مریم نواز کو مارنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا: عسکری ذرائع


نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے دعوے کو عسکری حکام نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور انکا مقصد ملک کے اہم ترین قومی ادارے کی ساکھ خراب کرنا ہے جو کہ قابل افسوس عمل ہے۔
سابق وزیر اعظم کے عائد کردہ الزامات پر ابھی تک فوجی ترجمان کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل تو جاری نہیں کیا گیا تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ایک ویڈیو پیغام میں مریم کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا جو الزام لگایا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ خیال رہے کہ 11 مارچ کی رات نواز شریف نے ٹوئٹر پر لندن سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ مریم نواز کو smash کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے تین جرنیلوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، جنرل عرفان ملک اور عمران خان کا نام لے کر کہا کہ ’اگر مریم کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار یہ سب لوگ ہوں گے۔ نواز شریف کے اس بیان کا پاکستانی مین سٹریم میڈیا نے حسب معمول پابندی کے باعث بلیک آوٹ کیا لیکن سوشل میڈیا پر اس بیان نے ایک ہلچل مچا دی۔ مریم نواز شریف نے اپنے والد کے بیان کے بعد ٹوئٹر پر یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کو نہ صرف جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں بلکہ گندی گالیاں بھی دی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف نے یہ تازہ ترین الزام سینٹ الیکشن سے ایک روز پہلے 11مارچ کی رات لگایا جس نے فوجی اسٹیبلشمینٹ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ ہر چھوٹے موٹے معاملے پر بھی سرکاری بیان جاری کرنے والے فوجی ترجمان نے ابھی تک نواز شریف کے اس الزام کے حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا۔ لیکن غیر سرکاری طور پر عسکری حکام کی جانب سے مین سٹریم میڈیا کے اہم افراد سے رابطہ کر کے انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کا بیان سراسر بے بنیاد ہے اور مریم نواز کے خلاف کسی نے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا۔
جہاں حکومتی حلقوں نے نواز شریف کے بیان کو فوج کی ساکھ خراب کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے وہیں لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے مریم کو دی گئی دھمکی پبلک کرکے دراصل ان کی زندگی محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔ نواز شریف کے اس سخت ترین بیان سے یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے مسلسل دعووں کے باوجود ملکی سیاست میں ایک فعال کردار ادا کر رہی ہے اور عمران کی اتحادی بن کر اپوزیشن کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے۔ 12 مارچ کو سینٹ کے الیکشن میں اپوزیشن اتحاد کی برتری کے باوجود حکومتی امیدوار یوسف رضا گیلانی کی شکست نے ایک مرتبہ پھر اس بیانیے کو تقویت دی ہے کی فوج پاکستانی سیاست میں مداخلت سے باز نہیں آرہی۔
یاد رہے کہ نواز شریف نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ مریم نواز کو دھمکی دی گئی ہے کہ انھیں ‘سمیش’ کر دیا جائے گا۔ نواز شریف نے فوجی قیادت کو مخا طب کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ ‘پاکستان کے جمہوری نظام اور اخلاقیات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آپ اس حد تک گر چکے ہیں کہ پہلے آپ نے کراچی میں چادر اور چار دیواری کو پامال کیا، رات کے وقت مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا اور اب انہیں دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وه باز نہ آئیں تو انہیں SMASH کر دیا جائے گا۔’
دوسری جانب اپنی ویڈیو میں نواز شریف نے کہا کہ ’مریم جس جرات اور ایمان کے ساتھ عوام کے حق حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو کی جنگ لڑ رہی ہیں انشا اللہ ان کی حفاظت ہمارا اللہ کرے گا۔‘ نواز شریف نے کہا کہ ‘میں خدائی لہجے میں دھمکیاں دینے والوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی مذموم حرکت کی تو اس کے ذمہ دار عمران خان کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید اور جنرل عرفان ملک ہوں گے۔’ یاد رہے کہ جب اپوزیشن کا اتحاد نے گجرانوالہ سے حکومت مخالف تحریک شروع کی تھی تو نواز شریف نے پہلے جلسے میں جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام لے کر ان پر قومی سیاست میں مداخلت کرنے کے الزامات عائد کیے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے برسر اقتدار لانے میں بھی ان دونوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس طرح کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ شاید فوجی اسٹیبلشمنٹ اب اپوزیشن اتحاد کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کر رہی ہے جس کے بعد میاں صاحب کی جانب سے بھی جرنیلوں کا نام لینا بند کر دیا گیا۔
