کیا 7 اپوزیشن سینیٹرز نے غلطی کی یا سازش کا حصہ بنے؟

سینئیر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اس تھیسیس کو مسترد کیا یے کہ 3 مارچ کو سینیٹ کے الیکشن میں سید یوسف رضا گیلانی کو جتوا کر عمران خان کو جھٹکا دیا گیا اور 12 مارچ کو گیلانی کو چئیرمین سینیٹ کا الیکشن ہروا کر اپوزیشن کو جھٹکا دیا گیا۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیہ میں ان کا کہنا ہے کہ 3 مارچ کو سینیٹ کے الیکشن میں حکومت اور ریاست نے کپتان کے امپورٹڈ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو جتوانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اس زور کو توڑنے کیلئے سابق صدر آصف علی زراری نے 28 فروری کی رات ایک ریاستی ادارے کے سربراہ کی خدمت میں بڑے عاجزانہ انداز میں یہ درخواست پیش کی کہ براہ کرم ہمارے ووٹ توڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے ایک رات قبل گیارہ مارچ کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہی بات انتہائی جارحانہ انداز میں ایک وڈیو بیان کے ذریعے کہہ دی جس نے حکومت سے زیادہ اپوزیشن کی صفوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گیارہ مارچ کی رات ایک دوست نے آصف زرداری کو نواز شریف کا وڈیو بیان سنوایا تو زرداری صاحب بیان سن کر خاموش رہے۔ دوست نے پوچھا آپ کے پاس تو زیادہ ثبوت موجود ہیں، آپ ایسا بیان کیوں جاری نہیں کرتے؟ زرداری صاحب نے جواب میں کہا کہ میرا ڈومیسائل سندھ کا ہے، میری کہی ہوئی چھوٹی سی بات کا ردِعمل بہت زیادہ ہوگا۔ یوں اگلے دن 12 مارچ کو یوسف رضا گیلانی سینیٹ چئرمین کا الیکشن ہار گئے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ زرداری صاحب کو تھوڑی ہی دیر میں پتہ چل گیا تھا کہ یہ جھٹکا غیروں کا نہیں بلکہ اپنوں کی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن کے سات سینیٹرز کو کچھ ضرورت سے زیادہ سمجھدار دوستوں نے گیلانی صاحب کے نام کے اوپر مہر لگانے کا حکم دیا اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی جسے پریذائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے اپنی مرضی کا رنگ دیا اور سات ووٹ مسترد کر دیے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ دیکھئیے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ لیکن دعا کیجئے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے ایک رات قبل پولنگ بوتھ کے اندر نصب ہونے والے خفیہ کیمروں کا معاملہ پارلیمینٹ کے اندر ہی حل ہو جائے۔ یہ معاملہ حل نہ ہوا تو بہت سے لوگوں پر بہت گند اچھلنے والا ہے۔ صادق سنجرانی کیلئے سینیٹ چلانا بہت مشکل ہو جایے گا کیونکہ وہ اقلیت میں ہیں۔ یاد رہے کہ اپوزیشن نے سینیٹ الیکشن سے ایک رات پہلے ایوان میں خفیہ کیمرے نصب کروانے کا الزام صادق سنجرانی اور ان کے بڑوں پر عائد کر رکھا ہے۔
سینیٹ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے حامد میر کہتے ہیں کہ 12 مارچ کو کوئی جیت کر ہار گیا اور کوئی ہار کر جیت گیا۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ صدیوں پہلے 15 مارچ کرلے روز روم میں سینیٹ کے اجلاس میں جولیس سیزر اپنے سب سے وفادار ساتھی بروٹس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا۔ حامد میر سوال کرتے ہیں کہ کہیں ہم نے 12مارچ کو سینیٹ چیئرمین کے الیکشن میں جمہوریت کو تو قتل نہیں کر دیا؟
