مخالفین کو رندا پھیرنے والا شہباز گل خود رندے کی زد میں

چوہدری پرویز الہٰی کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے اگلے ہی روز اپنے سیاسی مخالفین کو رندہ پھیرنے کی دھمکی دینے والے عمران خان کے بد زبان چیف آف سٹاف شہباز گل اب خود اپنی قمیض اُٹھا کر جج کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ جیل میں بہت ظلم کیا جا رہا ہے، یاد رہے کہ موصوف نے اپنی گرفتاری سے چند روز پہلے بڑی رعونت سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو کھلی دھمکی دی تھی اور پنجابی میں فرمایا تھا کہ ’’اینا نوں میں ایسا رندا پھیراں گا کہ کوئی شے نئی رکے گی”۔ تاہم مکافات عمل کے پرانے اصول کے تحت شہباز گل نے اپنے مخالفین کے ساتھ جو سلوک کرنے کا سوچا تھا، اس کا اب انہیں خود سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز گل کی گرفتاری ناراض اداروں کی جانب سے عمران خان کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ اگر وہ اپنی بدزبانی سے باز نہ آئے اور فوج کے ادارے پر رکیک حملے جاری رکھے تو ان کی باری بھی لگ سکتی ہے۔
دوسری جانب عمران نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو حراست میں ننگا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عمران نے یہ دعویٰ ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کیا جس کے بعد صورت حال پیچیدہ ہو گئی کیونکہ شہباز گِل اس وقت اڈیالہ جیل میں بند ہیں جو کہ حکومت پنجاب کے ماتحت ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس جیل کی عمل داری خود تحریک انصاف کی پرویز الہٰی حکومت کے پاس ہے۔ صورتحال تب مزید پیچیدہ ہو گئی جب ماضی میں آئی ایس آئی سے وابستہ رہنے والے صوبائی وزیر داخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے جیل میں اس طرح کے کسی بھی تشدد کی تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور ان پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔ لیکن پھر عمران کی سرزنش کے بعد انہوں نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ شہباز گل کو پہلی رات جیل کی چکی میں بند کیا گیا تھا جو کہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔ان کی ٹویٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے باہر شہباز گل کی خیریت کے حوالے سے پریس ٹاک کے بعد میرے علم میں آیا کہ جیل میں داخلے کی پہلی رات شہباز گل کو غیر قانونی طور پر چکی میں رکھا گیا جو کسی سیاسی قیدی کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے۔ میں نے اسی لیے ڈی آئی جی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہٹانے کے لیے مجاز اتھارٹی کو احکامات دے دیئے ہیں۔
پنجاب کے وزیر داخلہ کے ان متضاد بیانات کے بعد پنجاب کے پارلیمانی امور کے وزیر راجا بشارت نے بھی ایک ٹویٹ کی جس میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی اور سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کو ان کی مجرمانہ خاموشی کے باعث ہٹایا جا رہا ہے، ان کی یہ خاموشی سیاسی قیدی شہباز گل کے خلاف ہونے والے غیر قانونی اقدامات سے متعلق تھی۔ راجا بشارت کی اس ٹویٹ کے بعد رات کو ہی ڈی آئی جی جیل خانہ جات رانا رؤف اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل راولپنڈی محمد اصغر کو عہدوں سے ہٹائے جانے کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا۔ لیکن پولیس حکام شہباز گل پر تشدد کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی آمد سے پہلے جیل سیل کی صفائی ستھرائی کی گئی۔ جیل کے سیل میں رنگ و روغن بھی کیا گیا۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ ان پر نہ تو کسی نے تشدد کیا اور نہ ہی کوئی اور سزا دی گئی۔ لیکن شہباز گل کے وکیل شعیب شاہین کا کہنا ہے کہ عمران کے چیف آف سٹاف پر جیل میں بے پناہ تشدد کیا گیا ہے اور انہیں چکی میں بند کرنے کے بعد ان کی کمر اور پیٹھ مار مار کر کالی کر دی گئی ہے۔
ایک پولیس افسر کے مطابق جیل کی چکی کی کئی طرح سے تشریح کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلی تشریح ایک سزا کی ہے جہاں مجرموں کو قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ تمام جیلوں میں قید تنہائی کے لیے مختص سیلز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ قید تنہائی کے سیل لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں جن کی تعداد 40 ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سیل حفاظتی سیل کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں، اگر کسی قیدی کی جان کو خطرہ ہو یا کوئی ہائی پروفائل کیس ہو تو بھی ان سیلز کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اڈیالہ جیل کے پولیس افسر کا کہنا تھا کہ شہباز گل کے کیس میں ایسا نہیں ہوا۔ اس نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان کے منہ سے تشدد کے الفاظ برجستہ نکلنے کے بعد ایک طرح سے کہانی کو کور دیا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افسران جن کے تبادلے کی بات ہو رہی ہے یہ حمزہ شہباز کے دور میں حال ہی میں لگائے گئے تھے، تاہم انکوائری میں ایسا کچھ بھی نہیں نکلے گا کیونکہ ایسا کچھ ہوا ہی نہیں۔ پھر بھی سیاسی جماعتوں نے اپنے حساب سے چلنا ہوتا ہے چاہے حقائق اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہوں۔
یاد رہے کہ عمران خان کی خواہش پر کچھ وفاقی وزرا نے شہباز گل کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے نکال کر ہسپتال منتقل کروانے کی کوشش کی جو کہ وفاقی حکومت نے ناکام بنا دی تھی۔ دودری جانب وزیر اعلی پرویز الٰہی بھی عمران کی جانب سے فوج مخالف گفتگو کرنے والے شہباز گل کا غیر ضروری دفاع کرنے پر ناراض ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر یہ معاملہ لمبا چلا تو انکی اپنی حکومت کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ پرویز الہٰی کا موقف ہے کہ بغاوت کیس میں احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بلا وجہ متھا لگا کر اپنا مستقبل داؤ پر نہیں لگانا چاہئے۔
دوسری جانب سے کپتان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایجنسیاں دوران حراست شہباز گل کو توڑنے میں کامیاب ہوگئیں اور انہوں نے بغاوت پر اکسانے والے اصل کردار کا نام لے لیا تو پھر عمران خان کو بھی بغاوت کیس میں نامزد کیا جا سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے جیل سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان شہباز گل کو جیل سے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پرویزالہٰی اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔

Back to top button