مخالفین الٹا بھی لٹک جائیں تو مجھے نا اہل نہیں کرا سکتے

چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی یہ الٹا بھی لٹک جائیں تو مجھے نا اہل نہیں کرا سکتے، چوروں کو پشت پناہی کرنے والے پھنس گئے ہیں،اسلام آباد بند کرنا چاہوں تو آسانی سے کر سکتا ہوں،آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیئے۔
اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرزسے ملاقات کے دوران عمران خان کا کہنا تھاعوام میرے ساتھ کھڑے ہیں سب کو پتہ چل گیا، لیکن عوامی سپورٹ کے ساتھ بھاری ذمہ داری بھی آتی ہے، آج سوشل میڈیا پرسازش نہیں بلکہ سمت کی اصلاح دکھ رہی ہے، اسلام آباد بند کرنا چاہوں تو آسانی سے کر سکتا ہوں، لیکن یہ میرا آخری قدم ہوگا اس حد تک نہیں جانا چاہتا، کیونکہ ملک کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے، لہذا سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا، پاکستان کے چوروں کو پشت پناہی کرنے والے پھنس گئے ہیں، انتخابات میں جتنی تاخیر ہو گی ہماری پارٹی کو اتنا فائدہ ہوگا، یہ الٹا بھی لٹک جائیں تو مجھے نا اہل نہیں کرا سکتے۔
انہوں نے کہا شہباز گل نے ٹی وی پر جو کہا اصغر خان کیس میں ججز کے وہی ریمارکس ہیں، تو کیا اس بات پر ججز کو بھی پکڑا جائیگا؟پی ٹی آئی کو شہدا سے متعلق منفی مہم میں جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا گیا، عظمیٰ بخاری سے کہیں اپنے خاوند کو پولیس کی تحویل میں دیں، جو شہباز گل سے اگلوانا ہے وہ عظمیٰ کا خاوند اگل دے گا۔
ی جائیداد ملک لے آئیں، عظمیٰ بخاری سے کہیں اپنے خاوند کو پولیس کی تحویل میں دیں۔ پاکستان کے چوروں کو بیک کروانے والے پھنس گئے ہیں، انتخابات میں جتنی تاخیر ہو گی ہماری پارٹی کو اتنا فائدہ ہو گا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہاسوشل میڈیا پر سازش نہیں ان کو کراس کریکشن کی ضرورت ہے، آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کچھ نہیں جانتا، تقرری کے معاملے پر اس معاملے پر پاکستان کو سوچنا ہوگا،میں نے کبھی کسی کو چینل بند کرنے یا صحافی کو ہراساں کرنے کا نہیں کہا، نیب نے کسی کو میرے کہنے پر نہیں اٹھایا، یہ الٹا بھی لٹک جائیں تو مجھے نا اہل نہیں کرا سکتے، ہر روز کوئی نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔
عمران خان نے کہا میں عاشق رسول ﷺ ہوں نبیؐ سے محبت تک ایمان مکمل نہیں ہوتا، سلمان رشدی سے زیادہ غلیظ انسان کوئی نہیں وہ فتنہ ہے، میں نے اپنے انٹرویو میں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل کے واقعے کا حوالہ دیا تھا کہ کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ قانون ہاتھ میں لے کر کسی کو بھی قتل کر دے، سیالکوٹ واقعے پر پاکستان کو جس طرح عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا وہ افسوسناک تھا۔
