال یہ تھا کہ اس پابندی کے پیچھے آئی ایس آئی کے تب کے سربراہ فیض حمید تھے۔ 20 نومبر کو لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے ایک سیشن میں مجھ سے سوال کیا گیا کہ اب تو فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ نہیں رہیں گے، تو کیا آپ پر پابندی ختم ہو جائے گی؟ یہ ایک مشکل سوال تھا۔ میں نے جواب میں کہا کہ 2007ء میں فیض حمید آئی ایس آئی کے سربراہ نہیں تھے لیکن مجھ پر پابندی لگ گئی، 2014ء میں وہ آئی ایس آئی کے سربراہ نہیں تھے لیکن مجھ پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ لہٰذا پابندی کا تعلق کسی فرد سے نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی سوچ سے ہے، جو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن قرار دے کر اپنے جرائم چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔
فیض حمید نومبر میں چلے گئے لیکن مجھ پر پابندی برقرار رہی۔ پھر دسمبر آ گیا، اور مختلف عالمی نشریاتی اداروں نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ سال 2021ء پاکستان میں میڈیا کے لیے کیسا رہا؟ میں سب کو ایک ہی جواب دیتا رہا کہ اس سال کے بارہ میں سے سات مہینوں تک مجھ پر پابندی رہی۔ پھر ایک ایسا سوال پوچھا گیا، جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔
حامد میر کے بقول سوال یہ تھا کہ جب 2014ء میں آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور آپ زخمی تھے، تو آپ سے پوچھا گیا کہ آپ پاکستان چھوڑیں گے؟ آپ نے جواب میں کہا تھا کہ آپ پاکستان نہیں چھوڑیں گے کیوں کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ سات سال کے بعد آپ سات ماہ سے پابندی کا شکار ہیں۔ یہ بتائیے کہ پاکستان کے حالات میں کیا بہتری آئی ہے؟
میں نہ تو فواد چوہدری ہوں اور نہ ہی شہباز گل ہوں کہ دن کو رات اور رات کو دن کہوں۔ میں تو خود سنسرشپ کی ایک چلتی پھرتی مثال بنا دیا گیا تھا۔ میں نے سات سال پہلے جو دعویٰ کیا تھا، وہ غلط ثابت ہو چکا تھا۔ لہٰذا میں نے اعتراف کیا کہ میڈیا کے لیے حالات بہتر نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے بھی خراب ہو گئے ہیں لیکن اس کا حل یہ نہیں ہے کہ میں پاکستان چھوڑ کر کہیں اور چلا جاؤں۔
میں نے اپنی قوت ارادی کو مجتمع کیا اور یہ کہہ کر اپنا جواب ختم کیا، ”پابندی کے مقابلے کا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ میں پاکستان چھوڑ دوں، پابندی لگانے والے میری صحافت ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن میری صحافت واشنگٹن پوسٹ اور ڈی ڈبلیو اردو کے ذریعے جاری ہے۔‘‘ انٹرویو لینے والے نے مجھے تھینک یو کہا۔ میں نے ایک لمبا سانس لیا، جیسے کسی بڑی مصیبت سے جان چھوٹ گئی ہو۔ تاہم میں کافی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ 2021ء تو گزر گیا، کیا 2022ء میں بھی وہی کچھ ہوتا رہے گا، جو پچھلے کئی سالون سے ہو رہا ہے۔

Back to top button