مذاق میں بنائی ’دوستی میم‘ 84 لاکھ روپے میں نیلام


فیس بک پر پوسٹ ہونے والی ایک پاکستانی میم ’’مدثر کیساتھ دوستی ختم، اب سلمان میرا بہترین دوست ہے‘‘ حیرت انگیز طور پر 84 لاکھ روپے میں نیلام ہو گئی ہے۔ ایک نوجوان کی جانب سے اپنے دوست کیساتھ یہ معمولی سا مذاق فیس بک پر اتنا وائرل ہوا کہ اس پر 47 ہزار لوگوں نے ری ایکٹ کیا، 56 ہزار لوگوں نے اسے شیئر کیا اور 27 ہزار لوگوں نے تبصرے پوسٹ کیے۔اس میم سے محمد آصف کو عالمی شہرت بھی ملی جس میں یوٹیوب اور ٹوئٹر پر صارفین ان کے میم سے متاثر ہو کر مواد تیار کرتے رہے۔
میم کے خالق گوجرانوالہ سیشن کورٹ میں بطور کلرک کام کرنے والے آصف رضا رانا نے بتایا کہ انکی میم کو ہانگ کانگ کی ایک کمپنی نے ڈیجیٹل کرنسی ایتھیریم میں 20 کوائن کے عوض خریدا ہے جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 84 لاکھ روپے بنتے ہیں، آصف نے بتایا کہ یہ پیسے وہ اپنے اسی دوست کے ساتھ بانٹیں گے، وہ اس رقم سے اپنا گھر خریدیں گے اور گاڑی لینے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں، تاہم ابھی رقم پراسس ہو کر ان تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔
آصف کی میم کی نیلامی میں تعاون کرنیوالی پاکستانی کمپنی آلٹر ڈاٹ گیلری کے ترجمان زین نقوی نے تصدیق کی کہ میم نیلام ہو گئی ہے اور یہ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ اس کا ڈیجیٹل اثاثہ دنیا میں نام پیدا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی طرف سے بیچی جانے والے بڑی این ایف ٹی یعنی ’ناقابل بدل ٹوکن‘ میں سے ایک ہے۔
یاد رہے کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی محمد آصف رضا نے عالمی یوم دوستی کے موقع کی مناسبت سے یہ میم 30 جولائی 2015 کو فیس بک پر شیئر کی تھی جس کے بعد دنیا بھر میں وائرل ہو گئی تھی۔ میم میں نہ صرف مختلف رنگوں کے ساتھ انگریزی الفاظ کا استعمال کیا گیا بلکہ مدثر کی تصویر پر کراس کا نشان لگا کر اور سلمان کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے آصف رضا نے اچھے طریقے سے سمجھایا تھا کہ ان کی بات کا مطلب کیا ہے۔اس میم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آصف نے بتایا کہ ان کا مدثر کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا تو انہوں نے اس وقت اپنے فیس بک پر 200 کے قریب دوستوں کو دکھانے کے لیے میم بنائی تھی تاکہ سب کو پتا چل جائے کہ اب سلمان میرا نہیں دوست ہے۔ لیخن یہ میم فورا پاکستان سیمت دنیا بھر میں وائرل ہو گئی اور اس کو ترمیم کے ساتھ دنیا بھر میں استعمال کیا گیا حتیٰ کے ڈزنی، امریکی ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز نے بھی اسے ساتھ استعمال کیا تھا۔
آصف نے بتایا کہ میم بنانے کے دو تین ماہ بعد انکی مدثر سے صلح ہو گئی اور دوستی بحال ہو گئی تو انہوں نے ایک اور میم بنائی جس میں انہوں نے بتایا کہ انکی مدثر کے ساتھ دوستی بحال ہو گئی ہے اور مدثر میرے دوست ہیں۔ آصف نے بتایا کہ اس میم کے بعد ان کی زندگی میں یہ تبدیلی آئی کہ فیس بک پر اسی سال انکے دوست بڑھ کر پانچ ہزار سے زائد ہو گئے اور پھر مقامی بیوٹی پارلر کا کمرشل بھی مل گیا۔ ٹیم آلٹر کے ترجمان زین نقوی نے بتایا کہ آصف رضا کی میمز خریدنے والوں نے اتنے ذیادہ پیسے اس لیے دیے تا کہ وہ انٹرنیٹ کی تاریخ کا ایک حصہ اپنے نام کر لیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں بٹ کوائن اور دوسری کرپٹو کرنسی کی آمد کے ساتھ ڈیجیٹل آرٹ کی خرید و فروخت آسان ہو گئی ہے۔ این ایف ٹی یا نان فَنج ایبل ٹوکن اصل میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ کوئی بھی تصویر، ٹویٹ، نظم، گانا، یا میم ہو سکتی ہے۔
این ایف ٹی سے مراد نان فنجیبل ٹوکن ہے۔ یہ ایک خاص قسم کا ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہے جو کہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کسی مزاحیہ میم، تصویر، ویڈیو یا دیگر قسم کے آن لائن مواد کا اصل مالک کون ہے۔ معاشیات کی زبان میں فنجیبل اثاثے سے مراد کوئی ایسی چیز ہے جس کا فوری تبادلہ ممکن ہو جیسے کوئی آپ کو 100 روپے کا نوٹ دیتا ہے تو آپ اس کا تبادلہ دو 50 روپے کے نوٹوں سے کر سکتے ہیں۔

Back to top button