اسی دوران فوجی ترجمان نے کم از کم دو مرتبہ یہ اعلان کیا کہ فوج سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہے۔ تاہم سینٹ کے الیکشن اور پھر عمران خان کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ دلانے کے عمل میں یہ بات واضح ہوکر سامنے آئی کہ اسٹیبلشمنٹ اب بھی سیاسی ہے اور حکومت کے ہاتھوں میں اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ چنانچہ مریم نواز کے لہجے میں دوبارہ سے اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے سختی آنا شروع ہوگئی اور انھوں نے یہ دعوی کردیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اب بھی کپتان کی حمایت میں اپوزیشن کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے کچھ عرصہ پہلے سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے بھی اپنی ایک تحریر میں انکشاف کیا تھا کہ مریم نواز کو انتہائی اعلیٰ حکومتی سطح پر جان سے مار دینے کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مریم کو انکے خیر خواہوں نے اطلاع دی یے کہ اُنہیں کسی حادثے میں پار لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے اور کوشش کی جائے گی کہ ان کی موت حادثہ لگے۔ سہیل وڑائچ نے یہ خبر بریک کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مریم اِس طرح کی اطلاعات کو دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سمجھنے میں حق بجانب ہیں، کیوں کہ جب سیاسی ماحول ہی شک اور سازش کا ہو تو ایسے میں مریم شک کو حقیقت کیوں نہ سمجھیں؟
سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت اور ریاستی ادارے یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ مریم کو محض وہم ہے، اُن کا شک ناجائز ہے، اور حکومتی یا ریاستی سطح پر اُنہیں مارنے کی کوئی سازش نہیں ہو رہی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اتنا کافی ہے؟ اگر ریاستی اور حکومتی لوگوں میں اِس وقت کوئی بھی ایسا نہیں جو مریم نواز کی جان لینے کا ارادہ رکھتا یے تو بھی ریاست اور حکومت کے دشمن غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لئے ایسے وسوسے اور شک تو ڈال سکتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ فرض کریں کہ ریاست کے کسی ادارے یا ملک کے کسی فرد کے ساتھ کوئی حادثہ ہو گیا، کسی سازشی نے، کسی ملک دشمن نے، کسی غدار نے بےنظیر بھٹو شہید جیسا کوئی نیا حادثہ کروا دیا تو پھر ذمہ داری کون لے گا؟
تاہم نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو جان سے مارنے کے مبینہ منصوبے میں عمران خان کا نام لیے جانے کے باوجود ابھی تک حکومت کی جانب سے اس معاملے پر نہ تو کوئی وضاحت دی گئی ہے اور نہ ہی مریم کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ایک حکومتی شخصیت کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف فوجی قیادت اور وزیراعظم کے خلاف اتنا بڑا الزام لگاتے ہوئے آخری حد تک چلے جاتے ہیں تو پھر وہ ہم سے بھی کوئی امید نہ رکھیں۔
یاد رہے کہ اپنی تازہ ویڈیو میں نواز شریف نے فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ ‘جو کچھ آپ نے کیا ہے اور کرتے چلے آ رہے ہیں، یہ سنگین جرم ہے، اور اس کا آپ کو بہت جلد حساب دینا پڑے گا۔’ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ‘آپ’ نے سینیٹ انتخاب میں شکست کے بعد عمران خان کی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں بھی مدد کی اور مزید دعوی کیا کہ ‘ڈسکہ کا الیکشن 2018 کے عام انتخابات کا ری پلے تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ’پھر کہتے ہیں کہ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔’
تاہم اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت پر مریم کے قتل کی سازش کرنے کا الزام ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر فوجی ترجمان کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے باقاعدہ وضاحت ضرور کرنی چاہیے۔ ورنہ اب تک کی خاموشی سے تو یہی تاثر ملے گا کہ نواز شریف کے الزام میں کچھ نہ کچھ وزن تو ضرور ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button