مریم نواز کا متنازع جج پر عدم اعتماد نہ کرنے کا فیصلہ

گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی جانب سے الزامات کا شکار ہونے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے نیب کو ہدایت کی کہ کوئی ایسا ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرے جس سے ثابت ہو کہ مریم نواز ہی لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی مالک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات میں پہلے استغاثہ اپنا کیس ثابت کرتا ہے اور اس کے بعد ملزم کو صفائی کا موقع ملتا ہے۔ لہذا پہلے نیب اپنے الزامات ثابت کرے۔ 17 نومبر کو مریم نواز کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مریم نواز کو اپنے والد نواز شریف کی جانب سے لندن کے فلیٹس بطور تحفہ ملے ہیں تو اس میں مریم کا کیا قصور ہے؟
یاد رہے کہ مریم نواز کی اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس عامر فاروق کے علاوہ جسٹس محسن اختر کیانی بھی شامل تھے۔دلچسپ بات یہ تھی کہ مریم نواز کے وکیل کی جانب سے جسٹس عامر فاروق کے کیس سننے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، حالانکہ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی میں ان پر میاں ثاقب نثار سے نواز شریف کے خلاف ہدایات لینے کا الزام عائد کیا یے۔ یاد رہے کہ رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان کی موجودگی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس عامر فاروق کو فون کرکے نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن 2018 کے ہونے تک جیل میں رکھنے اور ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم اب یہ معلوم ہوا ہے کہ وقتی طور پر مریم نواز نے جسٹس عامر فاروق کے اپنا کیس سننے والے بینچ میں ہونے پر اعتراض نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
17 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے مریم نواز کے خلاف 6000 سے زائد صفحات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مریم نواز کی کرپشن کے ثبوت ہیں۔ اس موقع پر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن محمد صفدر بھی دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
تاہم جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی بار بار نیب پراسیکیوٹر سے کوئی ایسا ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنے کا کہتے رہے جس سے مریم نواز کی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت ثابت ہو سکے۔جج صاحبان کا موقف تھا کہ نیب کو ایسی شہادتیں پیش کرنا ہوں گی جو بغیر کسی شک و شبہے کے ثابت کریں کہ مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی اصل مالکن ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ایک سے زیادہ مرتبہ نیب کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایون فیلڈ اپارٹمنٹس غیر قانونی دولت سے حاصل کیے بھی گئے ہیں تو اس میں مریم نواز کا کیا قصور ہے کیونکہ یہ فلیٹس تو انہیں اپنے والد کی طرف سے تحفتاً ملے ہیں۔ جواب میں نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی انتظامیہ کی جانب سے ملنے والا ایک خط ثابت کرتا ہے کہ مریم نواز اس جائیداد کی مالکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون کے تحت بیرون ملک سے آنے والی کوئی بھی دستاویز ثبوت کے ذمرے میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
اس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ نیب کے قانون میں بیرون ملک سے آنے والی دستاویز کو ثبوت کا حصہ بنا بھی لیا جائے تو بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ دستاویز کس حد تک مصدقہ ہیں۔ اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والی دستاویز کو بھی پاکستان کے قانون شہادت کے اندر رہتے ہوئے پرکھا جائے گا۔
نیب پراسیکیوٹر نے شریف خاندان اور بعض پاکستانی اداروں کے درمیان خط و کتابت کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر مریم نواز نے ایون فیلڈ فلیٹس کی ملکیت قبول کی ہے۔ اس دلیل کے جواب میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بعض اداروں یا افراد کے درمیان ہونے والے خط و کتابت کو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کرنے کی صورت میں خطوط لکھنے والوں کو گواہ کے طور پر عدالت میں طلب کرکے حقائق کی تصدیق کی جانی ضروری ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کسی بھی پاکستانی کے لیے آف شور کمپنیز رکھنا غیر قانونی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ جائدادیں 1980 میں حاصل کی گئیں تھیں اور تب تو شاید مریم نواز پیدا بھی نہ ہوئی ہوں۔
اس پر کمرہ عدالت میں موجود مریم نواز نے اپنے ساتھ بیٹھے مسلم لیگ نواز کے رہنما محمد زبیر کے کان میں کچھ کہا جنہوں نے مریم کے وکیل عرفان قادر کو پیغام پہنچایا جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ 1980 میں مریم کی عمر سات سال تھی۔ جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ایون فیلڈ کیس قائم ہونے تک ان جائیدادوں کے کئی مالکان بدل گئے ہوں۔
چنانچہ عدالتیں عوامی آرا یا اخباری خبروں کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیا کرتیں بلکہ خصوصا فوجداری مقدمات میں ٹھوس ثبوت درکار ہوتے ہیں۔ اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: ’آپ کو ہماری بات سمجھنا چاہئیے کہ ہم ہر صورت قانون کے اندر رہتے ہوئے چیزوں کو دیکھیں گے اور اس کے لئے شک و شبہے سے بالاتر شواہد چاہئیں جو آپ کے الزامات کو سچ ثابت کر سکیں۔‘ اس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جج صاحبان کے تمام سوالات لکھ رہے ہیں اور آئندہ سماعت پر ان کا جواب دینے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز کی جانب سے کسی مرحلے پر جسٹس عامر فاروق پر اظہار عدم اعتماد کیا جاتا ہے یا نہیں؟
