مریم کو جیل فوجی قیادت بھیجنا چاہتی ہے یا کپتان؟

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے مریم نواز کو جان سے مارنے کی سازش کے الزام میں فوجی قیادت کا نام لیے جانے کے بعد اب اس بات کا واضح امکان ہے کہ مریم نواز کو لانگ مارچ سے پہلے ضمانت منسوخ کروا کر گرفتار کر لیا جائے۔
یاد رہے کہ نواز شریف نے مریم کو جان سے مارنے کی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر انکی بیٹی کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور وزیراعظم عمران خان پر عائد ہوگی۔ نواز شریف کے اس بیان کے بعد مریم نواز نے کہا تھا کہ ان کو صرف جان سے مارنے کی دھمکیاں ہی نہیں دی جارہی ہیں بلکہ گندی گالیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ تاہم سابق وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد بجائے کہ حکومت یا فوجی ترجمان کی جانب سے کسی قسم کا کوئی وضاحتی بیان آتا، قومی احتساب بیورو نے مریم نواز کی ضمانت منسوخ کروانے کے لئے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت منسوخی سے متعلق قومی احتساب بیورو کی درخواست فوری سماعت کے لیے مقرر کردی اور اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مریم کو 26 مارچ کے لانگ مارچ سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔
نازیبا ویڈیو سکینڈل سے شہرت پانے والے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے پراسکیوٹر جنرل پنجاب کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررے ہوئے مریم نواز اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا ہے۔ اپنی نازیبا ویڈیو میں ایک خاتون کو سر سے پاؤں تک چومنے کی آفر کرنے والے جسٹس جاوید اقبال نے مریم نواز کے خلاف اپنی درخواست میں کہا ہے کہ
وہ لاہور ہائیکورٹ سے چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد سے مسلسل ریاستی اداروں پر حملے کر رہی ہیں، یہ بھی کہا گیا یے کہ مریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی ریاستی اداروں کیخلاف بیان بازی کر رہی ہیں، اور ریاست مخالفت پروپیگنڈہ کرنے میں بھی مصروف ہیں۔ جاوید اقبال نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ مریم کے خلاف چودھری شوگر ملز سمیت دیگر انکوائریز پر تحقیقات جاری ہیں، انہیں چودھری شوگر ملز میں دستاویزات طلبی کیلئے 10 جنوری 2020 کو نوٹس بھجوائے گئے تھے، لیکن انہوں نے نیب کے نوٹسز پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ مطلوبہ ریکارڈ فراہم کیا، انہیں دستاویزات فراہم نہ کرنے پر 11 اگست 2020 کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، لیکن مریم نے اپنی سیاسی طاقت کا استعمال کیا اور نیب کے لاہور آفس پر حملہ کروا دیا، ان کے کارکنوں نے پولیس اور نیب آفس پر پتھراﺅ کیا جس کا مقدمہ علیحدہ سے درج کیا جا چکا ہے۔ جاوید اقبال نے مؤقف اپنایا کہ چوہدری شوگر ملز کی تحقیقات کیلئے مریم نواز کو متعدد مرتبہ طلب کیا گیا، لیکن وہ پیش نہ ہو کر نیب کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں، اور اپنے اسطرح کے ہتھکنڈوں سے عوام میں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ ریاستی ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں، کپتان کے گماشتے کا کردار ادا کرنے والے جسٹس جاوید اقبال نے مریم نواز کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں مزید کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ریاستی اداروں کی ساکھ خراب کرنے کے لیے انکے خلاف بیانات دے رہی ہیں، اور وہ ضمانت پر رہا ہونے کے باوجود نیب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہیں، لہازا ان کی چودھری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منسوخ کی جائے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے بھی پھرتیاں دکھاتے ہوئے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی اور واضح امکان ہے کہ 26 مارچ سے پہلے مریم کی ضمانت منسوخ کروا کر انھیں گرفتار کر لیا جائے۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔ نیب کے دعوے کے مطابق چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔ اس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نیب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔
اس معاملے پر نیب کی طلبی کے بعد مریم 31 جولائی 2020 کو تفتیش کے لیے پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔
نیب حکام کا کہنا یے کہ یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن دونوں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے۔ نیب نے مریم نواز کو 8 اگست 2020 کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں، اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ 8 اگست 2020 کو ہی قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا تھا جس کے بعد ان کے جسمانی ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔ عدالت نے انہیں 4 ستمبر 2020 کو مزید 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔ 18 ستمبر 2020 کو انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جس نے انکے جسمانی ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کی تھی اور 25 ستمبر کو انہیں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں جب 25 ستمبر کو مریم نواز کو پیش کیا گیا تو ان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔ مریم کے عدالتی ریمانڈ میں بھی کئی مرتبہ توسیع ہوئی اور بالآخر 6 نومبر 2020 کو لاہور کی احتساب عدالت سے رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
تاہم رہائی کے بعد مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کا حکومت مخالف ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں تیز کر دیں اور کھل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اپنایا جس کی وجہ سے اب انہیں دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