یاد رہے کہ جولیس سیزر تھا مملکتِ روم کا سب سے طاقتور انسان تھا لیکن اسے سینیٹ کے اجلاس کے دوران اس کے اپنے ہی دوست بروٹس نے ساتھی سینیٹروں کے ساتھ مل کر قتل کر دیا۔ خون میں لت پت سیزر نے جب اپنے دوست بروٹس کو خود پر وار کرتے دیکھا تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ’’بروٹس کیا تم بھی؟‘‘ حامد میر کہتے ہیں کہ بہت برسوں پہلے میں نے جولیس سیزر کے یہ الفاظ شیکسپیئر کے ڈرامے میں پڑھے تھے جنہوں نے بروٹس کو بےوفائی کی علامت بنا دیا۔ بروٹس اپنے دوست جولیس سیزر کو قتل کرنے کے بعد ایک عوامی اجتماع میں پہنچا اور اس نے اپنی بےوفائی کو حب الوطنی کے پردے میں چھپانے کیلئے کہا ’’میں سیزر سے کم محبت نہیں کرتا، لیکن میں روم سے زیادہ محبت کرتا ہوں‘‘۔ عوام نے بروٹس کی تقریر سے متاثر ہو کر مقتول حکمران سیزر کیخلاف نعرے لگانا شروع کر دیے۔ اس موقع پر سیزر کا ایک ہمدرد سینیٹر مارک انتھونی سامنے آیا۔ اس نے عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ میں سیزر کو دفن کرنے آیا ہوں، اسکی تعریف کرنے نہیں آیا، بروٹس صاحب کہتے ہیں کہ سیزر ایک جاہ طلب انسان تھا لیکن میں نے دیکھا کہ جب عوام روتے تھے تو سیزر بھی ان کے ساتھ روتا تھا، ایک جاہ طلب تو بڑا سنگدل ہوتا ہے پھر سیزر اپنے عوام کے ساتھ کیوں رویا؟ لیکن بروٹس صاحب صحیح کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک قابلِ عزت انسان ہیں۔ مارک انتھونی نے ایک بپھرے ہوئے مجمعے کو آہستہ آہستہ اپنے الفاظ کے حصار میں لیکر بروٹس کیلئے بار بار قابلِ عزت کا لفظ طنزیہ انداز میں استعمال کیا اور تھوڑی ہی دیر میں یہ عوام کی اصل بات سمجھ آ گئی اور وہ بروٹس کے خلاف نعرے لگانا شروع ہو گے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ مملکتِ روما حضرت مسیح علیہ اسلام کی پیدائش سے قبل قائم ہوئی اور ﷲ کے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی ولادت مبارک سے قبل زوال پذیر ہو گئی۔ سینیٹ کے اجلاس میں سیزر کے قتل کا واقعہ 15مارچ 44 قبل ازمسیح کا ہے۔ سیزر کے خلاف سازش کرنے والے سینیٹرز کی تعداد 60 تھی اور بروٹس سمیت دیگر سینیٹرز نے سیزر کو 23 زخم لگائے۔ لیکن اگر مارک انتھونی تھوڑی سی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جولیس سیزر کی لاش پر کھڑے ہو کر سچ نہ بولتا تو آج بروٹس ہیرو اور سیزر ولن ہوتا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 12 مارچ کو پاکستان کی سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی کے بعد جب یہ اعلان کیا گیا کہ اکثریتی اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہو گئے اور صادق سنجرانی چھ ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے تو میں سوچ رہا تھا کہ گیلانی صاحب کے اصل ووٹ تو 51 تھے ان کے ووٹ 42 کیسے رہ گئے؟ ان کا بروٹس کون ہے؟چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ختم ہوا اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا۔ اب کی دفعہ اکثریتی اتحاد کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کے ووٹ 44 اور ان کے مدمقابل مرزا آفریدی کے ووٹ 54 نکلے۔ کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا جس کا مطلب تھا کہ اپوزیشن اتحاد کے سات سینیٹرز نے مولانا حیدری کے ساتھ بےوفائی کی۔ میں ایک دفعہ پھر سوچنے لگا کہ مولانا حیدری کے بروٹس کون کون ہیں لیکن افسوس کہ سیکرٹ بیلٹ کی وجہ سے کسی بروٹس کا سراغ لگانا ممکن نہیں تھا۔ 3 مارچ کو اسی سیکرٹ بیلٹ کے جادو سے یوسف رضا گیلانی جیت گئے تھے اور اکثریتی اتحاد کے امیدوار حفیظ شیخ ہار گئے تھے۔ 3 مارچ کو یوسف رضا گیلانی کی فتح کو حق اور سچ کی فتح قرار دیا گیا اور 12مارچ کو ان کی شکست دھاندلی کا نتیجہ قرار پائی۔ اپوزیشن نے گیلانی کے سات ووٹ مسترد کرنے کا معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان سات ووٹوں میں گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی تھی، خانے کے باہر مہر نہیں لگائی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں گیلانی کو انصاف ملتا ہے یا نہیں۔
