مریم نواز کی اپیل کا 30 روز میں فیصلہ سنانے کی درخواست خارج

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی سزا کیخلاف اپیل پر 30 روز میں فیصلہ سنانے درخواست خارج کر دی ۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 13 اکتوبر کو تحریری حکم جاری کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی اپیل پر فیصلے سے متعلق نیب کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ چونکہ نیب آرڈیننس نے ٹرائل کورٹ کے لیے ریفرنس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کا وقت مقرر کیا ہے جو کسی قانونی حیثیت کے بغیر دائر کی گئی ، اس لیے عدالت اس درخواست کو خارج کرتی ہے۔
دو رکنی بینچ نے نیب کی جانب سے مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران نظر انداز کرنے کہ ان کے وکیل دلائل مکمل کر چکے ہیں، نیب کی سرزنش کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب پراسیکیوٹر عثمان چیمہ سے استفسار کیا کہ ’کیا ضمانت منسوخی کی یہ بنیاد ہے؟جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ جب کوئی مجرم عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو وہ ضمانت کا ریلیف حاصل کرنے کا حق کھو دیتا ہے اور مریم نواز نے جان بوجھ کر کیس کی جلد تکمیل میں تاخیر کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے پراسیکیوٹر کو یاددہانی کروائی کہ شاید انہیں معلوم نہیں کہ مریم نواز کے وکیل نے اپیل پر دلائل مکمل کرلیے ہیں اور اب بال نیب کی کورٹ میں ہے۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وکیل دفاع کا مؤقف تھا کہ یہ شواہد کا کیس نہیں اور اب نیب کی باری ہے کہ وہ ان کے خلاف الزامات کو ثابت کرے تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت اس درخواست کو زیر التوا رکھ رہی ہے اور 17 نومبر کو جب مریم نواز کی اپیل پر سماعت ہوگی تو اسے سنا جائے گا۔
اپنی درخواست میں نیب نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما کو عدالت کے احاطے میں اختیار کیے گئے رویے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔مثال کے طور پر گزشتہ سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ جب وہ عدالت میں آئیں تو اتنی دیر ہوچکی تھی کہ سماعت تقریباً اختتام پذیر تھی، وہ عدالتی کمرے میں اس انداز سے داخل ہوئیں جیسے کسی سیاسی جلسے میں آرہی ہوں۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے معزز عدالت کو سیاسی تھیٹر سمجھا کمرہ عدالت کو اپنے سیاسی کارکنان، وفاداروں اور عہدیداروں سے بھر دیا جو ان سے سے وفا کا دم بھرتے ہیں۔انسداد بدعنوانی کے ادارے نے مریم نواز کی میڈیا سے گفتگو پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
