مریم نواز نے مکمل غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر دیا

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مبینہ ڈیل کے بعد جیل میں قید بھگتنے والی مریم نواز نے اپنی رہائی کے بعد سے جو پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی تھی وہ 15 جون کو تب ٹوٹ گئی جب انہوں نے انسٹاگرام پر اپنا نیا اکاونٹ بنایا لیکن ساتھ میں یہ عجیب اعلان بھی کر دیا کہ یہ بالکل غیر سیاسی ہو گا۔
اپنی لمبی خاموشی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بننے کے بعد مریم نواز نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 15 جون کو سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر مکمل طور پر ‘غیر سیاسی’ مگر عوامی اکاؤنٹ بنانے کا اعلان کیا۔ انسٹا گرام اکاؤنٹ پر انھوں نے اپنا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے کہ وہ ایک بیٹی، تین جوان بچوں کی ماں اور نانی اماں ہیں۔ واضح رہے کہ مریم نواز کے نام سے انسٹاگرام پر پہلے بھی چند اکاؤنٹس موجود ہیں، تاہم اب انہوں نے اپنے نام سے آفیشل اکاؤنٹ بناتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹ کو وہ خود چلائیں گی اور یہ سیاسی کی بجائے ذاتی ہوگا۔ سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر مکمل طور پر ‘غیر سیاسی’ مگر عوامی اکاؤنٹ بنائے جانے کے چند ہی گھنٹوں میں انہیں ایک لاکھ 40 ہزار افراد نے فالو بھی کرلیا۔
مریم نے انسٹا گرام پر جاری کردہ پہلے پیغام میں ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے مداحوں کو بتایا کہ وہ اس اکاؤنٹ کے ذریعے کوئی بھی سیاسی پیغام یا بات نہیں کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی باتوں کے لیے وہ ٹوئٹر کا استعمال کریں گی اور اس اکاؤنٹ کے ذریعے وہ اپنی اور اہل خانہ کی’غیر سیاسی’ باتیں عوام کے ساتھ شیئر کریں گی۔ ساتھ ہی پوسٹ میں انہوں نے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کی امید بھی کی۔ مریم نواز کی ایک ہی پوسٹ سے انہیں ایک لاکھ 40 ہزار تک افراد نے فالو کرلیا اور کئی افراد نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ ٹوئٹر پر مریم نواز کے اکاؤنٹ کو 55 لاکھ افراد فالو کرتے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے ذریعے اپنے سیاسی بیانات اور حکمت عملیاں شیئر کرتی تھیں۔ تاہم اپنی رہائی کے بعد سے وہ سیاسی طور پر مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جس کا سبب وہ یہ بتاتی ہیں کہ والدہ کی وفات اور والد کی بیماری کی وجہ سے وہ خاموش ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ والد کی بیماری کا بہانہ کر کے سیاسی میدان سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی مریم نواز سے کوئی پوچھے کی غیر سیاسی اکاؤنٹ آپریٹ کرنے سے ان کے کون سے دکھوں کا مداوا ہو گا۔
یاد رہے کہ نواز شریف کی بیماری اور سروسز ہسپتال منتقلی کے بعد اپنی ضمانت پر رہائی کے بعد سے مریم نواز کی پراسرار خاموشی طویل ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس نومبر کے اوائل میں ضمانت کے حصول کے بعد مریم نواز جیل سے باہر، نواز شریف ملک سے باہر اور شہباز شریف سیاسی میدان سے باہر نظر آئے۔ اسی دوران مریم نواز بھی قید و بند کی صعوبتوں سے آزاد ہو گئیں لیکن انہیں والد کے ساتھ بیرون ملک جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ کہ مریم نواز اس لئے خاموش ہیں کہ ان کو بھی اپنے والد کے پاس لندن جانے کی اجازت مل سکے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکنے کے باوجود مریم نواز پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔۔ اس دوران وہ صرف ایک مرتبہ منظر عام پر آئیں جب وہ اسلام آباد گیئں اور شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ ایسا بھی مریم نے بڑی مجبوری کی حالت میں کیا جب حکومت نے نواز شریف کے خلاف ایک بھر پور پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ وہ بیمار نہیں ہیں اور دھوکا دے کر ملک سے باہر گئے لہٰذا ان کو گرفتار کرکے واپس لانا چاہیے۔ اس دوران ملک میں کرونا کی وبا پھیل گئی اور نواز مخالف حکومتی کیمپین بھی رک گئی لہٰذا مریم نواز بھی دوبارہ خاموش ہوگئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مریم نواز رہائی کے بعد سے مسلسل خاموش ہیں۔ مریم اس وقت رائیونڈ کے فارم ہاؤس تک محدود ہیں اور ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب ساری دنیا کرونا وائرس کے باعث گھروں تک محدود ہے تو مریم نواز کس طرح باہر آکر سیاسی سرگرمیاں شروع کرسکتی ہیں۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ جب کرونا کی وبا نہیں پھیلی تھی اور جماعت کے سنیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال بھی گرفتار کرلیے گئے تھے، مریم نواز تب بھی مسلسل خاموش اور غیر فعال رہیں۔
